امریکہ: والد کی لاش سالوں کرسی پر رہی، بیٹا پیسے وصول کرتا رہا

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کیلی فورنیا کے علاقے جیکسن میں وفات پانے والے شخص پر شک کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی لاش کو گھر پر ہی رکھ لیا تھا جس کی وجہ ان کے پیسوں کو استعمال کرنا تھا۔

یکم دسمبر 2021 کی اس تصویر میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پولیس قتل کی ایک واردات کے بعد جائے وقوعہ کے قریب موجود دیکھی جا سکتی ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے حکام کے مطابق ایک گھر سے کرسی پر موجود ایک بوسیدہ لاش ملی ہے، جو کئی سال سے اسی حال میں تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کیلی فورنیا کے علاقے جیکسن میں وفات پانے والے شخص پر شک کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی لاش کو گھر پر ہی رکھ لیا تھا، جس کی وجہ ان کے پیسوں کو استعمال کرنا تھا۔

کیلاویرس کاؤنٹی کے شیرف گریگ سٹارک کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ 63 سالہ رینڈیل فریر جو سیرا نیواڈاز کے پہاڑی علاقے میں ایک کاروبار کے مالک تھے، وفات پا گئے۔

شیرف کے ایک نائب ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنے کیلی فورنیا کے علاقے ویلاس میں واقع ان کے گھر گئے، جہاں انہوں نے چلتے پنکھے کی آواز سنی اور ایک مردہ شخص کو آرام دہ کرسی پر بیٹھے دیکھا۔

لیفٹیننٹ سٹارک کے مطابق جائے وقوعہ پر شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لاش کئی سالوں سے اسی جگہ موجود تھی۔

انہوں نے اخبار لاس اینجلس ٹائمز کو بتایا کہ ’یہ لاش انتہائی بوسیدہ حالت میں تھی اور اس کے ڈھانچے کے کچھ حصے باقی تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میری شعبہ قانون میں 28 سالہ ملازمت کے دوران اس قسم کی تحقیق انتہائی کم رہی ہے۔ ہم عمومی طور پر ایسے کسی فرد کو نہیں پاتے جو ایک رہائش گاہ کے اندر اتنے طویل عرصے سے مردہ حالت میں موجود ہو۔‘

کیلاویرس کاؤنٹی کے کورونر کیون راگیو نے نے گھر میں موجود اس شخص کی شناخت 91 سالہ ایڈا کلنٹن فریر کے نام سے کی ہے، جو رینڈیل فریر کے والد تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجوہات مشکوک نہیں ہیں اور انہیں توقع ہے کہ ایسا طبی وجوہات کی بنیاد پر ہوا تھا۔

تفتیش کاروں کے مطابق ایڈا فریر نے سال 2016 میں آخری بار چیک پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے اپنی موت تک ان کے اکاؤنٹ سے رقم وصول کر رہے تھے۔

راگیو کا کہنا ہے کہ ’بیٹے نے مرے ہوئے والد کی شناخت اپنا لی اور مجھے شک ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہ رہے تھے اور ان کی دولت پر زندگی گزار رہے تھے۔‘

’جب انہوں نے اپنے مرے ہوئے والد کو دیکھا تو انہوں نے لاش کو ویسے ہی کرسی پر چھوڑ دیا اور ان کے پیسے اپنے لیے استعمال کرتے رہے۔ وہ پیسے استعمال کرنے کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ان کے والد وفات پا چکے ہیں اس لیے وہ سوشل سکیورٹی اور ریٹائرمنٹ کی مد میں ملنے والی رقم استعمال کرتے رہے۔‘

’اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد سب اس کو بھلا چکے تھے۔ وہ یہاں کئی سالوں سے موجود تھے اور اگر ان کا بیٹا زندہ رہتا تو یہ لاش اب بھی اس جگہ بیٹھی ہوتی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ