2022 کی چھ بڑی سائنسی کامیابیاں جو دنیا بدل سکتی ہیں

دنیا میں ٹیکنالوجی پر جس تیزی سے کام ہو رہا ہے، اسی تیزی سے نئی دریافتیں اور ایجادات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

سائنسی میدان میں پیش رفت سے انسانی زندگیوں میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں (اے ایف پی)

دنیا کی نظریں آج کل سائنس اور ادب میں ہر سال دیے جانے والے نوبیل انعامات کے اعلانات پر ہیں۔

اس موقعے پر ذیل میں امریکی ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی فہرست کے مطابق جاری 2022 کی چھ بڑی سائنسی پیش رفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

 پاس ورڈ کا خاتمہ

کئی دہائیوں سے ہمیں آن لائن کام کرنے کے لیے پاس ورڈ کی ضرورت رہی ہے۔

توثیق کی نئی صورتیں آخر کار ہمیں ہمیشہ کے لیے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔

اب ہم ای میل کے ذریعے بھیجے گئے لنک، پُش نوٹیفیکیشن یا بائیومیٹرک سکین کا استعمال کر سکیں گے۔

نہ صرف یہ طریقے آسان ہیں بلکہ زیادہ محفوظ بھی ہیں۔ آپ کو اپنا چہرہ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

کووڈ کی ٹریکنگ

کرونا وبائی مرض کی وجہ سے جینومک سیکوئنسنگ میں بے مثال سرمایہ کاری کی گئی ہے اور ڈرامائی طور پر دنیا بھر میں اس قسم کی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

بہتر نگرانی نے سائنس دانوں کو کووڈ وائرس کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے اور نئی اقسام کے بارے میں فوری طور پر نشاندہی کرنے اور خبردار کرنے کی صلاحیت دی ہے۔

دیرپا گرڈ بیٹری

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم پہلے سے کہیں زیادہ قابل تجدید توانائی استعمال کر رہے ہیں، لیکن جب سورج غروب ہوتا ہے یا ہوا رک جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟

گرڈ آپریٹرز کو بعد میں بجلی ذخیرہ کرنے کا ایک دیرپا طریقہ درکار ہے۔

لوہے پر مبنی نئی بیٹریاں یہ مدد کر سکتی ہیں۔

یہ وافر مواد کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہیں اور گرڈ سٹوریج کی دیگر اقسام کے مقابلے میں سستی اور زیادہ عملی ہوسکتی ہیں۔

پروٹین کی ساخت معلوم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)

تقریباً ہر چیز جو آپ کا جسم کرتا ہے، پروٹین کی مدد سے کرتا ہے اور پروٹین کی کارکردگی کا انحصار اس کی پرتوں کے مخصوص طریقے سے تہہ ہونے پر ہوتا ہے۔ پروٹین کے کسی مالیکیول کی تھری ڈی ساخت کا پتہ لگانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

اب الفا فولڈ ٹو نامی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) نے اس دیرینہ حیاتیاتی پہیلی کو حل کیا ہے اور وہ پروٹین کے پیچیدہ مالیکیولز کی ساخت معلوم کر سکتا ہے، جو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس سے بیماریوں کی ایک وسیع رینج کے لیے ادویات کو تیزی سے ڈیزائن کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

ملیریا ویکسین

ملیریا سے ہر سال دنیا بھر بشمول جنوبی ایشیا میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ ملیریا کی ایک نئی ویکسین ہر سال لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ پیراسائٹ انفیکشن کے لیے دنیا کی پہلی ویکسین بھی ہے۔

کاربن اکٹھا کرنے کی فیکٹری

کاربن کے اخراج کو کم کرنا آب و ہوا کی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے لیکن اقوام متحدہ کے مطابق یہ کافی نہیں ہے۔

مستقبل میں تباہ کن گرمی سے بچنے کے لیے ہمیں ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی ہٹانا ہوگا۔

دنیا کی سب سے بڑی کاربن ہٹانے والی فیکٹری حال ہی میں آئس لینڈ میں کھولی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس