ٹرانس جینڈر قانون: چند سوالات

پارلیمان میں اس طرح کی قانون سازی کے وقت انگریزی کا مسودہ اردو کے مسودے سے مختلف کیوں ہوتا ہے؟ ٹرانس جینڈرز کے قانون میں بھی ایسا ہی ہے۔ چنانچہ اب پارلیمان کے بعض اراکین شکوہ کر رہے ہیں کہ جو مسودہ ہمیں دیا گیا وہ اس سے مختلف ہے جسے قانون کا درجہ دیا گیا۔

کراچی میں ٹرانس جینڈرز نے 2019 میں بھی حقوق اور ملازمت کی فراہمی جیسے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنے کے لیے احتجاج کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ کالم نگار کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 

اس بات سے قطع نظر کہ ٹرانس جینڈر قانون پر تنقید میں کتنا وزن ہے، سوال یہ ہے کہ کیا قانون سازی ایسے ہوتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایک خرابی یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ اٹھتا ہے، ہمارے ہاں اہل علم فوراً عصبیت کی بنیاد پر مورچہ زن ہو جاتے ہیں۔ جو مذہبی رجحانات کے حامل ہیں وہ مذہبی طبقے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور جو سیکولر خیالات رکھتے ہیں وہ اپنا وزن سیکولر بیانیے کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔

اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاملے کو دلیل کی بنیاد پر جانچنے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ صف بندی معاشرے کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ معاملے کو سمجھنے اور اس پر رائے قائم کرنے کا رجحان سکڑتا جا رہا ہے۔

ٹرانس جینڈر قانون پر میں نے دانستہ کوئی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہر دو گروہوں کے موقف میں غلطی اور صحت دونوں کے امکان کو تسلیم کرتا ہوں۔

اس قانون کا متن اب زیر بحث ہے۔ جلد، یہ اپنی شرح کی خوبیوں اور خامیوں سمیت آشکار ہو جائے گا۔ تب تک متن کی بجائے کچھ اور سوالات پر غور کر لیتے ہیں۔ ان سوالات کا تعلق مشترکات سے ہے، یعنی یہ سوالات ان امور سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں آئینی بندوبست کی شکل میں اتفاق رائے کا درجہ حاصل ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ٹرانس جینڈرز کا قانون، قانون سازی کے ان آداب پر پورا اترتا ہے جو دنیا بھر کی پارلیمانی تاریخ میں متفق علیہ کی حیثیت رکھتے ہیں؟ یاد رہے کہ یہاں متن کی بات نہیں ہورہی، ابھی صرف طریقہ کار زیر بحث ہے۔

ن لیگ کی حکومت میں جب یہ قانون سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ اس دن کافی سارے سینیٹر کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ یہ ان کا ایوان بالا میں آخری دن تھا۔ کیا ایسے موقع پر عجلت میں بل پیش کر کے قانون سازی کرنا، ایک اچھی پارلیمانی روایت ہے اور کیا قانون سازی کے آداب یہی ہیں؟

یہی کام قومی اسمبلی میں ہوا۔ ن لیگ کی حکومت میں جس دن یہ بل وہاں پیش ہوا، سپیکر ایاز صادق صاحب نے کہا یہ ہمارا آخری سیشن ہے، پھر الیکشن ہوں گے اور ہم اس بل کو موخر نہیں کر سکتے۔ کیا قانون سازی یوں ہوتی ہے؟ اتنی عجلت کیا تھی؟

دوسرے سوال کا تعلق بعد میں عمران حکومت میں وزارت انسانی حقوق کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ میں داخل کیے گئے جواب کے پیراگراف نمبر دو سے متعلق ہے، جہاں لکھا گیا ہے کہ ہم نے اس قانون کے نفاذ سے قبل جن جن اداروں سے مشاورت کی، ان میں اسلامی نظریاتی کونسل بھی شامل تھی۔

سواال یہ ہے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون سے اتفاق کیا تھا؟ اگر اتفاق کیا تھا تو اس کا کوئی ثبوت؟ کوئی خط کوئی پریس ریلیز کوئی اعلامیہ کوئی چیز؟ بات واضح کیوں نہیں کی گئی۔ وزارت انسانی حقوق کے جواب میں یہ ابہام اتفاقی تھا یا دانستہ؟

تیسرا سوال بھی عمران حکومت کی وزارت برائے انسانی حقوق کے اسی جواب سے متعلق ہے۔ پیراگراف نمبر سات میں حکومت نے یوگیا کارٹا پرنسپلز (Yogyakarta Principles) کا حوالہ دیا۔

سوال یہ ہے کہ یوگیاکارٹا کے اصولوں کا پاکستان کی وزارت سے کیا تعلق؟ عمران حکومت کیا ’یوگیا کارٹا‘ اصولوں پر چلنے کی پابند تھی؟ کیا پاکستان نے کہیں کوئی ایسی ذمہ داری قبول کی ہوئی ہے کہ اس کے ملک کے قوانین ’یوگیا کارٹا‘ کے تابع ہوں گے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ یوگیاکارٹا تو واضح طور پر ہم جنس پرستی کے حق کو تسلیم کرنے کی بات کرتا ہے جب کہ پاکستان کے قانون میں یہ ایک جرم ہے۔

عمران حکومت کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت میں اس یوگیا کارٹا کا حوالہ دینا اپنے اندر جہان معنی رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوتھا سوال یہ ہے کہ کسی بین الاقوامی ضابطے کو اگر آپ کے ملک نے تسلیم ہی نہ کیا ہو اور وہ ضابطہ آپ کے آئین ہی سے متصادم ہو تو اس ملک میں بالادست حیثیت آپ کے آئین کی ہو گی یا اس ضابطے کی۔ دنیا میں اس طرح کے ضابطے بنتے رہتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں ان کی حیثیت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک انہیں قبول نہ کر لیا جائے یا وہ آفاقی اصول یا کسٹمری انٹر نیشنل لا کے طور پر قبول نہ کیا جا چکا ہو۔

یوگیا کارٹا کا حوالہ پاکستان کی عدالت میں کیسے دیا گیا اور کیا سوچ کر دیا گیا؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ عمران حکومت کے اس موقف کو ابھی تک عدالت سے واپس نہیں لیا گیا تو کیا اسے پی ڈی ایم حکومت کا موقف بھی سمجھا جائے؟ آئین کے احترام پر تو ہم سب کا اتفاق رائے ہے۔ سوال پھر یہ ہے کہ آئین کے درجن بھر آرٹیکلز کی فعالیت اور حرمت اس موقف سے مجروح نہیں ہو رہی؟

نیم خواندہ معاشرے میں جہاں شرح خواندگی کا معیار صرف اپنا نام لکھنا ہو، اصول یہ ہے کہ قانون سے لا علمی کوئی عذر نہیں۔ یہ اصول کامن لا میں تو قابل فہم ہے کیونکہ برطانیہ کے کامن لا کا مطلب ہی یہ ہے کہ قدیم انگلستان کے بادشاہوں کے دربار میں جو قوانین ’کامن‘ تھے وہ کامن لا کہلائے اور ان کی حیثیت عرف کی سی تھی اور ہر آدمی ان سے واقف تھا۔

لیکن پاکستان میں کتنے پارلیمنٹیرین ہیں جو انگریزی میں تیار کردہ مسودہ قانون کی فہم پر قدرت رکھتے ہیں؟ چنانچہ قانون بننے کے دو تین سال اس کی شرح پر میدان لگ جاتا۔

چھٹا سوال گویا یہ ہوا کہ اختلاف اور اتفاق کی یہ ساری مشق اس وقت کیوں نہیں ہوتی اور کیوں نہیں ہونے دی جاتی جب قانون بنایا جا رہا ہوتا ہے؟

ساتواں سوال یہ ہے کہ پارلیمان میں اس طرح کی قانون سازی کے وقت انگریزی کا مسودہ اردو کے مسودے سے مختلف کیوں ہوتا ہے؟ ٹرانس جینڈرز کے قانون میں بھی ایسا ہی ہے۔ چنانچہ اب پارلیمان کے بعض اراکین شکوہ کر رہے ہیں کہ جو مسودہ ہمیں دیا گیا وہ اس سے مختلف ہے جسے قانون کا درجہ دیا گیا۔ کیا سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ وضاحت فرمائیں گے کہ یہ اتفاق تھا یا اہتمام تھا؟

آٹھویں سوال کا تعلق ن لیگ اور تحریک انصاف کے اس غیر معمولی اتفاق رائے سے ہے۔ ن لیگ  ایک قانون متعارف کراتی ہے، تحریک انصاف اس کا دفاع فرماتی ہے۔ چلیں کوئی نکتہ تو ایسا ہے جس پر ن لیگ اور تحریک نصاف میں اتفاق ہوا۔

 یہ اتفاق مبارک ہو مومنین کے لیے!

یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مشتمل ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ