’میں خط لکھوں گی‘

اس کا جواب سن کر میں آبدیدہ ہوگئی۔ اس کے جواب نے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا تھا۔ مجھے کئی سوالوں کے جواب مل گئے خاص کر یہ کہ ہمارے ہاں عورتوں کی تعیلم پہ اتنی پابندیاں کیوں ہیں۔

افغان خواتین کو تعلیم کے حصول میں گھر کے اندر اور باہر مشکلات درپیش ہیں (اے ایف پی فائل فوٹو) 

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں۔


کبھی کبھی مجھے لگتا ہے افغانستان کی تنزلی میں جتنا ہاتھ جنگ اور کرپٹ سیاست دانوں کا ہے اس سے کہیں زیادہ ناخواندگی کا ہے۔

شعور کی کمی نے آج وطن کو ایک بار پھر زمانہ جہالت میں پہنچا دیا ہے۔ میری پڑوسن، وادیہ کی والدہ ایک صبح خود میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں وادیہ کے والد تو راضی ہیں لیکن بھائیوں نے وادیہ کی تعلیم کو انا کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ مکتب میں کون سا ریاضی اور سائنس پڑھاتے ہیں صرف انگریزی سیکھ کر کیا کرے گی؟ ہو سکے تو وادیہ کو سمجھاؤ۔

میں نے کہا کسی بھی زبان کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں نئی زبان نئی زندگی کی طرح ہوتی ہے۔ انگریزی تو عالمی زبان ہے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے کم از کم زبان کی اساس سے آشنائی اشد ضروری ہے۔ یہاں بھی ہر جگہ آپ سب کو ترجمان کی ضرورت پڑتی ہے۔ ترجمان آخر کب تک ساتھ دیں گے؟ آپ لوگ سائن بورڈ اور بل بورڈ نہیں پڑھ سکتے۔ اور تو اور دوا کے لیبل نہیں پڑھ سکتے۔ بنیادی دواؤں کو بھی ان کے رنگ کی وجہ سے پہچانتے ہیں اور اگر مختلف گولیوں کا ایک جیسا رنگ ہو تو کنفیوز ہو جاتے ہیں۔

یہی وادیہ کیل مہاسے والی کریم لینے گئی اور سن سکرین لے کر آئی کیوں کہ اس نے محض لیبل پہ لگی لڑکی کو دیکھ کر اندازہ لگایا تھا۔ جگہ جگہ لگے تصوری اشاروں کو سمجھنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اس دن بھی کیمپ کی کچھ خواتین اپنے بچوں سمیت نو گو ایریا میں جا کر بیٹھ گئیں جبکہ اس جگہ پہ واضح لکھا تھا کہ ’یہاں بیٹھنا منع ہے۔‘ مگر وہ بورڈ پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔

بلڈنگ کا نمبر، بس کا روٹ اور لانڈری کی رسیدوں پہ دستخط اور نجانے  کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچوں کی نشونما اور تعلیم و تربیت میں ایک پڑھی لکھی ماں کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ کیمپ والے تو محض انگریزی سے آگاہی کا ایک پروگرام چلا رہے جہاں صرف ایک گھنٹے کی کلاس ہوتی ہے۔ مکتب تو یہ ہے ہی نہیں۔

اسے بھی آپ نے انا کا مسئلہ بنا دیا تو آگے نجانے کیا ہوگا۔ بہرحال میں آپ کی بیٹی کو تعلیم سے ہرگز بدظن نہیں کرنا چاہتی۔ وہ خاتون تو قدرے مایوس ہو کر چلی گیں مگر مجھے کئی سال پیچھے میرے ماضی میں دھیکل دیا۔

مجھے یاد ہے میری ایک کلاس فیلو کی والدہ ان پڑھ تھیں۔ وہ لڑکی سارا دن رسالے پڑھا کرتی تھی اور ماں سمجھتی تھی کہ اس کی بیٹی بیچاری سبق پڑھ رہی ہے۔ جب وہ لڑکی فیل ہوگئی تو اس کی والدہ سکول جا پہنچی اور وہاں فساد کھڑا کر دیا کہ تم لوگوں نے میری بیٹی کے نمبر کاٹ دیے میں خود گواہ ہوں وہ دن رات کتابیں پڑھتی ہے۔ آخر ایک استانی نے غصے سے کہا اپنی بیٹی سے یہ تو پوچھو وہ کون سی کتابیں پڑھتی ہے۔

میری کلاس فیلو کی والدہ کے لیے ساری کتابیں بظاہر آسمان سے اترے ہوئے صحیفوں کی طرح  مقدس تھیں۔ میں نے اس دن ایک ان پڑھ ماں کو سکول میں سر پکڑ کر  روتے ہوئے دیکھا تو شکر کیا تھا کہ میری والدہ پڑھی لکھی خاتون ہیں ورنہ اس سے پہلے میں اپنی کلاس فیلو کو خوش نصیب سمجھا کرتی تھی اور مجھے لگتا تھا ہماری والدہ بہت سخت مزاج ہیں۔ گھڑی کی سوئیوں کی طرح ہمارے اوقات بھی مقرر تھے۔

سونا جاگنا، پڑھنا لکھنا کھیلنا کودنا سب کا ایک وقت معین ہوا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے میری نانی اور دادی بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔

میری دادی ہمیں رات کے وقت فردوسی، جامی، رومی اور شمس تبریز کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ حتیٰ کہ آدم خان درخانے، شریں فرہاد اور رابعہ بلخی کے قصے بھی سنائے۔ وہ ناصرف قصے سناتی تھیں بلکہ ان قصوں کے متعلق ہمارے ہر سوال کا جواب بھی دیا کرتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں نے زندگی کا ایک حصہ پشاور اور دوسرا کابل میں گزارا۔ مجھے اندازہ تھا مگر کبھی یہ احساس اتنی شدت سے نہیں ہوا کہ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کا حصول کتنا بڑا مسئلہ ہے۔

اسی دن دوپہر کو پھر وادیہ آئی اس کی بڑی بہن سکینہ جو لگ بھگ پندرہ سولہ برس کی ہوگی اور سات سالہ چھوٹی بہن روبینہ بھی ساتھ تھیں۔ سکینہ کو سلائی کڑھاہی کا شوق تھا۔ وہ سارا راستہ وادیہ کو برا بھلا کہتی رہی کہ یہ خود غرض ہے صرف اپنا سوچا بھائیوں کا خیال نہ کیا۔ حتی ٰ کہ ہمارا بھی نہیں اب یہ پڑھے گی میں اور میری ماں گھر کے کام کریں گے۔ عورتیں تو بنی ہی گھریلو کام کاج کے لیے ہیں اس کے شوق نرالے ہیں۔

البتہ چھوٹی بہن بہت خوش تھی کہنے لگی کہ خالہ میں بڑی ہو کر استانی بنوں گی۔ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر کرسی پہ بیٹھا کروں گی۔ ہر روز نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہنوں گی۔ گھر کے کام کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی۔ میں نے یوں ہی پوچھ لیا کہ اچھا وادیہ تم نے پڑھنے کے لیے گھر میں اتنا بڑا جنجال کھڑا کیا اور یہ کبھی بتایا نہیں کہ تم انگریزی سیکھ کر کیا کرو گی؟ اس نے بےاعتنائی سے دوپٹے کا پلو انگلیوں سے لپیٹتے ہوئے کہا، خالہ میں خط لکھوں گی۔ کیا؟

خط ۔۔۔۔ انگریزی میں، لیکن کس کو؟

اس کا جواب سن کر میں آبدیدہ ہوگئی۔ ایک عجیب سی اداسی نے مجھے گھیر لیا۔ اس کے جواب نے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا تھا۔ مجھے کئی سوالوں کے جواب مل گئے خاص کر یہ کہ ہمارے ہاں عورتوں کی تعیلم پہ اتنی پابندیاں کیوں ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ: ثروت نجیب افغانستان سے نقلِ مکانی کرکے امریکہ پہنچی ہیں، جہاں سے وہ افغانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روداد انڈپینڈنٹ اردو کے لیے رقم کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ