عمران خان کے نو حلقوں سے ضمنی انتخاب لڑنے پر کتنا خرچہ ہو گا؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے 25 ستمبر کو ہونے والے ‏قومی اسمبلی کے نو حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

اس سال 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں کے ضمنی انتخاب سے ایک روز قبل لاہور کے ایک تقسیمی مرکز میں جمع کردہ ووٹنگ مواد کے ساتھ اپنے پولنگ سٹیشن جانے کے لیے انتخابی افسران انتظار کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی/عارف علی)

پاکستان کی سابق حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سیاسی مخالفین کو سخت مقابلہ دینے کے لیے 25 ستمبر کو منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے تمام نو حلقوں سے خود لڑنے کا اعلان کیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ غیرمعمولی فیصلہ ہے تو سیاسی لیکن اس کا بوجھ قومی خزانے کو اٹھانا پڑے گا۔ 

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب ملک کو معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے پائی پائی کی ضرورت ہے اور اب تو حالیہ بارشوں اور سیلاب نے مزید معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ادھر سپریم کورٹ میں انتخابی امیدواروں کو ایک سے زائد نشستوں پر بیک وقت لڑنے سے روکنے اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بطور رکن قومی اسمبلی مستعفی ہونے تک الیکشن لڑنے سے روکنے کے لیے ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔

عدالت عظمی میں منگل کو جمع کرائی گئی پٹیشن کے مطابق ایسے عمل سے ’عوامی پیسے اور وقت کا ضیاع‘ ہوتا ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں بھی اس سال اگست میں درخواست گزار میاں آصف محمود نے جو امن ترقی پارٹی کے پنجاب کے صدر ہیں، پی ٹی آئی کے چیئرمین کو ’ملک کے وسیع تر مفاد‘ میں ایک سے زائد نشتسوں پر ضمنی انتخابات لڑنے سے روکنے کی استدعا کی تھی۔

انہوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ امیدواروں کی طرف سے متعدد نشستوں پر انتخاب لڑنا ایک خامی بن گیا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سیاسی استحصال ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ‏قومی اسمبلی کے نو حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کے فیصلے سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر عمران خان ایک سے زائد یا نو کی نو نسشتوں پر کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں بہرحال رکھنی ایک ہی نشست ہے۔ ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان باقی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کروائے گا؟ اس سے دوبارہ انتخاب کی صورت میں قومی خزانے پر مزید کتنا بوجھ پڑے گا؟

انڈپینڈنٹ اردو نے الیکشن کمیشن سے ایک حلقے میں اوسط انتخاب پر آنے والے اخراجات کی تفصیل حاصل کی۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے تخمینے کے مطابق ایک حلقے پر دو کروڑ 50 لاکھ سے لے کر دو کروڑ 70 لاکھ روپے اوسط خرچ ہوتے ہیں جس میں کاغذ کی چھپائی، ذرائع آمد و رفت کا خرچ اور انتخابی عملے وغیرہ کے اخراجات سمیت کئی دیگر خرچے شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اندازے کے مطابق ایک حلقے میں ممکنہ اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

کاغذ چھپائی :                  70 لاکھ

ذرائع آمد و رفت:              30 لاکھ

انتخابی عملہ ادائیگیاں:       ایک کروڑ 50 لاکھ

اس میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ پھر ہر حلقے میں کم از کم آٹھ دس دیگر امیدوار بھی کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ہزاروں میں نہیں تو لاکھوں روپوں میں پیسہ لگاتے ہیں۔ 

انتخابی کمیشن کی تفصیل کے مطابق اس طرح نو حلقوں پر انتخابات کروانے کا خرچہ 25 سے 27 کروڑ کے قریب ہو سکتا ہے۔ حالیہ سیلاب کے بعد یہ رقم کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعلی عہدیدار کے مطابق ’اس عمل سے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ اس سے بچنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جانی چاہیے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی پر غور کرنا چاہیے کہ ایک رہنما دو سے زائد حلقوں پر الیکشن نہ لڑے اور سرکاری خزانے کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ یہ وسائل کا ضیاع ہے اور سیاسی جماعتوں کوجاگنا چاہیے۔ وہ عوام کے لیے یہ کیوں نہیں کر سکتے؟‘

عہدیدار کے مطابق سال 2017 میں الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کو ’امیدوار کے دو سے زائد حلقوں پر الیکشن نہ لڑنے‘ کی ترمیم تجویز کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن اب بھی اس تجویز کی حمایت کرے گا۔

عمران خان کے نو حلقوں پر ضمنی الیکشن لڑنے سے متعلق فیصلے پر بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قانون میں کوئی بندش نہیں کہ کوئی رکن کتنے حلقوں سے الیکشن لڑ سکتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات کے اندر وہ نہیں سمجھتے کہ یہ ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ نو حلقوں پر دوبارہ الیکشن ہوں گے مطلب عمران خان نو الیکشن جیتتا ہے تو پھر نو نشستوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہو گا یعنی سیکنڈ ٹائم رن ہوگا۔

رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت سیاسی طور پر تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دیے ہوئے ہیں، ایک طرف اسمبلی سے استعفی دیا ہوا ہے دوسری طرف جتنی نشستیں ہیں ان پر یہ الیکشن لڑ رہے ہیں تو پھر غالبا حلف بھی اٹھائیں گے اور پھر استعفی دیں گے تو یہ کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔‘

پاکستان میں رائج الیکشن قوانین کے مطابق کسی امیدوار پر ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی ایک سے زائد نشستوں پر الیکشن نہ لڑنے کی تجویز کو اس لیے مسترد کیا تھا کہ معمول کے حالات میں اگر کوئی رہنما یا سیاست دان ایک یا دو یا زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑتا ہے اور کوئی رہنما اپنی مقبولیت دکھانے کے لیے ہر صوبے سے ایک ایک نشست پر انتخاب لڑتا ہے تو اس حساب سے وہ عام انتخابات میں چار نشستوں پر الیکشن لڑتا ہے لیکن اس وقت تو عام انتخابات نہیں بلکہ ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کی اگر رائے آئے تو میں نہیں سمجھتا یہ (صرف ایک نشست پر الیکشن لڑنے) قانون مناسب ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں یہ قدغن نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی رکن کتنی نشستوں پر لڑ سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب تحریک انصاف کا اس معاملے پر مختلف موقف ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ایک سے زائد حلقوں پر الیکشن لڑنے پر مشاورت اور بحث ہو سکتی ہے۔ ’پارلیمنٹ اس قانون پر بحث اور تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کر سکتی ہے، بحث کیے بغیر کوئی چیز نہیں چل سکتی۔ الیکشن کمیشن نے ماضی میں ایک سے زائد حلقوں پر الیکشن نہ لڑنے سے متعلق صرف تجویز دی تھی کوئی قانون نہیں بنا تھا اور موجودہ قانون کے مطابق تو 342 حلقوں پر بھی الیکشن لڑا جا سکتا ہے۔‘

سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ماضی میں الیکشن کمیشن کی تجویز کو اس لیے مسترد کیا تھا کہ اس وقت صورت حال مختلف تھی۔ ’اس وقت ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ایک شخص کو ایک سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑنے سے روکنا اس شخص کی آزادی اور بنیادی حقوق سلب کرنے کے برابر ہوگا۔ اگرایک شخص کا اتنا قد ہے اور وہ ایک سے زائد حلقوں پر الیکشن لڑ سکتا ہے تو پھر بسم اللہ لیکن اس قانون کو دوبارہ دیکھا جا سکتاہے۔‘

پارلیمانی امور کے سینیئر صحافی اعجاز احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ماضی میں ویسے تو کئی امیدوار عام انتخابات میں مختلف حلقوں سے انتخاب لڑ چکے ہیں لیکن یہ تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ کوئی ضمنی انتخابات میں اتنی زیادہ نشستوں سے کھڑا ہوا ہو۔

حالیہ سیلاب کے بعد انتخابات کے موخر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

عمران خان نے 2018 کے عام انتخابات میں بھی بیک وقت پانچ نشستوں پر انتخاب لڑا تھا اور تمام نشستیں جیتیں لیکن بعد میں انہیں چار نشستیں خالی کرنی پڑیں جن پر دوبارہ انتخاب کروانا پڑا۔

اسی طرح علیم خان نے ان انتخابات میں سات سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے تین سے مقابلہ کیا۔ اس سے قبل مرحومہ بےنظیر بھٹو دو حلقوں سے بیک وقت انتخابات لڑ چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست