کیا پاکستان کے لیے 25واں گھنٹہ شروع ہو چکا؟

سرکار اب نہیں جاگی تو کب جاگے گی۔ خطرے کی گھنٹی بج اٹھی ہے۔

سوات میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد مقامی افراد دریا پار کرنے کے لیے عارضی طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں (اے ایف پی)

پانچ سے سات ہزار سال پہلے دریائے سندھ کی تہذیب، آٹھ سے 10 ہزار سال پہلے ہاکڑہ دریا کے ارد گرد کی آبادیاں اور لاکھوں سال پہلے دریائے سواں کے ارد گرد موجود انسانی آباد کاری جسے سوانین کلچر کا نام دیا جاتا ہے، وہ کیسے معدوم ہوئیں؟

اس بارے میں کئی ایک نظریات بیان کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی ہے۔

اگر حالیہ 12 سال میں پاکستان میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے تو کیا یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے وہی تاریخ دہرائی جانے والی ہے اور ہمارے لیے 25واں گھنٹہ شروع ہو چکا ہے۔

سوات میں کیا ہوا؟

مدین کے بیچوں بیچ گزرنے والے نالے بشی گرام کے کنارے پر کھڑے ہو کر میں سوچتا ہوں کہ کیا یہ وہی جگہ ہے جہاں دو سال پہلے میں نہایا تھا اور پھر ساتھ ٹراؤٹ فش فارم پر مچھلی کھائی تھی کیونکہ دو سال پہلے یہ ایک تنگ سا نالہ تھا جس کے دونوں جانب آبادیاں اور ہوٹل تھے۔ وہ نالہ اب دریا بن چکا ہے۔

آبادیاں اور ان کے بیچ کی سڑکیں صفحہ ہستی سے ایسی مٹ چکی ہیں جیسے کہ وہ تھیں ہی نہیں۔

بشی گرام نالے کی تباہی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نالے کے مرکز سے 400 میٹر دور بچ جانے والے گھروں کی ایک پوری منزل ریت میں دب چکی ہے۔

اس نالے کے تھوڑی دور بحرین بازار سے منسلک ایک دوسرا نالہ درال ہے۔ کبھی اس کے دونوں جانب موجود ہوٹلوں کی تصاویر کیلنڈروں کی زینت بنتی تھیں۔

اب وہاں تباہی اور بربادی کی بھیانک داستان ہے۔

بحرین کے ایک امیر ہندو گنگا کشن کا گھر جو تقسیم کے بعد سے آبادی کے بیچ میں تھا اور اس سے پہلے آبادی پھر سڑک پھر آبادی تھی وہ بھی 75 سال بعد آدھے سے زیادہ بہہ گیا۔

درال بھی اب نالہ نہیں رہا بلکہ دریا جتنی چوڑائی اختیار کر چکا ہے اور اس میں موجود کمرے جتنے بڑے اور بھاری پتھر بتا رہے ہیں کہ جو ان کے راستے میں آئے گا اس کا حشر کیا ہو گا۔ بحرین کا تاریخی بازار اب صرف ایک تاریخ بن کر رہ گیا ہے۔

پانی اترنے کے دسویں روز بعد بھی لوگ دوسری منزلوں سے ریت نکال رہے تھے جبکہ گراؤنڈ فلور مکمل طور پر ریت اور پتھروں سے اٹے ہوئے تھے۔

یہی صورتحال دریائے سوات میں گرنے والے تمام نالوں کی ہے۔

یہ نالے اور دریا جو ملبہ پہاڑوں سے اتار کر لائے ہیں اس کے بعد دریا کی سطح 20 سے 40 فٹ اوپر ہو چکی ہے، یعنی اگلا سیلاب اب اور زیادہ تباہی لائے گا۔

دریائے سوات سے سینکڑوں میل دور منچھر جھیل اور حمل جھیل جن کے درمیان تقریباً سو کلو میٹر کا فاصلہ تھا اب وہ ایک ہی جھیل بن چکی ہیں۔

بشی گرام نالہ جو کہ مدین کے مقام پر دریائے سوات میں گرتا ہے۔ اس سے چار سے پانچ سو میٹر دور گھر مکمل طور پر یا تو نیست و نابود ہو چکے ہیں یا پھر ریت کے نیچے ایسے دفن ہیں کہ جیسے یہاں کبھی گھر تھے ہی نہیں۔

میں نے ایسے ہی ایک رہائشی سے جو ریت سے اپنا گھر نکال رہا تھا اس سے پوچھا کہ جب آپ کو پتہ ہے کہ یہاں پانی آجاتا ہے تو یہاں گھر کیوں بناتے ہیں؟

اس نے جواب دیا ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم پہاڑی لوگ ہیں ہم اپنی ہزاروں سالہ اساطیری کہانیاں نسل در نسل سینوں میں لیے چلتے ہیں۔

ہمیں ان میں کہیں بھی ایسے سیلابوں کا تذکرہ نہیں ملتا۔

’پہلی بار ہم 2010 میں تباہ ہوئے اور اس کے بعد سے چوتھی بار اجڑ ے ہیں۔ لیکن اب ہم یہاں گھر نہیں بنائیں گے بلکہ پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے۔‘

زبیر تور ولی بحرین سوات میں رہائش پذیر محقق اور مصنف ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سوات میں پہلی صدی میں ایسا سیلاب آیا تھا جس کے نتیجے میں دریا کے کناروں پر آباد شہر تباہ ہو گئے تھے۔ بدھ مت کی خانقاہیں ویران ہو گئی تھیں۔

لوگ ڈر کر پہاڑوں کے اوپر چڑھ گئے اور آج پہاڑوں کے وسط میں ہمیں بدھ دور کے کئی آثار جو پانچویں صدی تک جاتے ہیں ملتے ہیں۔

’لیکن پھر پہاڑوں پر بھی یہ لوگ زیادہ عرصے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔‘

زبیر کہتے ہیں عموماً سوات میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں لیکن اس بار کیا ہوا کہ مئی، جون تک پہاڑوں کے اوپر جہاں گلیشئرز ہیں وہاں برف باری ہوتی رہی۔

جولائی اگست آیا تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر طوفانی بارشیں شروع ہو گئیں، جن کی وجہ سے بارش اور گلیشئرز کے پانی نے مل کر ایسا سیلاب پیدا کیا جس نے پہاڑوں کے اوپر سے مٹی اور بھاری پتھر سرکائے جس سے نہ صرف بھیانک تباہی ہوئی بلکہ نیچے دریا کی سطح بھی ملبے کی وجہ سے تیس فٹ سے زیادہ بلندہو چکی۔

اس لیے حالیہ سیلاب کے بعد جو آبادیاں بچ بھی گئی ہیں اگلے سیلاب میں پانی ان تک بھی پہنچ جائے گا۔

کیا مون سون کا طریقہ بدل رہا ہے؟

عالمی ماہرین موسمیات کہتے ہیں کہ تباہ کن مون سون کی ایک بڑی وجہ ’لا نینا‘ ہے۔

جب بحر الکاہل میں خط استوا کے نزدیک ٹھنڈے پانی سے گرم ہوائیں ٹکراتی ہیں تو سطح سمندر کے درجہ حرارت میں معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ فیصلہ کرتا ہے کہ مون سون کی بارشیں کتنی ہوں گی۔

عالمی سطح پر درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے بعد موسموں کی شدت نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔

اس سال اپریل میں بھارت میں جو گرمی پڑی اس نے 122 سالہ اور پاکستان میں 62 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یورپ میں بھی اس سال جولائی کو تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا ہے۔

زمین کے درجہ حرارت میں 2026 تک 1.7 سینٹی گریڈ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے اور پاکستان کا درجہ حرارت بھی اگلے 20 سالوں میں اڑھائی درجے تک بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی جیکب آباد ضلع کے درجہ حرارت نے 52 سینٹی گریڈ کو چھو لیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جیکب آباد اب انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہی اور اس کی آبادی کو کہیں اور منتقل کرنا پڑے گا۔

اس کا واضح مطلب ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں سب سے بری طرح پاکستان کو متاثر کر رہی ہیں اور ان کا اثر اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ایک گنجان آباد ملک ہے۔

مون سون کی بارشوں کے بدلتے انداز نے اس کا دائرہ پاکستان میں دو سو کلومیٹر دور تک پھیلا دیا ہے، یعنی پہلے ان بارشوں کی حد دریائے سندھ تک تھی اور اب یہ پاک افغان بارڈر کو کراس کر کے جلال آباد، قندھار اور ایرانی بلوچستان تک بھی پہنچ چکی ہے۔

نیشنل فلڈ کنٹرول میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اعجاز تنویر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس موسم میں صرف کراچی میں معمول سے چار سو گنا زیادہ بارش ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں یہ شرح پانچ سو اور سندھ میں آٹھ سو فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جتنی بارشیں صدیوں میں ہوتی ہیں وہ ایک ڈیڑھ مہینے میں برس گئی ہیں۔ یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔

جو ہوائیں بارشیں برساتی ہیں وہ اپنے ساتھ تو نمی لے کر آتی ہیں لیکن انہیں مقامی طور پر کئی گنا زیادہ نمی مل جاتی ہے۔

مشرقی اور مغربی ہواؤں کے ملاپ سے یہ بارشیں معمول سے بہت زیادہ ہوئی ہیں۔ اب اگر ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی تو یہ پانی اگلے کئی سال تک ہم استعمال میں لا سکتے تھے لیکن یہ سارا پانی تباہی مچاتا ہوا سمندر میں جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معمول سے زیادہ بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے دس سال تک چلے گا اور پھر یہ سلسلہ نہ صرف رک جائے گا بلکہ خشکی کا دورانیہ شروع ہو گا اور قحط کی صورتحال بن سکتی ہے۔

اس سال ان بارشوں کا رخ سندھ اور بلوچستان کی طرف تھا اگلے سال یہ کشمیر، خیبر پختونخوا اور پوٹھوہار کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔

پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں کتنا بڑا خطرہ ہیں؟

آٹھ سے دس ہزار سال پہلے ہاکڑہ دریا کیسے خشک ہوا، سربز و شاداب جنگل اور کھیت، کیسے صحرائے تھر اور چولستان میں بدلے، سات ہزار سال پہلے کا مہر گڑھ کیسے اجڑا؟

پانچ ہزار سال پہلے کی وادی سندھ کی تہذیب کے بڑے شہر موہنجو داڑو اور ہڑپا کیسے صفحہ ہستی سے مٹ گئے؟

اور دو سے اڑھائی ہزار سال پہلے گندھارا کی تہذیب کیوں زیر زمین چلی گئی؟ کیا اس کی وجہ بھی مون سون کی تبدیلی تھی؟

اس سوال کا جواب ہمیں چارلس چوئی کے کرسچئین سائنس مانیٹر کے لیے لکھے گئے مضمون میں ملتا ہے جس میں لکھتے ہیں کہ ’تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سندھ کی تہذیب کی تباہی کی وجہ موسمیاتی تبدلیاں تھیں۔‘

’محقیقین نے دریائے سندھ کے آس پاس کا تجزیہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے کیا ہے، سمندر سے ملنے والے نمونوں کا تقابل جب پنجاب اور تھر کی وادی کے نمونوں سے کیا گیا تو ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ تہذیب موسمیاتی تبدیلیوں سے تباہ ہوئی ہے۔‘

’ہڑپہ کی زمینیں سرساوتی دریا سے سیراب ہوتی تھیں جو ہمالیہ سے گلیشئرز کا پانی لاتا تھا اور کبھی اس کے ارد گرد وسیع آبادیاں پھیلی ہوئی تھیں۔

’پھر مون سون کے بدلنے سے یہاں بڑے پیمانے پر سیلاب آئے۔ پھر خشک سالی آئی اور یہ آبادیاں مٹ گئیں، دریا نے اپنے راستے بدل لیے ہرے بھرے کھیت دریا کی لائی گئی ریت کی وجہ سے صحرا بن گئے۔‘

دریائے سندھ کی موجودہ تہذیب جو اب پاکستان کہلاتی ہے کیا ایک بار پھر وہ اپنے 25ویں گھنٹے میں داخل ہو چکی ہے؟

آج سے ہزاروں سال پہلے تو صنعتی ترقی نہیں تھی پھر اس وقت درجہ حرارت کیوں بڑھ گیا تھا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عالمی بنک سے منسلک نامور ماہر موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ درجہ حرارت میں اضافہ سولر سائیکل سے بھی منسلک ہے۔ جس کے لیے ہم خلائی موسم کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں۔

اس وجہ سے صدیوں اور ہزاریوں سے موسم بدلتے آئے ہیں اور وہ اپنے وقت کی تہذیبوں کو تباہ و برباد کرتے آئے ہیں۔

پہلے بارشیں اپر سندھ ویلی میں منگلا اور تربیلا کے کیچ منٹ ایریاز میں ہوتی تھیں اب یہ لوئر سندھ ویلی میں ہو رہی ہیں۔

مشرف دور میں جب منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ شروع کیا گیا تو اس وقت ڈاکٹر قمر الزمان نے اختلافی نوٹ لکھا تھا کہ مستقبل میں مون سون بارشوں کا سلسلہ بدلے گا اور یہ بالائی سے وسطی علاقوں میں منتقل ہو جائے گا۔ وہی آج ہو رہا ہے۔

اس لیے اب آپ کو کوہ سلیمان کے ارد گرد پانی کو ذخیرہ کرنا ہو گا وگرنہ سندھ اور پنجاب کے 20 سے زائد اضلاع میں ہر سال یہی صورتحال ہو گی۔ حالیہ سیلاب ’الارمنگ بیل‘ ہے جس کی طرف توجہ نہ دی گئی تو پاکستان ایک بڑے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ پالیسی ساز اگر اپنی روش اب نہیں بدلیں گے تو پھر کب بدلیں گے!

پاکستان کو کرنا کیا چاہیے؟

سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، یہ نقصانات 2010 کے سیلاب سے تین گنا ہو سکتے ہیں۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے نقصانات کا مجموعی حجم 30 ارب ڈالر تک بتایا ہے۔ پاکستان کے دگر گوں معاشی حالات میں یہ ایک بہت بڑا معاشی جھٹکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معروف تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی سے وابستہ موسمی تبدیلیوں کے ماہر ڈاکٹر شفقت منیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فضائی آلودگی جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسموں کی شدت بڑھ رہی ہے۔

اس میں پاکستان کو کردار ایک فیصد بھی نہیں۔ اس میں بڑا کردار دنیا کے دس امیر ملکوں کا ہے، جنہوں نے 2015 میں ایک معاہدہ کیا تھا کہ وہ 2050 تک فضا میں زہریلی گیسوں کی مقدار نیوٹرل کر دیں گے۔

غریب ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار بن رہے ہیں انہیں فنڈز دیں گے، اور اس مقصد کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اب اس وعدے کو سات سال ہونے کو آئے ہیں انہوں نے شاید ان فنڈز کا نصف ہی دیا ہے۔

اس سال نومبر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی عالمی کانفرنس مصر میں ہونے جا رہی ہے۔ پاکستان اگر اپنا کیس بلڈ کر سکے اور یہ ثابت کر دے کہ اس کی معیشت کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں تو اسے سالانہ اربوں ڈالر مل سکتے ہیں۔

اس سے وہ اپنا ایسا تعمیراتی و انتظامی ڈھانچہ بنا سکتا ہے جو پاکستان میں موسموں کی شدت کا مقابلہ کرنے کی سکت بڑھا دے گا۔

حکومت کتنی سنجیدہ لگتی ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف نے مئی کے وسط میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 40 اراکین سے زائد افراد پر مشتمل خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے جس میں متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری، صوبوں کے چیف سیکرٹری، این ڈی ایم اے کے چیئرمین، اور دیگر محکموں کی اعلیٰ بیورو کریسی شامل ہے۔

حیرت ہے کہ اس ٹاسک فورس میں موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک ماہر بھی شامل نہیں ہے۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔

ابھی اس خطرے کا صحیح ادراک حکومت کو نہیں ہے لیکن جتنا بڑا یہ خطرہ ہے اس کے بعد پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کا پیراڈائم اب تزویراتی خطرات سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں شفٹ ہو چکا ہے۔ سرکار اب نہیں جاگی تو کب جاگے گی۔

خطرے کی گھنٹی بج اٹھی ہے، پاکستان 25ویں گھنٹے میں داخل ہو چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ