اسرائیلی دوروں پر ریاستی ابہام

بار بار پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر ریاستی عناصر کے اسرائیل جانے آنے کی اطلاعات، نت نئی باتیں اس معاملے میں مسلسل بے معنی قرار نہیں دی جا سکتیں۔

شرکہ نامی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ پاکستانی وفد کی تصویر (شراکہ/ ٹوئٹر)

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر تیزی آ گئی ہے۔ مختلف ممالک کے ’ریاستی عناصر‘ متحرک ہو چکے ہیں جبکہ ’غیر ریاستی عناصر‘ بھی میدان میں اتارے جا چکے ہیں۔

ماضی میں ’غیر ریاستی عناصر‘ کی اصطلاح صرف مسلح جنگجوؤں کے لیے استعمال ہوتی تھی جنہیں جنگی نوعیت کی ’پراکسیز‘ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اب ان کی جگہ ’غیر جنگی پراکسیز‘ کے لیے غیر مسلح ’غیر ریاستی عناصر‘ کو متحرک کیے جانے کا رجحان غالب آ رہا ہے۔

یقیناً یہ ’غیر ریاستی عناصر‘ بعض ریاستوں کے لیے وہ کام کر دکھاتے ہیں جو ریاستیں خود کریں تو انہیں کئی طرح کے رد عمل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس پس منظر میں کافی زیادہ تعداد میں انسانی وسائل و افرادی قوت کے علاوہ غیر حکومتی تنظیموں کی دستیابی ممکن ہو گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سرگرم ہونے والے یہ ’غیر ریاستی عناصر‘ کون ہیں؟ انہیں کون متحرک کرتا ہے؟ اس بارے میں ذکر ذرا بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے اس غیر معمولی پیش رفت کا تذکرہ ضروری ہے جو مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے پس منظر میں 20 برس کے وقفے کے بعد سعودی عرب نے از سر نو بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے 2002 میں جو منصوبہ پیش کیا تھا اس کی اہم ترین بات یہ ہے کہ اسے تمام عرب دنیا اور مسلم دنیا سمیت فلسطینیوں نے بھی اسی وقت تسلیم کر لیا تھا۔ بلاشبہ ایک مقامی مسئلے کا ادراک مقامی اور عرب دنیا یا مسلم دنیا میں ہو سکتا تھا۔ اس لیے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم کے اس ویژن کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ اس سے مشرق وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر کی مداخلت کا امکان بھی کم کیا جا سکتا تھا۔

یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نہ صرف امریکہ اور اس کے ہمنوا دیگر یورپی ممالک مشرق ’نان مڈل ایسٹ ایکٹرز‘ (وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر) ہیں بلکہ خود اسرائیل بھی ایسا ہی ایک عنصر ہے۔ یہ ایک اجنبی کاشت پودا ہے۔ اسے یورپی ممالک کی تلچھٹ بھی کہا جا سکتا ہے، یہ اگر مقامی لوگوں پر مشتمل نہیں ہے۔

اسرائیلی قبضے کو یقینی بنانے کے لیے یہودی تنظیمیں، جنہیں آج کی اصطلاحات میں دہشت گرد سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا، ان سے لے کر ناجائز قابض اسرائیلی ریاست کے حکمران بننے والے ابتدائی برسوں کے تقریباً سارے لوگ نہ صرف دہشت گرد یہودی تنظیموں کے بانی مبانی اور عہدیدار تھے بلکہ شرق اوسط کے لیے اجنبی بھی تھے۔

اسرائیل کی موجودہ آبادی میں ایک بڑی تعداد انہی یہودیوں پر مبنی ہے جن کا آبائی علاقہ کوئی اور ہے مگر قابض اسرائیلی اتھارٹی نے انہیں محض اس لیے لا کر فلسطین کی زمین میں بسا دیا کہ فلسطینی آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے۔ نہ صرف یہ بلکہ فلسطینیوں کی شناخت بھی بدل سکے۔ رہی بات امریکہ اور یورپی ممالک کی تو وہ تو اسرائیلی یہودیوں کی طرح ہی نان مڈل ایسٹ ایکٹرز ہیں۔ اس منظر نامے میں مملکت کا پیش کردہ 2002 کا عرب امن منصوبہ یقیناً ایک بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کا اپنے 20 سال پرانے امن منصوبے کی بات کرنا خوش آئند سمجھا جا سکتا ہے۔

سعودی امن انیشیٹو ان معنوں میں بھی ایک بہتر انتخاب ہو سکتا ہے کہ اس پر نان مڈل ایسٹ ایکٹرز کے علاوہ تقریباً سبھی کا اتفاق ہے حتیٰ کہ او آئی سی کے رکن ممالک کا بھی اس پر اتفاق ہے۔ صرف امریکہ، یورپ اور اسرائیل کا اس پر اتفاق نہ تھا اس لیے امریکہ نے اپنا منصوبہ پیش کیا جسے آج معاہدہ ابراہم کا نام دیا جاتا ہے۔

اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ کیا وجہ ہوئی کہ امریکہ نے سعودی عرب کا پیش کردہ ایک متفق علیہ قسم کا امن منصوبہ اختیار کرنے یا اس کو آگے بڑھانے کی بجائے اپنا فارمولا پیش کر دیا تو فطری سی بات ہے، اسے مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی عزائم اور اسرائیل نوازی کے علاوہ کچھ نہ کہا جا سکے گا۔

اس کی ایک وجہ اس سے پہلے امریکی نگرانی میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدے بھی ہیں کہ دونوں میں پیش نظر مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل یا مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ہرگز نہ تھا بلکہ اسرائیل کا بچاؤ اور تحفظ تھا اور اسرائیلی بالادستی تھی۔

اس ماحول میں سعودی عرب کا اپنے 20 سال پرانے امن منصوبے کی بات کرنا خوش آئند سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر کی سرگرمیاں دیکھ کر ہر ذی شعور کا ماتھا ضرور ٹھنکتا ہے۔

سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر اور ناراض کر کے خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ جسے امریکہ اور اسرائیل ’نارملائزیشن‘ کا نام دے رہے ہیں اس سے کوئی بڑا تنازع اس خطے کے لیے جنم  لے سکتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سعودی عرب نے اپنے امن منصوبے کو بحال کرکے خطے میں حقیقی امن اور تنازعے کے منصفانہ حل کی بنیاد رکھ دی۔ تاہم لازم ہے کہ امریکہ خود اپنے مشرق وسطیٰ کے بارے میں پیش کردہ تصورات سے دستبرداری کر کے مسئلے کے مقامی حل کا موقع دے۔

یہی راستہ ہے کہ خطے کے ممالک کی غالب آبادی بشمول فلسطینی جنہوں نے 75 سال مشکلات ومصائب کے دیکھے ہیں وہ بھی نارمل زندگی میں کی طرف آ سکیں۔ نارملائزیشن کی اگر کسی کے لیے ضرورت ہے تو وہ فلسطینی عوام ہیں جنہیں ان کی سرزمین پر معمول کی زندگی کا حق ملنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اس بات کو کہیں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ فلسطینی اگر مضطرب اور پریشان ہیں تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پر اضطرابی ماحول کو جنم دیں گے۔

قبلہ اول کو اسرائیلی کنٹرول میں دیے جانے کے مضمرات سے بھی سعودی عرب، اردن اور خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ کوئی آگاہ نہیں ہو سکتا کہ قبلہ اول کی دینی حیثیت، اس کی حفاظت کے تقاضے اور اس میں دیا جلائے رکھنے کی پیغمبر اسلام کی ترغیب اس بات کی متقاضی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی ایسا حل قبول نہ کیا جائے جو بالآخر مسلمانوں کے قبلہ اول کو یہودی معبد بنانے کا باعث بنے۔

اسرائیل بجائے خود ایک ’ابنارمل‘ شناخت ہے۔ اس کی آبادی کا بڑا حصہ غیر معمولی طریقے سے آباد کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے لیے نارملائزیشن کا مطالبہ تعجب انگیز ہے۔

مملکت کا پیش کردہ عرب امن منصوبہ کہیں زیادہ اس امر کا مستحق ہے کہ اسے عملی شکل دینے کے لیے اقوام متحدہ، او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر عالمی تنظیمیں، ادارے اور فورم اپنا کردار ادا کریں۔ اسی کے بدولت فلسطین مزاحمت کار نارمل زندگی میں لوٹ سکیں گے اور یہی راستہ ہے کہ ایران یا کسی اور ملک کو اپنی ’پراکسیز‘ بنانے سے روکا جائے۔

ایک اور اچھی پیش رفت الجزائر کے حالات سے ہوئی ہے کہ اس نے بھی فلسطینی تنظیموں کو ایک میز پر بٹھانے کی نوید سنائی ہے۔ اکتوبر کے شروع میں ایک بار پھر فلسطینی باہمی اختلاف کے خاتمے کے لیے بیٹھیں گے۔

بلاشبہ 2006 سے بھی پہلے سے ان اختلافات کی جڑیں موجود ہیں۔ ایک مشکل مرحلہ ہو گا مگر جو فلسطینی اسرائیل یا کسی اور غیر فلسطینی شناخت حتیٰ کہ ’نان مڈل ایسٹرن ایکٹر‘ کے ساتھ چل سکتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ انہیں فلسطینیوں کے اکھٹے اور متحد ہونے کی طرف قائل نہ کیا جا سکے۔

اس میں بنیادی اصول قبلہ اول کی آزادی، فلسطینی سرزمین کی آزادی، فلسطینیوں کے حق کی واپسی، اسرائیلی قید سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے علاوہ دیوار برلن کی طرح فلسطینیوں کو باہم تقسیم کر دینے والی نسلی امتیاز کی مظہر اسرائیلی دیوار کو گرانے پر متفق نہ ہوں۔

ایک اور دلچسپ پیش رفت بھی رواں ہفتے منگل کو منظر عام پر آئی ہے۔ اس میں پاکستان اور انڈونیشیا کا ذکر ہے اور اس اطلاع یا پیش رفت کا انکشاف اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے کیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے جن امور، واقعات یا اقدامات کا تعلق پاکستان کے حوالے سے ہوتا ہے وہ باالعموم غیر ملکی میڈیا میں پہلے آتی ہیں۔ بعد ازاں پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ان خبروں کی جوگالی کرتا ہے۔

پاکستان کا دفتر خارجہ اور حکومت ہمیشہ اس کی گول مول سی روایتی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک رٹی رٹائی طوطا کہانی کی طرح۔ جس پر اعتبار کریں تو نقصان، نہ کریں تو نقصان۔ اگرچہ حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری بھی اسرائیلوں سے ملاقاتوں کا فیض پا چکے ہیں۔

’یروشلم پوسٹ‘ کا انکشاف انڈونیشیا اور پاکستان کے شہریوں کے وفود کے حوالے سے ہے جو ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ پاکستان اور انڈونیشیا میں کئی شعبوں میں مماثلت ہے اور کئی باتیں مختلف ہیں۔ دونوں آبادی کے اعتبار سے باہم ’مقابلے‘ کی فضا میں رہ چکے اسلامی ممالک ہیں۔

جکارتہ اور اسلام آباد سعودی عرب کے علاوہ امریکہ کے بھی بہت قریب ہیں۔ دونوں کے ہاں اپنے اپنے معاشی و دیگر مسائل رہتے ہیں۔ دونوں کے جذباتی عوام سڑکوں پر قبلہ اول سے محبت کا اظہار ’القدس لنا‘ کے فلک شگاف نعرے لگا کر کرتے ہیں۔

اس لیے دونوں کے ’وفود‘ کا ایک ہی وقت میں اسرائیل میں موجود ہونا اہم ہے۔ انڈونیشیا اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کس حد تک جا سکتا ہے؟  اس سوال سے زیادہ اہم پاکستان کا معاملہ ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان اور اس کے رہنے والوں کی سوچ کئی پہلوؤں سے اہم رہی ہے۔ یہ ایک جوہری اسلامی ملک بھی ہے۔ کیا یہ بھی فلسطینیوں کے لیے ’بروٹس‘ بننے جا رہا ہے؟

بار بار پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر ریاستی عناصر کے اسرائیل جانے آنے کی اطلاعات، نت نئی باتیں اس معاملے میں مسلسل بے معنی قرار نہیں دی جا سکتیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اجمل قادری سے لے کر میڈیا سے تعلق رکھنے والے احمد قریشی اور اب مشرف دور کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ اور نائب وزیر کے عہدے پر فائز رہنے والے نسیم اشرف کے ایک بڑے وفد کے ساتھ اسرائیل جانے کی خبر اہم ہے۔ 

افراد کے علاوہ بین المذاہب مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے فورمز بھی مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے غیر ریاستی عناصر کے طور پر کود چکے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان سب کی امن کوششوں کا انتساب اسرائیل سے شروع ہو کر اسرائیل پر ختم ہو جاتا ہے۔ قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سب ’وایا بٹھنڈہ‘ ہی اسرائیل کیوں پہنچتے ہیں؟ انہیں وہاں تک رسائی کی سہولت امریکہ ہی کیوں دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی شہری ہونے کے باوجود اسرائیل میں انہیں کبھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا؟ 

اس سے بھی اہم بات یہ کہ خود پاکستان کی حکومت، ریاست اور ادارے ان کے بارے میں کبھی تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں نہ کسی شک میں۔ کبھی کسی سے باز پرس کی گئی نہ ڈی بریفنگ کے عمل سے گزارا گیا۔ کہ ’چناں کتھے گذاری ائی رات وے؟‘

غیر ریاستی عناصر میں یہ لوگ سفارتی رابطہ کاری اور برف پگھلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کا میڈیا بھی ایک بڑے ’نان سٹیٹ ایکٹر‘ کے طور پر سامنے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اہم ترین مانے جانے والے میڈیا ہاوسز پاکستانی عوام کے اعتقادات، نظریات، تصورات، رجحانات، معاملات اور مفادات سے الگ راستے پر چلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام بھی ان ’مین سٹریم‘ میڈیا ہاوسز کے خیالات اور معاملات کو اپنے سے دور سمجھنے لگے ہیں۔ 

یہ ابلاغی ادارے اور ان میں بوجوہ اہم قرار پانے والی کئی اہم  شخصیات سب غیر ریاستی عناصر کا روپ دھار چکے ہیں۔

اس لیے یہ اسرائیل جائیں یا انڈیا کے ساتھ ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ کی چھاؤں میں کردار ادا کریں۔ مقصد اور منزل ایک ہی ہے کہ جو کام حکومت اور اس کے ادارے نہ کر سکیں، اس کام کے لیے یہ دستیاب ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا