نیو تانترا: صرف جنسی یا روحانی تجربہ بھی؟

تانترا پہلے صرف انتہائی مقبول بڑے راک گلوکاروں اور ان کے جنسی تعلقات سے جڑا ہوتا تھا۔ اب یہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ذات کی بہتری سے لے کر جسمانی عیب کے مسئلے سے نمٹنے تک، اسے ہر نفسیاتی علاج کا متبادل سمجھا جا رہا ہے۔

جان ڈے کی معمول کی ایک روزہ ورکشاپ میں 60 سے زائد لوگ آتے ہیں جنہیں سیکس، روحانیت، محبت، رابطے اور مسائل سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کی تلاش ہوتی ہے۔(سوشل میڈیا)

ہر منگل کی صبح ایسا نہیں ہوتا کہ آسمان پر بادل چھائے ہوں اور لُنگی باندھے کوئی اپنے آپ کو کشن پر بیٹھا کسی اجنبی کو چھوتا ہوا پائے۔ یا پھر اٹھے اور بے لباس ہو کر رقص شروع کردے جبکہ اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو۔ پھر اس کے بعد یوں ہو کہ آنکھوں پر بندھی پٹی ہٹ جائے اوروہ 40 سے 50 لوگوں کے درمیان بے لباس ہو کر رقص جاری رکھے۔

یہ تقریب ’لونگ تانترا ون‘ یا ایل ٹی ون کی تھی۔ یہ ایک ورکشاپ ہے جس کا اہتمام جان ڈے لکڑی سے بنے ایک بڑے کمرے میں کرتی ہیں جو جنوب مغربی برطانیہ کی سمرسٹ کاؤنٹی کے ایک پرسکون گاؤں میں واقع ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں ڈریگن کا مجسمہ بھی نصب ہے۔

دراز قد اور پتلے جسم کی مالک جان ڈے اس تانترا ورکشاپ والوں کی سرپرست اعلیٰ ہیں۔ وہ اس روحانی مشق کو مقبول بنانے میں مدد کر رہی ہیں۔ تانترا، یوگا یا اپنے خیالات، جذبات اور تجربات سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہنے کی دماغی مشق سے ملتا جلتا ہے۔

تانترا کبھی 1970 کی دہائی میں مغربی ملکوں میں رواج پانے والے روحانی اور مذہبی عقائد پر مشتمل ایک محدود عمل سمجھا جاتا تھا۔ یہ پہلے صرف انتہائی مقبول ہونے والے بڑے راک گلوکاروں اور ان کے جنسی تعلقات سے جڑا ہوتا تھا۔ اب یہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ذات کی بہتری سے لے کر جسمانی عیب کے مسائل سے نمٹنے تک، اسے ہر نفسیاتی علاج کا متبادل سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اسے کاروبار کو ترقی دینے کا طریقہ بھی خیال کیا جانے لگا ہے۔

جان ڈے کی معمول کی ایک روزہ ورکشاپ میں 60 سے زائد لوگ آتے ہیں جنہیں سیکس، روحانیت، محبت، رابطے اور مسائل سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کی تلاش ہوتی ہے۔

’ایل ٹی ون‘ ورکشاپ میں شرکت کے دوران میں برطانیہ کے دیہی علاقے کے زرخیز باغ میں بیٹھا تھا۔ میں تانترا ورکشاپ میں شریک 50 افراد سے ملا تھا۔ یہ ملے جلے لوگ تھے جن میں مختلف مسائل پرمشورہ دینے اور مساج کے ذریعے علاج کرنے والے شامل تھے۔ ان سب کو اپنی مہارت پر بھروسہ تھا۔ یہاں ماہرین تعمیرات، ماہر باورچی اور فلم ایڈیٹر بھی تھے جن کی عمریں 20 سے 70 برس کے درمیان تھیں۔ یہ لوگ دور دراز کے سفر کرکے یہاں پہنچے تھے۔

ان میں سے کئی لوگ جان ڈے کی تنظیم کے پہلے سے رکن تھے اور ایک خاص طرح کی زبان استعمال کرتے تھے۔ ’میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں‘، ’میں آپ کی عزت کرتا ہوں‘، ’میرا یقین کریں‘ اور’تصدیق‘ کے مخصوص الفاط استعمال کرتے تھے۔

ان میں سے بعض اس مخصوص زبان کے ماہر تھے اور بڑے علمی انداز میں گفتگو کرتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک تحریر میں مشورہ دیا کیا گیا تھا کہ جنسی عمل کی صورت میں کنڈوم استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ یہاں کنڈوم دستیاب تھے۔

یہاں آنے والے کئی لوگوں کو روکا بھی گیا تھا۔ ظاہر ہے روحانیت کے پردے میں جنسی عمل یا فریقین کے تبادلے کی کوئی پارٹی تو نہیں ہونے جا رہی تھی اور بعد میں ثابت بھی ہوا کہ واقعی ایسا نہیں تھا۔ ہم نے وجد آور موسیقی پر کچھ دیر رقص کیا اور لونگ تانترا زون ون میں جانا شروع کردیا، جس کے بعد بھاپ سے غسل کے حمام میں (جہاں کپڑے پہننا اختیاری تھا) اپنے جسموں کو گرمی پہنچائی۔

اگلے دن صبح 5 بجے پرندوں کے چہچہانے سے میری آنکھ کھلی۔ یہ مناسب بھی لگا تھا کہ لونگ تانترا زون ون میں زندگی سے بھرپور آواز سنتے ہوئے جاگا جائے۔ وہاں کے معمول کے مطابق دلیے اور کدو کے بیجوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد میں دوسرے لوگوں کے ساتھ جسمانی مراقبے کے لیے ڈریگن ہال میں چلا گیا۔

یہ مراقبہ ماضی کی شاندار روایتوں کی یاد دلاتا تھا۔ وہاں ہم وہ سب کچھ کر رہے تھے جو چار صدیاں پہلے پروٹسٹنٹ فرقے کے لوگ یہاں کے باڑوں میں کرتے تھے۔ وہ لوگ اپنے آپ کو مخصوص مسیحی گروپوں ’ہلتے رہنے والے‘ اور ’کانپنے والے‘ کا رکن کہتے تھے جنہیں خدا کا قرب حاصل تھا۔

کھانے سے پہلے بھوک بڑھانے کے لیے یہ ضروری تھا، جیسا کہ بعد میں ثابت بھی ہوا۔ لونگ تانترا زون ون میں مختلف عمل کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل تین یا چار کی ٹولیوں میں کیے جاتے ہیں اور ان میں ہر قسم کا ’سامان‘ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ایک عمل میں گروپ کے شرکا ساتھیوں کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں، جس کے دوران یہ دیکھا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کون پلک جھپکتا ہے۔ دوسرے عمل میں ہم نے اُن لوگوں کو ہاتھ لگایا جنہیں اچھا لگا اور انہوں نے اس کی اجازت دی۔ جنہیں اچھا نہیں لگا انہوں نے چھونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

کیا یہ سب سیدھا سادا لگتا ہے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔ لونگ تانترا زون ون کے مراحل مشکل ہوتے ہیں جن سے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ آپ کو مسترد کر دیا جاتا ہے یا آپ کسی مرحلے سے روتے ہوئے الگ ہو جاتے ہیں۔ کسی کی گھورتی ہوئی آنکھیں برداشت کرنا مشکل کام ہے۔ جان ڈے کے مطابق تکلیف کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم عام طور پر آرام پسند ہوتے ہیں، کیونکہ جس بات کی ہمیں عادت نہیں ہوتی وہ ہمیں غیرمحفوظ لگتی ہے۔ اس لیے سیکھنے کے لیے ہمیں اپنے دماغ کی سرحدوں کو وسعت دینی ہوگی۔ یہاں اکٹھے ہونے کا ہمارا یہی مقصد ہے لیکن ہمیں ایک حد کے اندر رہنا ہے۔

تانترا اس قدر مقبول ہو چکا ہے کہ لوگ اسے تحریک کہنے لگے ہیں۔ اسے بعض اوقات نیا تانترا بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل اس نام کا ایک گروپ ہے جو یورپ بھر اور امریکہ میں تقریبات کا اہتمام کرتا ہے۔ ’ٹی این ٹی‘ کے نام سے بنے اس گروپ کی ’دھماکہ خیز‘ ورکشاپس میں ممنوعہ افعال اور جنسیت پر زور دیا جاتا ہے، اس لیے یہ ورکشاپس غیرمعمولی نوعیت کی محسوس ہوتی ہیں تاہم یہاں کیے جانے والے افعال کا انحصار آپ کی برداشت پر ہے۔

ان ورکشاپس میں ’ہیجانی مراقبہ‘ بھی شامل ہے۔ ایسی ورکشاپس جنسیت پر زور دینے والی امریکی فلاحی تعلیمی کمپنی ’ون ٹیسٹ‘ نے شروع کیں۔ ’ٹی این ٹی‘ اور ہیجانی مراقبہ دونوں خاصے بدنام ہوئے ہیں لیکن کسی نے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا کیوں کہ تانترا اور ’خلوت میں تربیت‘ نے فلاح عامہ کے دائرے کو نئی وسعت دی ہے۔

جان ڈے خود کہتی ہیں کہ تانترا اعصاب کے لیے مشکل عمل ہو سکتا ہے۔ جان ڈے کے مطابق ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو تانترا کے نام پر قابلِ اعتراض عمل کرتی ہیں۔ اس حقیقت سے انہیں خوف آتا ہے۔ یہ استحصال کا ایک منظم طریقہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گروپ لیڈر کی شخصیت کے زیرِ اثر لوگ ان حرکات کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان سے جنسی عمل بھی کرسکتے ہیں۔ یہ بڑی جوش دلانے والی بات ہے لیکن اس کی لت پڑ جاتی ہے۔ یہ تحت الشعور تک سرایت کر جاتی ہے۔ انہوں نے اتفاق کیا ہے کہ بعض لوگ کہہ سکتے ہیں جان ڈے کا کام بے ہودہ یا ٹھیک نہیں ہے۔

سمرسٹ کے تانترا زون ون میں پہنچ کر مجھے یقین ہو گیا کہ جان ڈے کا انداز الگ ہے۔ ان کے پاس عملے اور طلبہ کی شرح زیادہ ہے جبکہ کئی معاونین بھی ہیں۔ جان ڈے کہتی ہیں کہ ہمارے حفاظتی انتظامات بہت اچھے ہیں۔ جان ڈے نے ’ٹی‘ کا حرف استعمال نہ کرنے کا بھی سوچا ہے۔ (’ٹی‘ خواجہ سرا یا بڑی عمر کی خاتون کی طرف توہین آمیز اشارہ) لیکن انہوں نے یہ حرف استعمال کیا کیونکہ اس سے لوگ میں خوف کے ساتھ دلچسپی بھی پیدا ہوتی ہے۔

جان ڈے کے مطابق ہم پانی سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ پانی میں رہنے سے خطرات کا سامنا تو ہوتا ہے لیکن ایک حد بھی ہوتی ہے۔ لونگ تانترا ون میں ایک ہفتے کی سرگرمیاں آگے بڑھنے کی صورت میں آپ غلطیاں کرتے ہیں اور اس کے بعد حدیں قائم کرلیتے ہیں جو اس وقت آپ کی دنیا کا حصہ بن جاتی ہیں جب اصولی طور پر آپ ’ہاں‘، ’نہ‘ اور حقیقت میں ’الوداع‘ کہنے کے زیادہ قابل ہوتے ہیں۔

’ایل ٹی ون‘ کے دن گزر گئے اور بعض اوقات میرے اندر کی سخت گیر خاتون کو جان ڈے کو خیرباد کہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ مثال کے طور وہاں ماں اور باپ کی ایک مشق تھی۔ تکیوں کو ماں اور باپ قرار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر مجھے اندر سے کراہت محسوس ہوئی۔ مجھے ایسا لگا کہ ابھی دستاویزی فلمیں بنانے والی برطانوی نژاد امریکی پروڈیوسر اپنا طاقتور مائیکروفون تھامے دروازے سے اندر آجائیں گے۔

’ ایل ٹی ون‘ کے بارے میں کسی  نے میرے شک کی رکاوٹ عبور کرلی تھی۔ شاید وہ ڈے جان خود تھیں۔ بعض اوقات سخت اورمستعد، بعض اوقات ماں کی طرح شفیق۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایل ٹی ون کسی بھی طرح تمہیں پرکشش بنا دے گا، جس کے نتائج ’خوش ذائقہ‘ ہوں گے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ ہم اپنی حد کے اندر رہیں۔ اس سلسلے میں وہ خود اور ان کے ساتھی فرائیڈر شامل ہیں جو جذباتی وابستگی کی ایک سے دوسری شخصیت کو منتقلی کے عمل سے گزررہے ہیں۔ جان ڈے کے مطابق کئی لوگ  انہیں ماں باپ کی طرح سمجھتے ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے اس صورت حال سے لطف اندوز ہونے یا اپنے آپ کو کوئی بڑی شخصیت سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کون سی بات لوگوں کو ’ایل ٹی ون‘ جیسی تانترا ورکشاپس میں شرکت کی ترغیب دیتی ہے؟

ورکشاپ میں آنے والے بعض افراد کو کسی جسمانی عیب یا ماضی کے کسی صدمے کے مسئلے کا سامنا تھا۔ شانتی پین لوپ لارنس جو کبھی مترجم ہوا کرتی تھیں، اب مساج کے ذریعے علاج میں مہارت کی تربیت لے رہی ہیں۔ ان کے لیے کبھی نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ بے چینی اور لوگوں کے ہجوم کے خوف سے ان کا برا حال تھا۔

شانتی پین لوپ لارنس کے مطابق بدسلوکی اور نظر انداز کیے جانے کے نتیجے میں جذباتی صدمے کے اثرات انسانی جسم کی بافتوں، خلیوں اور اعصاب میں سرایت کر جاتے ہیں، لیکن ایل ٹی ون میں انہیں اپنے اوپر توجہ اور اپنی ذات کے حوالے سے ایک طرح کی تجدید کا احساس ہوا۔

ورکشاپ میں شریک اور سوآلزورتھ کو ایک ایسے شخص نے زیادتی کا نشانہ بنایا، جس پر انہیں اعتماد تھا۔ نتیجے کے طور پر انہیں اپنے جسم سے نفرت ہوگئی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ سیکس، منشیات اور شراب کی لت میں مبتلا ہوگئیں۔ ’میں ایسی ہوگئی جیسے کوئی غیرسنجیدہ امریکی ٹیلی ویژن پروگرام ’جیری سپرنگر شو‘ میں موجود کوئی شے ہو۔‘

لوگ سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن یہ سوچ حقیقت میں کسی کے قریب ہونے کے حوالے سے ہوتی ہے۔

جان ڈے کی رائے میں ایل ٹی ون کسی بھی ایسے انسان کے لیے اچھا ہے جو اپنے جسم کے ساتھ دوبارہ جڑنا اور دوسرے فریق کو ہاں یا نا کہنا سیکھنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ سوچ کی مکمل تبدیلی کی طرح ہے۔ ان کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کو شدید مایوسی اور خود کو نقصان پہنچانے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باجود بہت سے لوگوں نے وہ کچھ دریافت نہیں کیا جو انہوں نے کیا۔ سسکیاں، غصہ، محبت کا اظہار، سب کچھ ایل ٹی ون میں موجود ہے لیکن صرف دل کی بھڑاس نکالنے کی حد تک نہیں کہ جیسے کوئی چیخیں مار کر کرتا ہے۔ جان ڈے کے مطابق بھڑاس نکالنے کے عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جب آپ غصہ ہونے کی مشق کرتے ہیں تو آپ کو مزید غصہ آتا ہے۔ یہ محض زخمی ہونے کی طرح نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے یہاں آتے ہیں کہ وہ آگے بڑھنا اور زیادہ توانائی چاہتے ہیں۔

جان ڈے کے مطابق جہاں تک تانترا کا تعلق ہے، اس کا تعلق سیکس سے ہے لیکن اس لفظ کے وسیع تر معنی میں۔ ہماری ثقافت کے تناظر میں ہم نے سیکس کو نفرت انگیز بنا دیا ہے۔ ہم سیکس اور دل کو آپس میں جوڑتے ہیں، لیکن ایل ٹی ون میں جب لوگوں کے جسموں میں گرمی آتی ہے تو یہ سیکس کی طرح لگتا ہے، حقیقت میں کبھی کبھارہی ایسا ہوتا ہے۔

جان ڈے  کہتی ہیں کہ یہاں نظر آنے والے کنڈوم بیمہ پالیسی ہیں لیکن اس معاملے میں دیانتداری کی ضرورت بھی ہے۔ سچ کی دنیا میں جان ڈے کی حیثیت نمایاں ہے۔

جنسیت کا انکار کیوں کیا جائے؟

جان ڈے کے مطابق جب وہ جوان تھیں تو ایک شخص نے ان کے جنسی سفر کو مکمل طور ناخوش گوار بنا دیا۔ ’میں سیکس سے خوف زدہ ہو گئی تھی۔ میری شادی 3 سال تک چلی اور اس کے خاتمے تک میں کنواری تھی۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ’ڈی فل‘ کرنے والی جان ڈے اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت کی مالک تو بن گئیں لیکن ان کی غیرمطمئن ذاتی زندگی نے انہیں بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو گرو ’اوشو‘ تک پہنچا دیا۔ گرو کو کبھی بھگوان شری رجنیش کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اگرچہ ’نیٹ فلکس‘ کی فلم ’وائلڈ وائلڈ کنٹری‘ میں گرو رجنیش کو شہرت کے اعتبار سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اوشو نے تانترا کو نئی جہت بخشی ہے۔ جان ڈے کے مطابق اوشو بہت بڑے تانترک تھے جو اس نظریئے کو سامنے لانا چاہتے تھے کہ آپ سیکس یا روحانیت میں سے کسی ایک یا دونوں کے مالک ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنی جنسیت سے تعلق قائم کیے بغیر اپنے جسم سے تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ مذہب نے جنسیت کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تانترا اسے واپس مٹھاس، تقدس اور مسرت کی دنیا میں واپس لے آیا ہے۔ جیسا کہ مِس سوآلزورتھ نے کہا ہے کہ لوگوں کے خیال میں تانترا کا تعلق سیکس سے ہے لیکن حقیقت میں اس کا تعلق قربت سے ہے۔

تانترا کے معاملے میں کمزوری یا شرم اپنی جگہ لیکن ٹیڈ ٹاکر اور برین براؤن جیسے ترغیب دینے والے مقررین تانترا کی دنیا میں بڑا نام ہیں۔

جان ڈی کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ’شکاری‘ ذہنیت کے مالک مرد جنسی تسکین کے لیے ایل ٹی ون میں آتے ہوں لیکن میں ایسے لوگوں کو نکال باہر نہیں کرتی۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ یہاں کیوں آتے ہیں۔ ان لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جان ڈے کہتی ہیں کہ تانترا میں شریک ایک مرد کو اعتماد نہ کیے جانے کے حوالے سے بہت سی ایسی معلومات ملی ہیں جنہوں نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک مشکل علاج ہے لیکن اس نے اس کے خواتین اور خود اپنے ساتھ تعلق کو تبدیل کر کے رکھ دیا، جیسے کوئی ’ریسیٹ‘ کا بٹن دبا دے۔ اس طرح کی اور بھی وجوہات ہیں، ایل ٹی ون میں ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا اہمیت کا حامل ہوتا ہے جن کا انتخاب ہو سکتا ہے ہمیشہ آپ نہ کریں۔

ایل ٹی ون کے مختلف ذرائع ہیں۔ جان ڈے ’وجود برقرار رکھنے کے فن‘ کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ فن جرمنی نژاد امریکی سماجی ماہر نفسیات ایرک فروم نے متعارف کرایا جسے ایلا لووین، جیک کورن فیلڈ، ڈیوڈ ڈیڈا، رون کرٹز، گینپو روشی اور این جیراگھٹی جیسے ذات کو بہتر بنانے کے میدان میں قیادت کرنے والوں نے اپنایا۔ ’بنیادی دیانتداری اور خود انحصاری‘ کی تحریکوں کی مختلف سمتیں ہیں۔ دیانتداری اور خود انحصاری کے الفاظ امریکی صحرائے نوادا میں لگنے والے سالانہ میلے ’برننگ مین‘ کی طرف اشارہ ہیں۔ صرف تانترا ہی بعض اوقات قدیم اصولوں کی طرف لوٹتا ہے لیکن جان ڈے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتیں جس کا صدیوں پہلے رواج تھا۔ ان کا تانترا موجودہ وقت کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

ایل ٹی ون کے اختتام پر اس کے مختلف مراحل حِسی ’آغاز‘ میں اکٹھے ہوگئے، جس میں تمام شرکا کو باری باری آہستہ آہستہ سے چھونے اور 2 گھنٹے تک گہرے سانس لینے کا تجربہ کرایا گیا۔ تانترا کے ختم ہونے پر ہونے والا احساس بہت خبصورت اور سکون بخش تھا۔

کچھ لوگ محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں یا ملازمت چھوڑ دیتے ہیں لیکن جان ڈے سب سے کہتی ہیں کہ آہستہ سے زمین پر قدم رکھیں ۔ خود کو 2 ہفتے کا وقت دیں اور آرام سے رخصت ہوں۔ آپ کو طلاق دینے یا ملازمت چھوڑنے سے پہلے زمین پر واپس آنے کی ضرورت ہے۔ وہ عام طور پر کہتی ہیں کہ ایل ٹی ون کے دوران قائم ہونے والے تعلق کو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں واپسی کے بعد کام میں لاتے ہیں۔ ان کے لیے ساتھی، گھر اور ملازمت، ان کے وجود کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ہمدردی کا جذبہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ تنازعات کو زیادہ آسانی سے حل کر لیتے ہیں۔ جان ڈے کے مطابق ایل ٹی ون کا تجربہ ایک تحریک پیدا کرتا ہے جو پختہ ہوتی رہتی ہے۔ شخصیت میں مسلسل بہتری کی صورت میں آپ کبھی عدم اطمینان کا شکار نہیں ہوتے۔

ایل ٹی ون میں شرکت کرنے والے ایک ماہر نفسیات کے مطابق ان کا اعصابی نظام بہتر ہوا ہے خاص طور پر جذبات اور ذہنی صدمے کے مقابلے کے لیے، جن سے چھٹکارے کے لیے جسمانی طور پر محسوس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جان ڈے نے شیفیلڈ ہیلام یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تحقیق شروع کی ہے جس کا مقصد ایل ٹی ون کے نتائج کا جائزہ لینا ہے۔ ایل ٹی ون میں شرکت کرنے والے آسٹریا کے شہری مارٹن ہارٹ مین، جن کا تعلق بزنس منیجمنٹ سے ہے، نے تانترا سے متاثر ہو کر’وجد کا کاروبار‘ کے نام سے ایک کمپنی قائم کی ہے۔

مارٹن ہارٹ مین کے مطابق باہمی رابطے، دیانتداری، اعتماد اور غوروفکر سے کسی بھی کمپنی کی بنیاد بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ یہ اصول مفید ثابت ہوسکتے ہیں تاہم بلاشبہ کسی کو چھونا ہمیشہ کے مقابلے میں کم قابل قبول ہے۔

جان ڈے کے مطابق تانترا روح کا انقلاب ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایل ٹی ون ورکشاپ کے بعد مجھے اتفاق ہے کہ علاج کے معاملے میں بعض اوقات ہمیں حد کے اندر رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق