میری ڈولی شوہ دریا

دریا تو اپنا رخ بدل کر آس پاس کے علاقے میں نئی گزر گاہ بھی بنا لیتے ہیں اور کبھی کبھی بھٹک کر صحرا میں بھی جا نکلتے ہیں لیکن اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر بھٹک جائے تو کہاں جاتا ہے؟

سکھر میں سیلاب زدہ لوگ دو ستمبر 2022 کو پناہ کی تلاش میں (فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:


سیلاب کے چڑھتے اور اترتے ہوئے پانی دونوں کا اپنا اپنا مزاج اور ماحول ہوتا ہے۔ منہ زور سیلاب جب اپنے جوبن پر دریاؤں کے کناروں کو کاٹتا ہوا اور مصنوعی بند توڑتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو اپنے ساتھ بڑے سے بڑے پتھروں اور بھاری سے بھاری کنکریٹ کو بھی جس طاقت سے بہا لے جاتا ہے وہاں انسانی جسموں اور خس و خاشاک کی کیا اوقات!

اس سیلِ آب سے بستیوں کی بستیاں زیرِ آب آ جاتی ہیں۔ بقولِ احمد ندیم قاسمی ؎

یہ سیلِ آب نہ تھا، زلزلہ تھا پانی کا
بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ہوئے

پاکستان کے علاقوں میں ویسے تو سیلاب کوئی نئی آفت نہیں لیکن اس سال اس کی دو وجوہات نہایت اہم ہیں۔ ایک تو گلوبل وارمنگ کی بدولت موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑوں سے معمول سے زیادہ پگھلتی برف اور دوسرا مون سون کے قدیم موسمی نظام کے سبب برستے بادلوں میں سالانہ اوسط سے بہت بلکہ بہت زیادہ بارشیں۔

سیلاب اور زلزلوں جیسی قدرتی آفات پہ قابو پانا آسان نہیں لیکن دنیا کے ذہین انسانوں نے پانی کی طاقت سے فائدہ اٹھانے اور نقصانات کم سے کم کرنے کے طریقے اپنا رکھے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں پہاڑی علاقوں کے دریاؤں کے کنارے سیاحتی مقامات اور شہروں میں ندی نالوں کی قدرتی گزرگاہوں پہ قبضہ کرنے کے کاروباری رحجان نے ان قدرتی آفتوں کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ بتدریج خشک ہوتے دریاؤں اور سیلاب کے راستوں میں نتائج کی پرواہ کیے بغیر بستیاں بسانے کی اجازت دینے یا دانستہ چشم پوشی کرنے کے بھیانک اثرات سب کے سامنے تیر رہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ میں اگرچہ پاکستان کا حصہ باقی دنیا کے مقابلے میں دس فیصد بھی نہیں لیکن نقصان اٹھانے میں 90 فیصد کے معتوب ٹھہرے ہیں۔ بادل برسنے کی کہانی البتہ الگ ہے۔ مون سون سے وابستہ بادلوں اور ہواؤں کے سلسلے کو جون کے آغاز سے سری لنکا اور انڈیا سے نکل کر کوہ ہمالیہ سے ٹکراتے ہوئے پاکستانی علاقوں تک پہنچنے میں 15 جولائی تک کا وقت ہو جاتا ہے، جو یہاں ساون کے مہینے کا آغاز بھی ہے۔

اس بار لیکن یہ آغاز بھی قبل از وقت اور کئی گنا منہ زور رہا، جس پہ انسانی اختیار نہیں۔ جن کاموں پر البتہ ہمارا اختیار تھا یا ہے ان کی کہانی جدا ہے۔ ہم نے کبھی ایسی باتوں پہ وقت سے پہلے دھیان ہی نہیں دیا کہ ؎

اونچے دریاؤں میں سیلاب بھی ہو سکتے ہیں  
اور سیلاب میں گرداب بھی ہو سکتے ہیں

یونہی چڑھتی رہیں جو بحِر رواں کی موجیں
شہر کے شہر تہہِ آب بھی ہو سکتے ہیں

سیلِ آب یا عرفِ عام میں سیلاب کی معلوم تاریخ ہماری دھرتی پہ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ہماری قدیم تہذیب کی باقیات۔ آسانی کے لیے اسے موہن جو دڑو سے بھی شروع کیا جا سکتا ہے جس کی فنا کی پر اسرار داستان کو کبھی سرسوتی کی چڑھتی موجوں سے تو کبھی پایابی کی راہ سے ہوتے ہوئے خشک سالی سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کے ’بہاؤ‘ کا آغاز مقدس صحیفے کے حوالے سے ہوتا ہے۔

سرسوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے
اور ساتویں ندی ہے
اس کے پانی آتے ہیں
شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے

ایک خبر کہیں پڑھی ہے کہ حالیہ طغیانیوں کے بعد کہیں کہیں دریائے سوات اپنا رستہ بدل رہا ہے۔ دریاؤں کا بھی اپنا مزاج ہوتا ہے۔ غضب ناک حالتوں میں یا موسمی تبدیلیوں سے ہم آہنگی نبھاتے ہوئے یہ اپنا راستہ بھی بدل لیتے ہیں۔

ہماری دھرتی کی کہانیاں۔ کبھی لکھی ہوئی اور کبھی سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی، ہمیں بتاتی رہی ہیں کہ دریا بھی رستہ بھول جاتے ہیں اور بھٹک کر صحرا میں بھی جا نکلتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج سیٹلائٹ کی تصویروں سے حقیقتاً ایک دریا کے صحرا میں مر جانے کے نشان ملتے ہیں اور شاید یہ وہی دریا ہے جس کا ذکر روایتوں میں ملتا ہے۔

یہی دریا، بہتے منہ زور پانیوں سے چڑھے ہوئے دریا جب پایابی کے راستے سے خشک ہونا شروع ہوتے ہیں تو تہذیبوں کو ملیا میٹ بھی کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جب چڑھے ہوئے سیلاب کا پانی اترتا ہے تو اپنے پیچھے ان گنت نشانیاں چھوڑ جاتا ہے اور پھر شروع ہوتا ہے زندہ بچ جانے والے بغیر چھت کے، مدد کے انتظار میں بیٹھے انسانوں کے لیے نیا سے نیا امتحان۔ بھوک، پیاس، برہنگی، بے سرو سامانی، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، خارش۔

عورتوں کے مسائل کچھ وہی کچھ جدا اور کہیں زیادہ تکلیف دہ ! بے زبان جانوروں کا تو ذکر ہی کیا کہ ان کی تکالیف کا تو ہمیں ادراک ہی نہیں۔

اب بات آتی ہے امداد کی تو صاحب، یہ کمرشل دنیا بھی خوب ہے۔ مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا تناسب قیمت طے کرتا ہے اور اگر خیموں کی طلب زیادہ ہے تو قیمت تو بڑھے گی نا میرے پیارے خریدارو!

آج ٹینٹ مہنگے ہو کر تین چار گنا قیمت پہ بک رہے ہیں تو تعجب کیسا؟ یہ اور بات کہ خیموں کی ملکی پیداوار طلب کے معاملے میں آٹے میں نمک برابر بھی نہیں تو اب سب کی نظریں باہر سے آنے والی امداد پر لگی ہیں۔

آٹھ اکتوبر 2005 کا زلزلہ یاد آگیا جس نے کشمیر میں باغ کے مقام سے لے کر اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز تک سب کو زمیں بوس کرنے میں تفریق سے کام نہیں لیا تھا۔ اسی زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی سامان ملک کے ہر کونے سے روانہ ہو رہے تھے اور مخیر حضرات اپنی اپنی جانب سے ڈونیشن کا اعلان بھی کر رہے تھے۔ اب جبکہ پیسہ آ رہا تھا اور لوگ دل کھول کر چندہ دے رہے تھے تو بازار میں ان اشیا کی قیمت کیوں نہ بڑھے جن کی طلب ہے؟

ان میں کھانا پانی، دوائیں، ضرورت کے چند برتن، کپڑے اور خیمے سرِ فہرست تھے۔ قیمت بڑھی اور بڑھتی رہی۔ خیر اس پہ تو پھر بھی بات توبہ استغفار سے آگے نہ گئی لیکن پھر ایک وقت آیا جب ہر چینل پر یہ اعلان نشر ہونے لگا کہ امدادی سامان کے مزید ٹرک بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ زلزلے والی جگہوں سے اب زخمی نہیں صرف لاشیں نکل رہی ہیں اور لاشوں کو سوائے کفن کے اور کیا چاہیے؟

تو خواتین و حضرات ! اب آپ مدد کے نام پہ صرف کفن بھجوائیں۔ اگر یہ سن کر اور سوچ کر ہمارے رونگٹے کھڑے نہیں ہو جاتے کہ بازار میں کفن کے لٹھے کی قیمت رات و رات تین چار گنا بڑھ گئی تو پھر ہمیں اپنے احساس کی لاش بھی تلاش کرنی چاہیے، جو آج بھی کہیں گدلے پانی میں تیر رہی ہو گی۔

فیض احمد فیض نے 1974 کے سیلاب کا نوحہ ایک غریب بیٹی کی زبانی لکھا تھا، جس کی شادی ہونے والی تھی لیکن جہیز کا سامان اور ڈولی کو بپھرا ہوا سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا۔

نال رہڑدِیاں رڑھ گئِیاں سَدّھراں
نال رَوندیاں رل گئے نِیر
میری چنّی بک سواہ دی
میرا چولا لِیر و لِیر
میرے لَتّھے سارے چا
میری ڈولی شوہ دریا

ترجمہ: میری تمام خواہشیں بہہ گئیں اور رو رو کر آنسو بھی ساتھ گئے۔ میرا ڈوپٹہ مٹھی بھر خاک میں اور لباس چیتھڑوں میں بدل چکا۔ میرے تمام شوق ختم ہو گئے، میری ڈولی دریا کے سیلاب میں بہہ گئی۔

کراچی کی ندیوں کے راستے میں بننے والی تجاوزات ہوں یا سوات کنارے کھڑے سیاحتی ہوٹل سب کا انجام تباہی ہے۔ ندّی، نالوں، نہروں اور دریاؤں کے اپنے راستے ہوتے ہیں۔ اے میرے پیارے عمارت سازی کے شوقین کاروباری لوگو! ان کی راہیں نہ روکو، جو نیا راستہ بنانا بھی جانتے ہیں اور اپنا علاقہ واپس لینا بھی۔

تاریخ کے بقول، دریا تو اپنا رخ بدل کر آس پاس کے علاقے میں نئی گزر گاہ بھی بنا لیتے ہیں اور کبھی کبھی بھٹک کر صحرا میں بھی جا نکلتے ہیں لیکن اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر بھٹک جائے تو کہاں جاتا ہے؟

آئندہ کہیں بھی جائے لیکن ندیوں اور دریاؤں کی قدرتی گزر گاہوں سے بچ کے چلے تو شاید کسی دلہن کی ڈولی بپھرے دریا کی نذر نہ ہو اور پھر شاید دنیا بھر سے امداد نہ مانگنی پڑے، جن میں وہ بنگلہ دیش بھی شامل ہے جس کے عوام کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن جس کا ٹکہ آج پاکستانی روپے سے زیادہ مضبوط ہے اور جس نے سیلابی تباہ کاریاں ہم سے بہت زیادہ دیکھی اور سہی ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ