سیلاب متاثرین کے دو ماہ کے بجلی کے بل معاف: وزیراعظم

وزیراعظم نے بدھ کو بلوچستان کے شدید متاثرہ ضلع صحبت پور کا فضائی اور زمینی دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 14 ستمبر 2022 کو بلوچستان کے ضلع صحبت پور کا دورہ کیا اور حکام کو بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی (تصویر: اے پی پی)

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے رہائشیوں کے لیے اگست اور ستمبر کے بجلی کے بل معاف کر دیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے بدھ کو بلوچستان کے شدید متاثرہ ضلع صحبت پور کا فضائی اور زمینی دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ 

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق حکام نے وزیراعظم کو امدادی سرگرمیوں اور بحال کے کاموں پر بریفنگ دی، جنہوں نے انہیں امدادی کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔  

دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صحبت پور میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے ہر پاکستانی کی آنکھیں کھول دی ہیں اور پوری قوم یکجا ہو کر سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین میں اب تک 24 ارب روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اگست اور ستمبر کے بجلی بل سیلاب متاثرین سے نہیں لیے جائیں گے، جبکہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو 35 ارب کا ریلیف دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ستمبرمیں بھی 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں سے فیول ایڈجسمنٹ چارج نہیں لیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ صحبت پور میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور آج رات تک منرل واٹر کے دو ٹرک اور اگلے دو دن میں 10 ٹن پینے کا پانی صحبت پور میں موجود ہوگا۔

’آئی ایم ایف نے آرے ہاتھوں لیا‘

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تھی اور معاہدے کی بری طرح دھجیاں بکھیری گئیں، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہمیں ’آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں۔‘

اسلام آباد میں بدھ کو وکلا کنونشن سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ وہ شرائط جو گذشتہ حکومت نے طے کیں انہیں آٹو پر لگا دیا گیا کہ اگر ان پر مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو عالمی ادارے کا پروگرام خود بخود بند ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے حکومت سنبھالنے تک پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ چکا تھا اور حکومت نے کوشش کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے ملک بھی معاشی اور سماجی دوڑ میں آگے نکل گئے۔ ’ہم 75 سال سے دائرے میں گھوم رہے ہیں اور آج کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ کسی دوست ملک میں جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ مانگنے کے لیے آئے ہیں۔ کسی کو ٹیلی فون کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ مانگنے کے لیے کیا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا فولاد کی صنعت میں پاکستان سے آگے تھا تو پاکستان ٹیکسٹائل صنعت میں اس سے کہیں آگے تھا۔

ان کے بقول ملک ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو مسائل مزید گھمبیر ہوتے۔ ایٹمی طاقت نے پاکستان کی سرحدوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا اور دشمن ہمیشہ کھٹے رہیں گے۔ ’وہ کبھی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سیلاب سے شدید نقصان ہوا ہے اور اس سے تین کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے بحران سے لاکھوں لوگوں سے سر سے چھت چھن گئی ہے اور آنے والا موسم سرما ان کے لیے اور مسائل لا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان