کیا لوگ پولیو وائرس سے زیادہ ویکسین سے خوفزدہ ہیں؟

پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 45 تک پہنچ گئی ہے جس میں 35 کیسز تو صرف خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔

پولیو کیسز کی حالیہ تعداد کے مقابلے میں 2018 میں حیران کن حد تک زیادہ نظر آتی ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 45 تک پہنچ گئی ہے جس میں 35 کیسز تو صرف خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔

پولیو کے حوالے سے تشکیل کردہ قومی ایمرجنسی سینٹر کے مرکزی دفتر کے مطابق، خیبر پختونخوا میں سامنے آنے والے 35 کیسز میں سے 17  بنوں، ضم شدہ اضلاع سے آٹھ، تور غر سے پانچ جبکہ لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور شانگلہ سے ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے-

اس کے علاوہ رواں سال پنجاب سے پانچ، سندھ تین اور بلوچستان سے پولیو کے دو کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق، پولیو وائرس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے 11 اضلاع میں چار روزہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس کے بعد پیر کے روز چار مزید کیسز سامنے آنے سے کل تعداد 41 سے 45 ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں ایک بار پھر پولیو کے کیسز کی اتنی بڑی تعداد کے سامنے آنے کی وجہ اس حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیاں ہیں یا پولیو ورکرز کی غفلت؟ بعض اطلاعات کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں نئے پولیو کیسز سامنے آنے کے بعد ویکیسن کے معیار پر بھی شکوک و شبہات بڑھے ہیں۔

لیکن ایک عام آدمی اس بارے میں کیا سوچتا ہے یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے کامران (فرضی نام) سے بات کی جو پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں اور پولیو سے بچاؤ کے قطروں کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

پولیو مہم: افواہوں سے کتنا نقصان ہوا؟

‘فیس بک، یوٹیوب پولیو مہم کو نقصان پہنچا رہے ہیں’

’جناب میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ پولیو کے قطرے بہت فضول چیز ہے۔ آخر کیوں یہ گند ہم اپنے بچوں کو پلائیں۔ میری اپنی چار سالہ بیٹی ہے۔ میں اس کو پولیو کے قطرے نہیں پلانے دے رہا۔‘

ان کی اس بات پر یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ آخر کیسے اپنی بچی کو پولیو ورکرز سے دور رکھتے ہیں کیونکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیم گھر گھر جاتی ہے۔

اس پر انھوں نے خود ہی وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ’جن دنوں پولیو کی ٹیمیں آتی ہیں، میں گھر کو تالہ لگا کر نکلتا ہوں۔ قطرے پلانے والے سمجھتے ہیں کہ شاید گھر میں کوئی نہیں ہے، جبکہ میری بیوی، بچے گھر پر  ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یعنی لوگوں میں پولیو وائرس سے اتنا خوف نہیں ہے جتنا اس وائرس کو ختم کرنے والے قطروں سے ہے۔ 

ایسا نہیں کہ کامران نے شروع سے ہے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنی بچی کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائیں گے بلکہ اس کی وجہ انھوں نے کچھ یوں بتائی ہے: ’پچھلے سالوں میں اپنی بیٹی کو متواتر قطرے پلاتا رہا ہوں لیکن پھر جب کچھ مہینے پہلے خیبر پختونخوا میں کچھ بچے پولیو کے قطرے پینے سے بیمار ہوئے تو میں ڈر گیا اور تب سے میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اپنی بچی کو ان قطروں سے دور رکھوں گا۔‘

حالیہ تعداد 2018 کے مقابلے میں حیران کن حد تک زیادہ نظر آتی ہے۔ یعنی پچھلے سال  پورے پاکستان سے 12 کیسز سامنے آئے تھے، جن میں سندھ سے ایک، خیبرپختونخوا سے دو، سابقہ فاٹا سے چھ اور بلوچستان سے تین کیسز ریکارڈ ہوئے تھے۔

خیبر پختونخؤا میں بنوں سے زیادہ کیسز سامنے آنے پر بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس  بارے میں اس علاقے کی رہائشی نیلم فقیر نے بتایا کہ دراصل بنوں میں وزیرستان کے بے گھر افراد بھی رہتے ہیں۔ لہذا زیادہ مسئلہ ان لوگوں میں ہو سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا تعلق بنوں کے شہری علاقے سے ہے اور وہاں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

پچھلے تین سالوں کی نسبت 2019 میں  پولیو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے پاکستان کو پریشان کر رکھا ہے کیونکہ اس وقت دنیا میں صرف تین ممالک ایسے ہیں جو پولیو واِئرس سے پاک نہیں ہو سکے ہیں۔ جن میں نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان  شامل ہے۔

اس وقت خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ ممالک پولیو وائرس سے پاک نہ ہو سکے تو یہ وائرس ایک مرتبہ پھر پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔

حکام اس بارے میں کیا کر رہے ہیں؟

اسی بارے میں انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون برائے انسداد پولیو بابر عطا کے مطابق  پچھلے چند سالوں کی رپورٹس میں صحیح تعداد کو چھپایا گیا تھا۔

تاہم انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بابر عطا ڈان کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اس کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ کوئی بھی کام کمیونٹی کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں ہو سکتا اور یہ کہ بندوق کی نوک پر لوگوں کو قائل نہیں کیا جا سکتا۔

’پاکستان پولیو پروگرام نے نومبر سے پہلے پہلے پاکستان کا سب سے بڑا کال سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آگاہی عامہ کو بدلنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی مہم بھی ہم نومبر سے پہلے شروع کرنے جا رہے ہیں-  تیسری بات یہ کہ ہم بے نطیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ بات چیت میں ہیں۔ ہم پولیو پروگرام کے دو لاکھ 60 ہزار فعال ورکرز کے توسط سے وزیر آعظم کے احساس پروگرام کو عملی جامہ پہنائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ اب پولیو ورکرز لوگوں سے گھر میں حاملہ خواتین کے بارے میں یا اس قسم کے اور سوالات نہیں کریں گے۔ کیونکہ لوگ اس طرح کے سوالات سے تنگ ہوتے ہیں۔ ہم سوالات کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہے ہیں۔ اس طرح کے اور بھی اقدامات ہم کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان