ایران امن بحال کرنے کے لیے کرائے کے فوجیوں کا سہارا لے سکتا ہے

امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے کرائے کے جنگجوؤں کو واپس بلانا ایرانی حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔


یکم اکتوبر کو روم میں مہسا امینی کی موت کے خلاف ہونے والا مظاہرہ (اے ایف پی)

جیسے جیسے شام میں بغاوت ختم ہو رہی ہے، پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایران کے کرائے کے جنگجو، بالترتیب زینبیون اور فاطمیون بریگیڈ، بغیر کسی شور شرابے کے اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے گئے ہیں۔

شاید یہ تمام مرد جسمانی معذوری اور نفسیاتی زخموں کی وجہ سے دوبارہ لڑنے کے قابل نہ ہوں، لیکن بہت سے اب بھی باقی ہیں۔

 میدان جنگ کے زخموں کی وجہ سے معذور ہونے والے افراد کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وہ دوسروں کو عظمت اور شہادت کے لیے صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔

چند درجن پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں جن سے پوچھ گچھ اور تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ عسکریت پسند چاہے ہتھیار نہ بھی اٹھائیں تو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایران کی انشورنس پالیسی ہیں۔

اس لیے سوال اٹھتا ہے کہ اگر حالات مولویوں کے لیے بد سے بدتر ہوتے چلے گئے تو ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ملک میں موجود ایران کے اثاثوں کا کیا ردِ عمل ہو گا؟ 

جیسا کہ دیگر مقبول عوامی تحریکوں کے معاملے میں دیکھا گیا، ایران کی سکیورٹی سروسز دلدل میں پھنس جائیں گی۔ افسران اور فوجیوں کو سخت احکامات کی تعمیل کرنی پڑے گی یا پھر اپنے عہدے چھوڑنا پڑیں گے۔

مؤخر الذکر صورت حال سے نظم و ضبط والی تنظیموں کے کمانڈ ڈھانچے میں اعتماد کا ایک سنگین بحران پیدا ہو جائے گا۔ مورال کم ہونا شروع ہو جائے گا، جس کی وجہ سے تنظیم کی ساکھ اور تاثیر میں کمی واقع ہو گی۔

غیر مسلح مظاہروں کی وجہ سے سکیورٹی کی صورت حال خانہ جنگی جیسی نہیں ہے، لیکن وہ انتہائی سول نافرمانی اور بدنظمی کی عکاسی کرتی ہیں۔

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں فوجی دستے تعینات کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ جھڑپوں میں اضافہ اور ناراض ایرانی عوام کو مزید مشتعل نہیں کرنا چاہتی۔

امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور افغانستان سے کرائے کے جنگجوؤں کو واپس بلانا ایرانی حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا زینبیون اور فاطمیون کے پیدل سپاہی ایرانی مظاہرین پر فائرنگ کے خلاف مذاحمت کریں گے؟ حیران کن جواب ہے نہیں۔

ان مردوں کو نام نہاد اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

غیر ملکی عسکریت پسندوں کی نظر میں باغی ایرانی کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ ’سامراجیوں‘ کے ایجنٹ ہیں یا کم از کم اپنے مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔  بصورت دیگر بےروزگار شدت پسند پرتشدد ردعمل دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زینبی اور فاطمی جنگجو داخلی امن و امان کی بحالی میں استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہیں، کیونکہ دونوں بریگیڈوں کی براہ راست کمان پاسدارانِ انقلاب کے افسران کے پاس تھی۔

 حوصلہ افزائی اور عزم کے باوجود، سنگین رکاوٹیں ہوں گی۔ فارسی میں مہارت کی کمی ان کی کمیونیکیشن اور صلاحیت کو متاثر کرے گی، خاص طور پر زینبیون جنگجوؤں کے لیے۔

شام میں گوریلا جنگجوؤں کا شکار ایرانی سڑکوں پر پولیسنگ اور پرامن مظاہرین کو تلاش کرنے سے مختلف ہے جو اپنی ہی گلیوں اور گھروں میں گم ہو جاتے ہیں۔

مقامی جغرافیہ اور مخصوص شہری پریشانیوں کے بارے میں ان کی سراسر لاعلمی ان غیر ملکی ’امن فوجیوں‘ کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔

 اگر مظاہرین نے انہیں پکڑ لیا تو غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کی تعیناتی سے نسلی بنیاد پر بھی غصہ بھڑک اٹھے گا۔

غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کو واپس بلانے سے ایرانی حکومت کا بدترین ڈراؤنا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہےاور وہ ہے تہران کی جانب سے طاقت کے بے تحاشا استعمال کا جواب۔

حزب اختلاف ہتھیار اٹھا سکتی ہے یا کچھ سکیورٹی اہلکار منحرف ہوکر اپنے ہتھیاروں سمیت مظاہرین میں شامل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ شام میں دیکھا گیا تھا۔ اگرچہ اس وقت یہ سب سے کم امکانی منظر نامہ دکھائی دیتا ہے، لیکن ایران کو مرکزی شہروں کے ساتھ ساتھ سیستان و بلوچستان، اہواز، کرد علاقوں اور آذری اکثریتی شمال مغربی صوبوں میں خونریز لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان حالات کو مکمل کنٹرول کرنے کے لیے دستیاب کسی بھی اور ہر اثاثے کے استعمال کی ضرورت ہو گی۔

اس انتہائی خراب صورت حال میں علما ہر قابل اعتماد اور تعلیم یافتہ شیعہ عسکریت پسند کو تعینات کرنے کا سہارا لیں گے۔

اگر ایران اپنے زینبیون کرائے کے فوجیوں کو دوبارہ فعال کرنے اور واپس بلانے کا انتخاب کرتا ہے تو پاکستان کا کیا ردِ عمل ہو گا؟ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں عدم استحکام کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے اور ایران میں بھی ایسی ہی صورت حال اس کی داخلی سلامتی کے لیے بہت خطرناک ہو گی۔

 یہاں تک کہ اگر عسکریت پسندوں کو زائرین کی آڑ میں بھی واپس بلا لیا جاتا ہے تو، پاکستان سفارتی چینلوں کے ذریعے سخت پیغامات جاری کرتے ہوئے، سرحد کو بند کرنے کا انتخاب کرے گا۔

طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت زیادہ محاذ آرائی کے انداز میں جواب دے سکتی ہے۔ یہ گروپ ایران کے فرقہ وارانہ ارادوں اور افغان علاقوں میں اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ کابل مزید انتہائی اقدامات کرسکتا ہے، جیسے ایران کی سرحد سے متصل اضلاع اور دیہاتوں میں پیشگی گرفتاریاں یا فوجی کارروائیاں۔

جاری احتجاج کسی بھی طرف جا سکتا ہے اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب ایرانی عوام پر اپنی آہنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے۔

ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا، لیکن یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک اپنے اداروں اور شہریوں کو اس کے مسلسل داخلی انتشار سے دور رکھ کر تہران کی بدامنی کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں۔

اس کالم کے مصنف ڈاکٹر محمد السلمی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایرانی سٹڈیز(رسانہ) کے صدر ہیں۔

اس سیکشن میں مصنفین کی طرف سے بیان کردہ خیالات ان کے اپنے ہیں اور ضروری نہیں کہ عرب نیوز کے نقطہ نظر کی عکاسی کریں

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر