آج پھر عمران خان

آپ عمران خان سے اختلاف کر سکتے ہیں اور شدت کی آخری حد تک، لیکن اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ اس وقت عصری سیاست کی رگ جاں ان کے ہاتھ میں ہے۔

عمران خان 25 مئی، 2022 کو اسلام آباد میں ایک احتجاجی ریلی کی سربراہی کر رہے ہیں (اے ایف پی)

 کل ہی ارادہ باندھا تھا کہ اب کچھ عرصہ عمران خان پر نہیں لکھنا مگر آج پھر اسے توڑ رہا ہوں۔  

ساتھ اس بھلے مانس کو بھی یاد کر رہا ہوں جس نے سڑک پر کیلے کا چھلکا دیکھ کر کہا تھا ’لو جی ایک بار پھر پھسلنا پڑ گیا۔‘

آپ عمران خان سے اختلاف کر سکتے ہیں اور شدت کی آخری حد تک، لیکن اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ اس وقت عصری سیاست کی رگ جاں ان کے ہاتھ میں ہے۔

ان کے علاوہ دیگر کردار ایسے ہیں جیسے ’خواب‘ میں ’واؤ معدولہ‘ ہونے یا نہ ہونے سے ادائیگی کو کوئی فرق پڑتا ہے نہ سماعتوں کو۔

قارئین گاہے شکوہ کرتے ہیں کہ عمران خان پر تو نقد کرتے ہیں، بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن یا شہباز شریف پر کچھ نہیں لکھتے۔

یہ شکوہ سن کرمجھے منٹو یاد آ جاتے ہیں۔ کسی نے پوچھا منٹو صاحب! آپ نے اتنے لوگوں کے خاکے لکھے ہیں، کبھی احمد ندیم قاسمی کا نہیں لکھا؟

 منٹو نے کہا، خاکے میں آخر کتنی بار یہ لکھوں کہ قاسمی صاحب بہت اچھے آدمی تھے؟

پی ڈی ایم کی قیادت پر اب کوئی کیا لکھے؟ یہ خود ہی تبدیل ہوتے معاشرے کے تقاضوں سے بے نیاز ہیں۔

ان کے پاس کوئی بیانیہ ہے نہ ابلاغ کی صلاحیت، وقت معاشرے کو لے کر آگے بڑھ گیا ہے، یہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔  

جدید دور کے تقاضوں سے بے نیاز یہ ماضی کی منڈیر پر بیٹھے افتخار عارف کے گیارہویں کھلاڑی کی طرح دعائیں کر رہے ہیں کہ عمران خان کی سیاست کے ساتھ کوئی قانونی حادثہ ہو جائے اور ان کے لیے میدان سازگار ہو جائے۔

سیاست کی حرکیات کون طے کر رہا ہے؟ عمران خان۔
کس کا بیانیہ سکہ رائج الوقت ہے؟ عمران خان کا۔  
کون ہے مقبولیت جس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہے؟ عمران خان۔  
کون ہے جو کسی بھی وقت ملک کے کسی بھی شہر میں کال دے تو خلق خدا امڈ پڑتی ہے؟ عمران خان۔  
کون ہے جو اپنے جھوٹ کو بھی سچ بنا لیتا ہے؟ عمران خان۔  
بیانیے کی جنگ کا فاتح کون ہے؟ عمران خان۔  
کون ہے جو سب کو اپنی وکٹ پر کھلا رہا ہے؟ عمران خان۔  
سیاست کی صف بندی کا  تازہ عنوان کون ہے؟ عمران خان۔

ووٹ اب اینٹی عمران اور پرو عمران ہو چکا ہے۔ اس ملک میں میدان سیاست میں کوئی قابل ذکر خبر ایسی نہیں ہوتی جس میں عمران خان نہ ہو۔ اس کی خوبی زیر بحث ہو یا اس کی خامی، عنوان وہی ہوتا ہے۔

ابلاغ کی دنیا میں عمران کی قوت دیکھیں۔  روسی صدر ولادمیر پوتن سے ایک ملاقات کو اس کے سوشل میڈیا کے جنگجوؤں نے پانی پت کا میدان بنا دیا۔  

یہاں تک کہ اقتدار سے محرومی کو بھی تصویر سے پھوٹتے بیانیے میں چھپا لیا گیا۔  

دوسری جانب شہباز شریف ہیں آدھی دنیا کی قیادت سے مل چکے، کچھ اچھی خبریں بھی ہیں اور پذیرائی بھی لیکن سوشل میڈیا پر سناٹا ہے اور ن لیگ کا سوشل میڈیا ونگ یوں خاموش ہے جیسے نالائق طالب علم  کو کمرہ امتحان میں چپ لگ جاتی ہے۔

فرض کریں اس وقت شہباز شریف کی جگہ عمران خان ہوتے، کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں امور خارجہ میں ان کی فتوحات کے سہرے کہتے سوشل میڈیا کا ماحول کیا ہوتا؟

عمران خان ایران میں جا کر اپنے ہی ملک پر دہشت گردی کا الزام لگا دیں تو کہا جاتا ہے سادہ سا تو ہے، دل کی بات کہتا ہے، دل کا صاف ہے مگر شہباز شریف قرض اور آئی ایم ایف کے حوالے سے ایک بات کہہ دیں تو یہ نہ سادگی قرار پاتی ہے نہ دل کی بات۔  

یہ حسن اہتمام صرف عمران کے لیے ہے کہ جب جہاں جو جی چاہے کہہ دیں، اس کا ’ریڈی میڈ‘ جواز دستیاب ہے۔

ٹرینڈ سیٹر بھی عمران خان ہیں۔ وہ کسی کی قمیض پر دستخط کر دیں تو سب قائدین قمیضیں تھام کر آٹو گراف دینا شروع کر دیتے ہیں۔  

وہ جلسوں میں موسیقی متعارف کرائیں تو سب نقال بن جاتے ہیں اور گلے میں پارٹی پرچم ڈال لیں تو سب لکیر کے فقیر بن کر ان کی نقل اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔

فارن فنڈنگ کیس سے لے کر توشہ خانہ تک اور حلیفوں کے دامن کے چھینٹوں سے لے کر قریبی رفقا کے نامہ اعمال تک سارے آزار کے باوجود وہ ایماندار قیادت کہلاتے ہیں اور باقی سب کے لیے ایک ہی قول زریں ہے کہ ’سب چور ہیں۔‘  

عمران کے بیانیے کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ وزیر اعظم کو ہر تقریب میں کہنا پڑتا ہے ’سیلاب زدگان کے لیے فنڈز دیں، ہم کرپشن نہیں کریں گے۔‘

اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک ہی پیج پر رہنے کو حاصل زندگی سمجھنے کے باوجود اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا پرچم عمران کے پاس ہے اور پھانسی کے پھندے پر جھول جانے والے بھٹو اور مشرف پر آرٹیکل چھ لگانے والے نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے کوزہ گر قرار دیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک دن بھی جیل نہ جانے کے باوجود عزیمت کے ہراول دستے کے سالار بھی عمران خان ہیں اور جیلیں اور جلاوطنیاں کاٹنے والے چور اور بزدل ہیں۔

جس استقامت سے عمران خان اپنے جھوٹ پر ڈٹ جاتے ہیں اس سے آدھی استقامت پی ڈی ایم اپنے سچ کو نہیں دے پاتی۔

اینٹی اسٹیبلمشنٹ بھی وہ ہے ریاست مدینہ کا علم بردار بھی وہ ہے۔ امریکہ کو بھی وہ للکار رہا ہے۔  

جھوٹے یا سچے، جیسے بھی ہیں مگر خواب بھی وہی دکھا رہا ہے۔ سیاست کا اس وقت واحد رومان بھی وہی ہے۔ مقبولیت بھی اسی ہے۔  

پوسٹ ٹروتھ کی قوت بھی اسے کے پاس ہے۔  ابلاغ کی دنیا بھی اس کے قبضے میں ہے۔

سوال یہ ہے کہ بلاول، مولانا، مریم، حمزہ، شہباز، نواز اور زرداری صاحبان کے پاس کیا ہے؟ کوئی خواب، کوئی رومان، کوئی جذبہ، کوئی امید؟

پی ڈی ایم کے پاس نہ ندرت خیال ہے، نہ کوئی رومان  اور نہ کوئی منصوبہ بندی۔

یہ ایک بات آخر کتنی بار لکھی جا سکتی ہے کہ اللہ بخشے پی ڈی ایم کے بزرگ بڑے اللہ والے تھے۔

منٹو احمد ندیم قاسمی کا خاکہ کیسے لکھے؟

نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ