مفتاح یا نو مفتاح

مفتاح اسماعیل کی اسحاق ڈار سے تبدیلی سے مارکیٹ کو واضح پیغام ملے گا اور شاید روپے کی قدر میں فوری طور پر بہتری تو نہ آئے مگر مارکیٹ میں اعتماد واپس آئے گا۔

اسحاق ڈار صنعت کاروں سے مفادات کا ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے بہتر طریقے سے گفت و شنید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ خود صنعت کار نہیں ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے


پاکستانی معیشت اس وقت ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور سیلاب کی تاریخی تباہ کاریاں ان مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ ہماری معاشی مشکلات میں اشرافیہ کی نااہلیوں اور چیرہ دستیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اب اس میں موسمی تبدیلی کی وجہ سے سے قدرت بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی ہے۔

مخلوط حکومت کے اندرونی خلفشار اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی بےرخی معیشت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہی۔ بڑھتا ہوا بین الاقوامی افراط زر، عالمی امن کو روس یوکرین جنگ سے خطرات اور اس کے نتیجے میں اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں میں ناقابل یقین اضافہ، پاکستان کو تمام ممالک کی طرح بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان میں قیامت خیز سیلاب نے اس صورت حال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تمام مطالبات، جن کی وجہ سے ہم تاریخی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، ماننے کے باوجود معاشی بحران میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی مالی پالیسیاں ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔ ان کی معاشی سمت پر حکومت کے اندر بھی شدید بےچینی ہے اور ان کے اقدامات پر سخت تنقید بھی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اس وقت حکومتی جماعتوں کو عوام کے پاس جا کر اپنی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔ اس عوامی غم و غصے کے پیش نظر اور مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سےاب وزیرخزانہ کے تبدیل ہونے کی افواہیں سرگرم ہیں۔

مفتاح اسماعیل ایک قابل اور پڑھے لکھے ماہر اقتصادیات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت کامیاب صنعت کار بھی ہیں۔ وہ معیشت کی بہتری چاہتے ہیں اور اس کے لیے لگاتار محنت کر رہے ہیں۔ مگر ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان مسائل کو صرف کتابوں میں موجود معاشی اصولوں پر چلتے ہوئے حل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لیے ان اقدامات کا عام عوام پر بوجھ پڑنا ایک مجبوری ہے۔  عوام کو مدد دینے کے لیے بہت سے ممکنہ اقدامات ہو سکتے ہیں مگر یا تو آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے یا عوام کی مشکلات کی پروا کیے بغیر انہیں اپنا معاشی راستہ درست دکھائی دیتا ہے۔

چونکہ وہ خود صنعت کار ہیں تو ان کا اپنے ساتھی صنعت کاروں کے ساتھ بھی ہمدردانہ رویہ ہے اور وہ انھیں ٹیکسوں کی ادائیگی یا ملک میں اپنے وسائل کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے قاہل کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ انہیں اپنے بیرون ملک موجود سرمایہ کو بھی پاکستان واپس لانے کی کوششوں میں بھی کامیاب نہیں دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کے ساتھی صنعت کار ہیں تو وہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرح ان سے سختی سے نمٹنے سے اجتناب کر رہے ہیں کیونکہ وزارت کے بعد تو ان کا حلقہ احباب یہی صنعت کار ہوں گے۔

 ایک کتابی ماہر اقتصادیات کی طرح وہ مارکیٹ میں جارحانہ مداخلت کے بھی خلاف ہیں جس کی وجہ سے ڈالر مسلسل اوپر گیا ہے۔ ان کی نیت پر شک تو نہیں کیا جا سکتا مگر انہیں ڈالر کی اس اڑان سے عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور حکومت کے لیے اس کی سیاسی قیمت کا شاید اندازہ ہی نہیں ہو رہا۔ کیونکہ وہ ایک ٹیکنوکریٹ ہیں تو شاید انہیں حکومت کی سیاسی مشکلات سے غرض ہی نہیں۔

وزارت خزانہ کے پاس کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے بہت سارے راستے مہیا ہوتے ہیں مگر وزیر خزانہ نے روپے کو مارکیٹ کی طاقتوں کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ شاید ایک اچھی کتابی پالیسی تو ہو سکتی ہے مگر پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ روپے کی قدر کو مضبوط کرنے کے لیے معتدل مداخلت ضروری ہے اور شاید اسی وجہ سے اب سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو یاد کیا جا رہا ہے جن کے خیال میں روپے کو مضبوط کرنے میں کم اقتصادی نقصان ہوتا ہے مگر اس کو مارکیٹ کی قوتوں کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑنے سے بڑا معاشی نقصان وجود میں آتا ہے جو نہ صرف ملک کی معاشی بنیادوں پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ عام عوام کو غربت کی لکیر کے اور قریب لے آتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہت سارے ماہرین اقتصادیات سمجھتے ہیں کہ معتدل حکومتی مداخلت سے روپے کو استحکام اور اعتماد مل سکتا تھا۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ ہمارے پاس مارکیٹ میں مداخلت کے لیے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر موجود نہیں ہیں مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے باوجود سمجھ داری سے محدود مداخلت کے ذریعے اس برق رفتار گراوٹ کو روکا جا سکتا تھا۔ 

محدود حکومتی مداخلت سے مارکیٹ کو یہ پیغام جانا تھا کہ حکومت روپے کی قدر کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہے۔ مداخلت نہ کرنے کی پالیسی نے یہ واضح پیغام دیا کہ حکومت روپے کی مدد کو آگے نہیں آئے گی جس نے روپے کی قدر میں معاشی وجوہات کی وجہ سے کمی آنے کے علاوہ اس میں اعتماد کے فقدان کو بھی ہوا دی۔

وزیرخزانہ کی پالیسیوں کے جو نتائج آنے تھے وہ اب سب کے سامنے ہیں اور اس صورت حال کا مزید جاری رہنا ہماری معیشت کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا۔ اس وقت مارکیٹ میں اعتماد کی واپسی ضروری ہے اور درآمدات پر تقریباً مکمل پابندی نہ صرف ہماری صنعتوں کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ مجموعی ترقی کی شرح کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ صنعتوں کے بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گا جو موجودہ سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔

مفتاح اسماعیل کی اسحاق ڈار سے تبدیلی سے مارکیٹ کو واضح پیغام ملے گا اور شاید روپے کی قدر میں فوری طور پر بہتری تو نہ آئے اور نہ ہی معاشی اشاریوں میں مثبت تبدیلی آئے مگر مارکیٹ میں اعتماد واپس آئے گا۔ جب اسحاق ڈار 2013 میں وزیر خزانہ بنے تھے تو اس وقت بھی معیشت زوال پذیر تھی اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آ رہی تھی مگر ان کے اقدامات کے بعد نہ صرف مارکیٹ میں اعتماد واپس آیا بلکہ روپے بھی مستحکم ہوا۔ کاروبار میں بھی یقین کی فضا لوٹ آئی اور معیشت شدید سیاسی مشکلات بشمول 2014 دھرنا، ڈان لیک اور پاناما پیپرز کے باوجود 2017 تک پر اعتماد طریقے سے آگے بڑھی۔

سابق وزیر خزانہ کے مقابلے میں اسحاق ڈار صنعت کاروں سے مفادات کا ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے بہتر طریقے سے گفت و شنید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود صنعت کار نہیں تو یہ آسانی سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے اور اس میں اعتماد واپس لانے کے لیے سرمایہ کاروں سے بہتر طریقے سے معاملات طے کر سکیں گے۔ وہ روپے کی قیمت مستحکم کرنے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور توقع کی جا سکتی ہے کہ یقینا ایسے اقدام اٹھائیں گے جس سے روپے کی قدر میں استحکام آئے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ