ایران میں حالیہ احتجاج کی لہر ماضی سے کیسے مختلف ہے؟

اب جب کہ ایران میں احتجاج کا تازہ سلسلہ جاری ہے تو اس ماحول میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حالیہ احتجاجی تحریک گذشتہ احتجاجوں سے مختلف ہے، اور اگر ہے تو فرق کہاں ہے؟

یکم اکتوبر 2022 کو نیویارک میں ایران میں پکڑ دھکڑ کے خلاف مظاہرہ (اے ایف پی)

ایران میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جب بھی عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں اور مظاہرے کرتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا یہ مظاہرہ تہران حکومت کے خلاف ’اہم موڑ‘ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن جیسے ہی احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، ایرانی حکومت پرتشدد رویے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ مظاہرین کو شدید جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اب ایک بار پھر حکومت ظلم اور ناانصافی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اب جب کہ ایران میں احتجاج کا تازہ سلسلہ جاری ہے تو اس ماحول میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک گذشتہ احتجاجوں سے مختلف ہے، اور اگر ہے تو فرق کہاں ہے؟

اس سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ تازہ مظاہروں کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایران کے تمام شہروں میں مظاہروں کے دائرے کا تیزی سے پھیلنا، مظاہروں میں تمام اجزا اور نسلی اور مذہبی گروہوں کی موجودگی اور مہسا امینی کے قتل کے ردعمل میں حکومت کے لیے پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال کے ساتھ مظاہروں کا ایک ساتھ ہونا شامل ہے۔

ان حالات نے موجودہ احتجاج کو ماضی میں ہونے والوں مظاہروں سے بہت مختلف بنا دیا ہے۔

حکومت کے جبر سے تنگ آئے ایرانی عوام مظاہروں میں شامل ہونے کے لیے جلد تیار ہو گئے۔

مظاہروں میں خواتین کی بڑی اور متاثر کن موجودگی ہے۔

متعدد ایرانی خواتین جو اپنے آپ کو جبری حجاب کا شکار سمجھتی ہیں، مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج میں کیمرے کے سامنے شیو کرتی یا بال کاٹتی ہیں۔ دوسری کئی خواتین نے اپنے حجاب کو آگ لگا دی۔

احتجاج کے آغاز سے ہی مظاہرین ’آمر مردہ باد ‘ اور ’خامنہ ای مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری جانب خامنہ ای حکومت کی سکیورٹی فورسز متاثرین کی تعداد پر توجہ دیے بغیر احتجاجی تحریکوں کو دبانے کے لیے ہر طریقے اور تشدد سے کام لے رہی ہیں کیوں کہ ان کی واحد کوشش اس احتجاج کو ختم کرنا ہے جو روز بروز وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

مظاہروں کو دبانے اور مظاہرین کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے ایران کی حکومت نے بہت سی پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں جن میں انٹرنیٹ کی وسیع پیمانے پر بندش اور سکول اور یونیورسٹیاں بند کرنا شامل ہیں۔

اگرچہ ایران میں عوامی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں ہیں اور ان سے نمٹنے میں حکام کا ردعمل بھی نیا نہیں ہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ عوامی تحریک گذشتہ سالوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے زیادہ اہم ہو ثابت ہو سکتی ہے۔

احتجاج کا دائرہ پھیلنے کے ساتھ ہی تینوں مقتدر طاقتوں کے سربراہوں کا رات کے وقت بند کمرے میں اجلاس ہوا۔ اگرچہ ایرانی عوام کے ماضی کے مظاہرے ایران کی حکومت کے خلاف موجودہ تحریک میں جرات اور دلیری پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں، لیکن تازہ مظاہروں میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ماضی میں ہونے والے مظاہروں میں نہیں تھیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ موجودہ مظاہروں کی قیادت خواتین کر رہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان مظاہروں نے ایران کے تمام شہروں اور دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایران کی تمام سرکردہ شخصیات نے، جن میں سماجی کارکن، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے، فن کار، تاجر اور دیگر بااثر شخصیات شامل ہیں، ان مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور انہوں نے ذرائع ابلاغ اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات کی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ وہ شہری جو عام طور پر مظاہروں میں شرکت سے گریز کرتے ہیں انہوں نے بھی خواتین اور طلبہ کے ساتھ  یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ حالیہ مظاہرے لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ وابستگیوں کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات ان مظاہروں کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہسا امینی کا قتل وہ واقعہ تھا جس نے حالیہ مظاہروں کی پہلی چنگاری کو ہوا دی لیکن چند دنوں کے بعد مظاہرین کے نعرے اس معاملے سے آگے بڑھ گئے اور لوگوں نے آزادی کا مطالبہ کیا جسے خمینی/خامنہ ای حکومت نے مسترد کر دیا۔

ایسا اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ حکومت کی طرف سے اصلاحات متعارف کرانے سے انکار، سیاسی پابندیوں میں اضافہ، انفرادی اور سماجی آزادیوں میں کمی، گذشتہ چند دہائیوں سے بدعنوانی اور بدانتظامی کے تسلسل جیسے کئی عوامل نے لوگوں کے غصے کو ہوا دی۔

گذشتہ سال اگست میں تمام ممکنہ اصلاح پسند مخالفین پر پابندی اور ووٹروں کی تعداد میں تاریخی کمی کے ماحول میں ابراہیم رئیسی کو ایران کا صدر مقرر کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق گذشتہ صدارتی انتخاب ایرانی سیاست میں ’اعتدال پسند‘ شخصیات کو منظم انداز میں پیچھے دھکیلنے کی جانب ایک قدم تھا۔

دوسری جانب حکومت مخالف مظاہرے پھیل رہے ہیں جبکہ خامنہ ای علیل ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران اور امریکہ جے سی پی او اے (ایٹمی معاہدے) کو بحال کرنے کے لیے کسی اتفاق رائے پر پہنچ جائیں جس کا ملک کی موجودہ صورت حال پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔

ایک اور سوال جو ایران کے تازہ مظاہروں اور گذشتہ مظاہروں میں فرق کے بارے میں اٹھایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حالیہ ایرانی عوامی تحریک کے حوالے سے امریکہ اور مغرب کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا وہ ماضی کی طرح حالیہ مظاہروں کی اخلاقی حمایت سے مطمئن رہیں گے یا مزید آگے بڑھ کر سنجیدگی سے عوام کی حمایت کریں گے؟

کیا ہم امریکہ اور مغرب کو ایرانی عوام کے مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے دیکھیں گے یا عالمی برادری ایرانی عوام کے خلاف ایرانی حکومت کے پرتشدد رویے پر خاموشی اختیار کیے رکھے گی؟

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ