مصطفیٰ زیدی: کوہِ ندا کا مسافر

مصطفیٰ زیدی کی زندگی اور موت دونوں کے ساتھ ایسے اسرار لپٹے ہوئے ہیں جن کو کھولنے کی تمام کوششیں آج تک حسرتِ ناکام ہی رہی ہیں۔ ان کی شاعری پر تنقیدی اور تجزیاتی کام ویسے نہیں کیا گیا، جیسی حریصانہ دلچسپی سے ان کی موت کا چسکے دار تذکرہ ہوتا رہا ہے۔

مصطفیٰ زیدی اپنی جرمن بیوی ویرا فان ہل اور بچوں کے ہمراہ (پبلک ڈومین)

ماہِ اکتوبر کا دوسرا ہفتہ شروع ہوتے ہی بدلتے موسم کی نئی ہوا کے ساتھ ایک ایسے شاعر کی یاد پہلو بدلتی ہوئی آتی ہے جو اسی مہینے اس دنیائے فانی میں آیا اور تقدیر کے کارن اسی مہینے اس جہانِ فانی سے چلا بھی گیا اور وہ بھی محض 40 سال کی عمر میں۔

لیکن اس جواں مرگ کی زندگی اور موت دونوں کے ساتھ ایسے اسرار لپٹے ہوئے ہیں جن کو کھولنے کی تمام کوششیں آج تک حسرتِ ناکام ہی رہی ہیں، دوسری طرح کی کاوشیں جو کامیاب ہو سکتی تھیں لیکن نہیں کی گئیں وہ ان کی عمدہ شاعری پہ ہونے والا تنقیدی اور تجزیاتی کام ہے جو ویسی دل جوئی اور توجہ سے نہیں ہوا، جیسی حریصانہ دلچسپی سے ان کی موت کا چسکے دار تذکرہ ہوتا رہا ہے۔

دس اکتوبر 1930 سے 12 اکتوبر 1970 تک اس دھرتی پر سانس لینے والے مصطفیٰ زیدی نے شاعری کے قدر دانوں کو اپنی زندگی میں چھ شاندار مجموعے عطا کیے۔ زنجیریں، روشنی، شہرِ آذر، موج میری صدف صدف، گریبان اور قبائے ساز۔

ان کی موت کے بعد شائع ہونے والا ساتواں مجموعہ ’کوہِ ندا‘ جو مجھے ذاتی طور پر اپنے دل کے زیادہ قریب لگتا ہے، ان کتابوں میں سے ہے جن میں صرف لفظ کا بدن نہیں بلکہ روح بھی بولتی ہے۔

آخری کتاب کا پیش لفظ پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ کتاب کا نام شعوری طور پر رکھا گیا کیونکہ لکھنے والے کو ادراک ہو گیا تھا کہ وہ کوہِ ندا کی جانب سفر کا آغاز کر چکا ہے۔

ایہنّاس چلو کوہِ ندا کی جانب

یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوہِ ندا اسے سالم نگلنے کے لیے بلا رہا ہے، وہ

’یا اخی‘ کی پکار پہ چل پڑا اس راستے پر جہاں سے واپسی کی کسی کو بھی اجازت نہیں۔

الہ آباد انڈیا کے جوشیلے نظم گو، نوجوان تیغ الہ آبادی سے پاکستان کے مستند شاعر اور بیوروکریٹ مصطفیٰ زیدی تک کے سفر میں کتنے پڑاؤ آئے، اس بارے میں قیاس آرائیاں زیادہ اور حقیقت کی کھوج کا عنصر کم ہے۔

جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھ پوری جیسے بڑے سائبانوں تلے سایۂ شفقت حاصل کرنے والے مصطفیٰ نے بہت جلد اپنا منفرد رنگ جما بھی لیا اور منوا بھی لیا۔

مصطفیٰ زیدی ایسا شاعر ہے جس کی نظم اور غزل دونوں پراثر ہیں اور پڑھنے والے کے دل و دماغ پہ یکساں گرفت رکھتی ہیں۔

ایسی شاعری جس کے کئی اشعار پہ مقالوں کے مقالے لکھے جا سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ شاعر کی شاعرانہ عظمت اور دانشورانہ خیالات کے بجائے تحریر یا گفتگو کا دھارا شہناز کی خوبصورتی، رقابت، سمگلنگ، بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ اور جواں مرگ شاعر کی پراسرار حالت میں ہونے والی درد ناک موت کی طرف مڑ جاتا ہے اور یوں شاعری کی بات بیچ میں رہ جاتی ہے۔

نتیجہ یہ کہ ان باکمال شعروں اور مصرعوں کا تجزیہ نہیں کیا جاتا جن پر گہری سوچ اور بلند خیالی کا آہنگ نمایاں ہے، جو کلاسک اور جدید شاعری کے سنگم پہ بہت بڑا سنگِ میل ہے۔

کیا جانیے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہمسفری بھی

صہبائے تند و تیز کی حدّت کو کیا خبر

شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا

قدموں کو شوقِ آبلہ پائی تو مل گیا

لیکن بقدرِ وسعتِ صحرا نہیں ملا 

یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جانکنی کب تھا

جلے اک شمع پر ہم بھی مگر آہستہ آہستہ

اور یہ مصطفیٰ زیدی ہی تھے جنہوں نے نئے لیکن عام فہم الفاظ غزل اور نظم میں پہلی بار بے مثال لہجے میں استعمال کیے۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

یا پھر وہ اپنی نظم ’پاگل خانہ‘ میں کہتے ہیں:

عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں

عقل والوں کے گھرانوں میں پیمبر کے لیے

تخت اور تاج تو کیا، بنچ اور سٹول نہیں

کچھ قدر دانوں کا خیال ہے کہ اگر عابدہ پروین نے ’آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا‘ اسد امانت علی نے ’کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے‘ اور مسرت نذیر نے ’چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ‘ نہ گائی ہوتیں تو شاید مصطفیٰ زیدی کی بحیثیت غزل گو شاعر عام لوگوں تک اتنی رسائی بھی نہ ہوتی، کیونکہ مصطفیٰ زیدی کے زمانے میں بااختیار ناقدین سامراج پرست تھے۔

ان دنوں ادب کے افق پر دائیں بازو کے رجعت پسند چھائے ہوئے تھے اور وہ مارشل لا کے خلاف نظمیں کہنے والے روشن خیال مصطفیٰ زیدی کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔

یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ جوش ملیح آبادی کے رنگ سے متاثر مصطفیٰ زیدی پہلے دبنگ مزاحمتی نظمیں کہتے رہے لیکن بعد میں غزل کی نیم نگاہی کے قائل بلکہ گھائل ہو گئے اور سامراج کو للکارتی نظموں کے ساتھ ساتھ ان کی منفرد غزل نے انہیں عام قدر دانوں میں مقبولیت کی وہ بلندیاں عطا کیں جو بہت کم شاعروں کے حصے میں آئی ہیں۔

ذکر ہو رہا تھا آخری دیوان ’کوہِ ندا‘ کا، جس کے دیباچے میں مصطفیٰ زیدی نے خود لکھا ہے کہ یہ ان کا آخری مجموعہ ہے۔ محض 39 سال کی عمر میں ایک انتہائی ذہین بیوروکریٹ اور اعلیٰ شاعر اپنے ساتویں مجموعے کی اشاعت سے پہلے کیوں کہہ رہا ہے کہ یہ ان کا آخری مجموعہ ہے؟

کیا انہیں اپنی موت کی آہٹ سنائی دے رہی تھی؟ یا پھر دو دسمبر 1969 کو لکھے گئے پیش لفظ کے مطابق طاقت ور نقادوں کی اعلیٰ اور معیاری شاعری کو مستقل نظر انداز کرتے رہنے کی تکلیف، شاعری سے کنارہ کش ہونے کی بنیاد بنی، یا پھر اس دور میں بائیں بازو سے ہمدردی رکھنے والے 303 سرکاری افسران کو سائڈ لائن کر کے اذیت دینے کی سزا ان کے ذہنی دباؤ کی وجہ بنی یا پھر مجموعی صورتِ حال نے ان کی دلچسپی شاعری اور زندگی سے ختم کر ڈالی جو بالآخر ان کی جان لینے یا اپنی جان بچانے کی کوشش نہ کرنے کی وجہ بنی؟

ان سوالات کے جوابات تو اس وقت بھی کسی کے پاس نہیں تھے اور آج آدھی صدی گزرنے کے بعد بھی کسی کے پاس نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

البتہ کوئی جواب تلاش کرنے کی کوشش کرنے اور کرتے رہنے پہ کوئی پابندی بھی نہیں۔ کسی بھی واقعے یا سانحے کو اس کے وقوع پذیر ہونے والے وقت اور حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

یہ 1970 کا دور ہے۔ پاکستان میں یحییٰ خان کا دور اور بین الاقوامی سطح پر دائیں اور بائیں بازو کی چپقلش کا دور جس میں سوویت روس میں کمیونزم کا عروج اور باقی دنیا پر اس کے بڑھتے ہوئے اثرات امریکی سامراج کے لیے دردِ سر بنے ہوئے تھے اور خطے میں سوشلزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے نمٹنے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال ہو رہا تھا۔

فیض احمد فیض، سجاد ظہیر کے خلاف مقدمات اور حسن ناصر کو شاہی قلعے میں اذیتیں دے کر جان سے مار دینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

اس وقت کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے مصطفیٰ زیدی سمیت جن 303 سرکاری افسران کو کھڈے لائن لگانے کے احکام جاری کیے، ان کے خلاف بھی سامراج مخالف خیالات رکھنے کے الزامات تھے اور مصطفیٰ زیدی کا تعلق بھی انہی لوگوں سے تھا جو اپنی روشن خیالی کے ہاتھوں تاریک راہوں میں مارے گئے۔

لوگوں کی ملامت بھی ہے، خود دردِ سری بھی

کس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھی

کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی

دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں

’کوہِ ندا‘ کو اشاعت سے پہلے ہی اپنا آخری مجموعہ قرار دینے کی وجوہات لکھتے ہوئے وہ خود کہتے ہیں کہ ’پذیرائی کے بغیر ہمیشہ ہمیشہ شعر لکھتے رہنا ناممکن ہے۔‘

مایوسی کی انتہا پہ وہ کہتے ہیں کہ انہی دنوں وزیر آغا کی کتاب میں کئی سو شاعروں کی فہرست شائع ہوئی جس میں مصطفیٰ زیدی کا نام تک نہیں تھا تو ان کا دل ٹوٹ گیا۔

آج مصطفیٰ زیدی کی شاعرانہ عظمت کو کسی فہرست میں جگہ ڈھونڈنے ضرورت تو نہیں رہی لیکن ان کی شاعری کے علمی اور ادبی پہلو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت لازمی موجود ہے اور یہ کام آج کے نقاد اور محقق کو نہ صرف ادب کی خدمت کے لیے بلکہ موجودہ اور آنے والے زمانوں کو مستفید کرنے کے لیے بھی کرنا چاہیے ورنہ مصطفیٰ زیدی کے نام کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ جانے سے پہلے اندر کے بھید کو پا گئے تھے۔

اپنی ہی ذات میں پستی کے کھنڈر ملتے ہیں

اپنی ہی ذات میں اک کوہِ ندا رہتا ہے 

صرف اس کوہ کے دامن میں میسر ہے نجات

آدمی ورنہ عناصر میں گھرا رہتا ہے

اور پھر ان سے بھی گھبرا کے اٹھاتا ہے نظر

اپنے مذہب کی طرف، اپنے خدا کی جانب

ایہناس چلو کوہِ ندا کی جانب 

اور اب حرفِ آخر کے طور پر ایک بات جس کا ذکر نہ کیا تو دل میں ایک خلش سی رہ جائے گی۔ ذاتی حیثیت سے مصطفیٰ زیدی کے ساتھ میرا پہلا تعلق تو وہ ہے جو ایک سخن فہم کا کسی اعلیٰ شاعر سے بنتا ہے، دوسرا تعلق وہ جو ایک حساس شاعر کا دوسرے حساس شاعر سے جڑتا ہے اور تیسرا بالکل ذاتی نوعیت کا تعلق یہ ہے کہ مصطفیٰ زیدی اپنے آخری عہدے میں بطورِ ڈپٹی سیکریٹری بنیادی جمہوریت ضلع لاہور تعینات تھے اور سرکاری دورے پر چونیاں تشریف لاتے تھے تو میرے والد رانا عبدالحمید ان کا سرکاری حیثیت سے استقبال کرتے تھے جو اسی محکمے میں ملازم تھے۔

میرے مرحوم والد ان کے اخلاق اور شخصیت سے بہت متاثر تھے اور اکثر ان کا ذکر کرتے اور شعر پڑھتے رہتے تھے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے والد کا جنم دن بھی دس اکتوبر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ