سیلاب: ڈیرہ مراد جمالی میں امداد کی آس اور مایوسی کی کہانی

سینیئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر دیدار حسین نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے الرجی کی شکایت ہے۔ ڈائریا اور ہیضے کےعلاوہ بخار ملیریا کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔

راستے بند ہونے کی وجہ سے بہت سے متاثرین ٹیلوں اور اونچی جگہوں پر بے سروسامانی کی حالت میں امداد اور راشن کے لیے ہیلی کاپڑ کو دیکھ کر بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے کچھ کے ہاتھ میں سامان لگ جاتا ہے۔ باقی کمزور ہاتھ پھیلا کر مایوسی کے عالم میں کھڑے ہوتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں بھی مسلسل بارشوں اور پھر سیلاب نے پورے ضلع کو متاثر کردیا ہے۔ جہاں پرہرطرف پانی ہی پانی موجودہے۔

سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ضلع نصیر آباد کے ضلع ہیڈ کوارٹر ڈیرہ مراد جمالی میں ایک سرکاری عمارت میں کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر کچھ لوگوں کو ٹینٹ لگا کر رہنے کی سہولت دی گئی ہے۔

عمارت کے بعض کمروں میں بھی سیلاب متاثرہ افراد رہائش پذیر ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ان کو علاج معالجے اور پینے کا پانی اور کھانے کی سہولت بھی دی جارہی ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی سہولت دی گئی تھی جس کے تحت ہم نے اس کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں پر چند لوگوں سے بات کی۔

سیلاب سے متاثر ہونے والی ایک خاتون راحما بی بی نے بتایا جو ضلع نصیر آباد کی تحصیل تمبوسے تعلق رکھتی ہیں کہ ’ہمارے علاقے میں پانی رات کو دو تین بجے کے  وقت آیا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راحما بی بی کے مطابق: ’جب پانی کم آ رہا تھا تو ہم نے اپنے بچوں کو وہاں سے نکال لیا۔ جیسے ہی ہم وہاں سے نکلے تو پانی زیادہ مقدار میں آگیا جس سے ہمارے گھر کے جانور اور سب کچھ ڈوب گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب پانی نے ہمارے گھر اور علاقے کو ڈبو دیا تو ہم وہاں سے نکل کر پانچ دن سڑک پر پڑے رہے۔ پھر کسی نے بتایا کہ دار الامان چلے جاؤ وہاں سہولت مل رہی ہے۔‘

راحما نے بتایا کہ ’جب ہم یہاں آئے تو پہلے کوئی اندر آنے نہیں دے رہا تھا۔ زبردستی اندر آئے ہیں بچوں کے ساتھ کہاں جائیں۔ اس وقت ہمیں اپنے علاقے سے نکلے ہوئے 12 دن ہوگئے ہیں۔‘

کیمپ میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ راحما نے بتایا کہ وہاں پر حاملہ خواتین بھی ہیں جو کئی مہینوں کی حاملہ ہیں۔ ان کو کوئی سہولت نہیں ہے۔ اس کے  علاوہ انہیں بیت الخلا کے حوالے سے بھی مشکلات درپیش ہیں۔

ادھر اس کیمپ میں موجود میڈیکل کیمپ کے سینیئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر دیدار حسین نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کو آلودہ پانی پینے کی وجہ سے الرجی کی شکایت ہے۔ ڈائریا اور ہیضے کےعلاوہ بخار ملیریا کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔

ڈاکٹر دیدار کہتے ہیں کہ ’اگر کسی کو بخارہوتا ہے تو ہم چیک کرتے ہیں کہ ملیریا کی شکایت تو نہیں جس پر ان کاٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ مثبت آنے پر اس کو ادویات دیتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی سیریس مریض آتا ہے۔ تو ہم اس کو یہاں پر کچھ دن زیر نگرانی رکھتے ہیں۔ اگر اس کی حالت بہتر نہ ہو توپھر ہم اس کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی بھیج دیتے ہیں۔ جہاں پر علاج کے حوالے سے سہولت میسر ہے۔‘

دیدارحسین نے بتایا کہ ’اگر کوئی ڈیلیوری کا کیس آجائے تو اس کو بھی ہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھیج دیں گے جہاں لیبر روم اور دوسری سہولیات میسر ہیں۔‘

کیمپ  کے اس میڈیکل کیمپ میں صرف ایک بیڈ رکھا ہوا تھا۔ تاہم ادویات موجود تھیں۔ جن میں سانپ کےکاٹنے اور دیگر امراض جیسے الرجی وغیرہ کے علاج کے لیے ادویات رکھی تھیں۔

سیلاب کے متاثرین کے میڈیکل کیمپ میں کوئی خاتون ڈاکٹر موجود نہیں تھیں۔ تاہم ڈاکٹر دیدار نے بتایا کہ کسی بھی مریض کو ابتدائی طبی امداد دینے کے لیے یہاں پرسہولت مہیا کردی گئی ہے۔

اس سفر کے دوران ہیلی کاپٹر نے سیلاب میں پھنسے دو افراد کو بھی پانی سے نکال کر کیمپ پہنچایا۔ سیلاب میں پھنسے شخص عرفان علی نے بتایا کہ وہ تحصیل تمبو کے علاقے مظفر آباد کے رہنے والے ہیں۔

سرکاری حکام نے ہمیں بتایا کہ اس سیلاب سے ضلع نصیر آباد کا 90 فیصد علاقہ ڈوب چکا ہے۔ اس بار جو پانی آیا وہ تاریخ میں پہلے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 500 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان