کوئی ہارا نہیں، ورلڈ کپ دونوں ٹیموں کو دینا چاہیے: نیوزی لینڈ کوچ

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دونوں نے فائنل میں 241 رنز بنائے، سوپر اوور میں بھی سکور برابر رہا، لیکن فاتح انگلینڈ بنی۔

جوس بٹلر ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائے ہوئے (اے پی)

نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گیری سٹیڈ نے کہا ہے کہ آئی سی سی کو نئے قواعد متعارف کروانے پر غور کرنا چاہے جن کے تحت فائنل میچ ٹائی ہونے کی صورت میں فائنلسٹ ٹیمیں ورلڈ کپ آپس میں شیئر کر سکیں۔

اتوار کو لارڈز سٹیڈیم میں کھیلے گئے کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سنسنی خیز فائنل میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے 50 اوورز کی اینگز میں 241 رنز سکور کیے تھے۔ سکور ٹائی ہونے پر ایک سوپر اوور کھیلا گیا جس میں پھر دونوں ٹیموں نے 15 رنز بنا کر سکور برابر کرلیا۔البتہ آخر کار میچ کی فاتح ٹیم انگلینڈ اس بنا پر قرار پائی کہ اس نے نیوزی لینڈ سے زیادہ چوکے لگائے تھے۔

ورلڈ کپ کے فاتح کا تعین کرنے کے اس طریقے نے کیوی شائقین، کھلاڑیوں اور کوچوں کو مایوس کیا۔ البتہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے جس مثبت انداز میں اس مشکل ہار کو تسلیم کیا اس کی تعریف بھی کی گئی۔

سابق امپائر سائمن ٹوفل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انگلینڈ کو ان کی اننگز کے اختتام پر ایکسٹرا رن دیا گیا جس سے ممکن ہے کہ میچ کے نتیجے پر اثر ہوا ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب گیری سٹیڈ سے پوچھا گیا کہ آیا دونوں ٹیموں کا ٹرافی کو شیئر کرنا زیادہ منصفانہ نتیجہ ہوتا تو انہوں نے کہاـ: ’جب آپ سات ہفتوں تک کھیلتے ہو اور آخری دن بھی اسی تسلسل کا حصہ ہوتا ہے ۔تو شاید اس کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ ورلڈ کپ میں ہوئی بہت سی باتوں میں سے یہ ایک بات ہے کہ جس پر غور کیا جاسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’سب کچھ ریویو ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے لیے اچھا وقت ہے۔‘

نیوزی لینڈ کے بیٹنگ کوچ کریگ مکمیلن نے اس بات پر زیادہ زور دیا کہ دونوں ٹیموں کو ٹورنامنٹ کا فاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا: ’اس سے میچ کا نتیجہ تو نہیں بدلے گا، لیکن یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ ایسے بڑے ٹورنامنٹ میں جب ٹیمیں سات ہفتوں تک کھیلتی ہیں اور اس کے آخر میں بھی 50 اوور کھیلنے اور سوپر اوور کھیلنے کے بعد بھی دونوں میں کوئی فرق نہیں آتا تو پھر اگر سکور کیے گئے رنز کو دیکھا جائے تو کوئی ٹیم اصل میں ہاری نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس صورت میں شائد ٹرافی کو شیئر کرنا ہی صحیح ہوگا۔ ایسا میچ میں نہیں ہوا جس سے ہم سب مایوس ہیں۔ مگر یہ کھیل ہے اور اس میں یہی قوانین ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ