حکومت کا فکسڈ سیلز ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں کے ذریعے دکانداروں پر فکسڈ سیلز ٹیکس کو متفقہ شرح سے زیادہ لاگو کرنے پر انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف جمعہ 27 مئی 2022 کو قوم سے حطاب کر رہے ہیں (تصویر: پی ٹی وی)

پاکستان میں وفاقی اتحادی حکومت نے ملک میں دکانداروں سے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اس سلسلے میں نیا لائحہ عمل طے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

دوکانداروں سے فیکسڈ سیلز ٹیکس وصول نہ کرنے کا باقاعدہ فیصلہ ہفتے کو لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے نرخوں اور بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کلیکشن پر ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اسلام آباد میں ایوان وزیراعظم سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارت خزانہ کو بجلی کے بلوں کے ذریعے دکانداروں سے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی کو فوری طور پر معطل کرنے اور مذکورہ ٹیکس کی وصولی کے لیے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کر دی۔

بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں کے ذریعے دکانداروں پر فکسڈ سیلز ٹیکس کو متفقہ شرح سے زیادہ لاگو کرنے پر انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارت خزانہ کو دکانداروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصولی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تاجروں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کی خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو فوری طور پر ملک میں غریب طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا موثر طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خصوصی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی انجینیئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، چیئرمین ایف بی آر، توانائی، خزانہ اور پیٹرولیم کی وفاقی وزارتوں کے سیکریٹریز اور دیگر اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وفاقی حکومت نے اس سال جون میں وفاقی بجٹ میں ریوینو بڑھانے کی غرض سے ملک بھر میں دکانداروں سے بجلی کے بلوں کے مطابق سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومتی فارمولے کے مطابق ماہانہ 30 ہزار تک کا بجلی کا بل ادا کرنے والے دکانداروں کو فکسڈ سیلز ٹیکس کی مد میں تین ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ 30 اور 50 ہزار روپے کے درمیان ماہانہ بجلی کے بل پانچ ہزار روپے اور 50 ہزار سے زیادہ کے بجلی کے بل پر 10 ہزار روپے سیلز ٹیکس لاگو ہونا تھا۔

وفاقی حکومت نے دکانداروں پر بجلی کے بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کی مد میں 30 ارب روپے اکٹھے کرنے تھے۔

بجلی کے بلوں پر فکسڈ سیلز ٹیکس کی تاجر تنظیموں نے پورے ملک میں مخالفت کرتے ہوئے ہڑتالوں اور شٹر ڈاون کی دھمکیاں دیں تھیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وفاقی حکومت کو دکانداروں پر بجلی کے بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے باعث ماہ رواں کے آغاز میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس ٹیکس کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں انہوں نے دکانداروں پر بجلی کے بلوں میں فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی کو غلط فیصلہ قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ سیلز ٹیکس جمع کرنے کا پرانا طریقہ برقرار رہے گا تاہم حکومت تین ماہ بعد تاجروں کے نمائندوں سے گفتگو کے بعد کوئی نیا طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت