اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحد کے ’مکمل حقوق‘ حاصل کر لیے: لبنان

اسرائیل کا کہنا ہے کہ معاہدے کے لیے اس کی شرائط بھی تسلیم کر لی گئی ہیں۔

یہ تصویر لبنانی فوٹو ایجنسی دلاتی نے 11 اکتوبر 2022 کو فراہم کی ہے جس میں لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر اور مذاکرات کار الیاس بو صعب سمندری حدود کے معاہدے کا مسودہ لبنانی صدر میشال عون کے حوالے کر رہے ہیں (اے ایف پی / دلاتی)

سمندری حدود کے تعین کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے والی لبنانی ٹیم کے سربراہ الیاس بو صعب نے منگل کو کہا ہے کہ لبنان نے امریکی ثالثوں کے تیار کردہ معاہدے کے مسودے کے تحت ’مکمل حقوق‘ حاصل کر لیے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ معاہدے کے لیے اس کی شرائط بھی تسلیم کر لی گئی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاہدے کا مسودہ لبنان کے صدر میشال عون کے حوالے کرنے کے بعد پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر اور مرکزی مذاکرات کار الیاس بو صعب کا کہنا تھا:

’لبنان نے اپنے مکمل حقوق حاصل کر لیے ہیں اور اس کی تمام باتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ آج ہمیں ایسے حل پر پہنچنا ہے جس سے دونوں فریق مطمئن ہوں۔‘

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک نے پڑوسی ملک لبنان کے ساتھ مشترکہ سمندری سرحد پر مہینوں بعد ’تاریخی معاہدہ‘ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم یائر لپید نے کہا کہ ’یہ تاریخی کامیابی اسرائیل کی سکیورٹی کو مضبوط بنائے گی، اسرائیلی معیشت میں اربوں شامل کرے گی اور شمالی سرحد پر استحکام کو یقینی بنائے گی۔‘

اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے ساتھ ایک ’تاریخی معاہدے‘ کے قریب ہے اور معاہدے کے امریکہ کے تیار کردہ مسودے میں اس کے ’مطالبات‘ مان لیے گئے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے دونوں طرف معاہدے کے خیرمقدم کی امیدیں بڑھ گئی ہیں کیوں کہ کئی سال جاری رہنے والے مذاکرات بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

معاہدے سے نقد رقم کی کمی کے شکار لبنان کو ممکنہ طور پر منافع بخش آف شور گیس کے ذخائر کو ترقی دینے کا موقع ملا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بو صعب نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 31 اکتوبر کو صدر عون کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل باضابطہ طور پر حالت جنگ میں ہیں اور ان کی زمینی سرحد پر اقوام متحدہ کے امن دستے گشت کر رہے ہیں۔

دونوں ملکوں نے 2020 میں اپنی سمندری حدود پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے لیکن یہ عمل لبنان کے اس مطالبے سے تعطل کا شکار ہو گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مذاکرات میں استعمال کیے گئے نقشے میں ترمیم کی جائے۔

اس سے پہلے اسرائیل اپنا بحری جہاز کارش کے آف شور گیس فیلڈ کے قریب لے گیا تھا۔

معاہدے کے امریکی متن کو عام نہیں کیا گیا ہے لیکن پریس کو لیک ہونے والی شرائط کے تحت پوری کارش گیس فیلڈ اسرائیلی کنٹرول میں آ جائے گی جب کہ ایک اور ممکنہ گیس فیلڈ قانا تقسیم ہو جائے گی لیکن اس کا استعمال لبنان کے کنٹرول میں ہو گا۔

فرانسیسی کمپنی ٹوٹل انرجیز کو قانا فیلڈ میں گیس کی تلاش کے لیے لائسنس دیا جائے گا اور اسرائیل کو مستقبل کی آمدنی میں حصہ ملے گا۔

بو صعب کا کہنا تھا کہ لبنان ’قانا گیس فیلڈ سے اپنے مکمل حقوق حاصل کرے گا‘ اور اسرائیل کو ٹوٹل انرجیز کے ذریعے معاوضہ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں دشمن ریاستوں کے درمیان گیس کی تلاش یا اس کے استعمال میں کوئی براہ راست شراکت داری نہیں ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا