‘صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کا نشانہ بننے والی خواتین کی سکیورٹی بڑھائی جائے’

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نسل پرستانہ ٹویٹس کے بعد حکام سے چار خواتین ارکان کانگریس کو تحفظ فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

خاتون ارکان کانگریس نے عوام پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر ’ملک کو تقسیم کرنے سے زیادہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں رکھتے (اے ایف پی)

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نسل پرستانہ ٹویٹس کے بعد حکام سے چار خواتین ارکان کانگریس کو تحفظ فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

ہاؤس ہوملینڈ سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین بینی تھامسن نے کیپیٹل پولیس بورڈ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاستدانوں کے خلاف تشدد کے خطرے کا تعین کرنے کے طریقہ کار کو بدلنے کا کہا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کو حاصل ہونے والے ایک خط کے مطابق بینی تھامسن نے کہا ہے کہ ’حکام نشانہ بنائے جانے والے ارکان کی سکیورٹی بڑھائیں اور دیگر علاقوں کے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے مل کر خطرات کا جائزہ لیں۔‘

انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’اس معاملے میں ہر دم تیار رہنا سب سے اہم چیز ہے نہ صرف ان ارکان کی تحفظ کے لیے جنھیں نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ تمام ارکان کانریس کے لیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، یہ سیاستدانوں پر حملوں کی وجہ بن سکتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں سیاہ فام خواتین ارکان کانگریس کے ایک گروپ سے کہا کہ ’انھیں مکمل طور پر ٹوٹے اور جرائم سے بھرے علاقوں کو واپس چلے جانا چاہیے جہاں سے وہ آئی ہیں۔‘

نو منتخب ارکان سے خطاب کرتے ہوئے خاتون ڈیموکریٹ ارکان الیگزینڈریا اوکازیو کورٹیز، الہان عمر، ایانا پریسلے اور راشدہ طلیب نے اتوار کو کہا تھا کہ ’ان علاقوں کو آپ کی مدد کی اشد ضرورت ہے، آپ اتنی جلد چھٹکارہ نہیں حاصل کر سکتے۔‘

خاتون ارکان کانگریس نے امریکی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ’اس چارے پر منہ نہ ماریں‘ اور کہا ہے کہ امریکی صدر ’ملک کو تقسیم کرنے سے زیادہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘

بینی تھامسن نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ صدر کے الفاظ ’ایک خاص طبقے کے لیے اور سفید فام بالادستی کے سوا کچھ نہیں۔‘

جبکہ منگل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے پیغامات نسل پرستانہ نہیں۔ ’میرے اندر نسل پرستانہ ہڈی نہیں ہے۔‘ جبکہ اس سے اگلی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ خواتین ’ہمارے ملک سے نفرت کرتی ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ