آفیشل آیا اور گیا: ’ٹوئٹر احمقانہ حرکتیں کرتا رہے گا‘

ٹوئٹر کے مطابق آفیشل لیبل اس لیے لایا جا رہا ہے تاکہ اس سے واضح ہو سکے کہ یہ مصدقہ اکاؤنٹس ہیں۔

یہ السٹریٹڈ تصویر 4 اکتوبر 2022 کو لی گئی تھی جس میں ایک فون کی سکرین پر ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پس منظر میں ٹوئٹر کا پرندہ واضح ہے (اے ایف پی)

ایلون مسک کے ٹوئٹر خریدنے کے بعد ایک نئی پیش رفت بدھ کو ہوئی جب ٹوئٹر نے ’ہائی پروفائل اکاؤنٹس‘ کو سرمئی رنگ کا ایک نیا لیبل دینا شروع کیا جس کے ساتھ ’آفیشل‘ کا لفظ لکھا تھا مگر یہ ’آفیشل‘ لیبل مختلف اکاؤنٹس پر ظاہر ہونے کے کچھ ہی دیر بعد غائب ہو گیا۔

ٹوئٹر کے مطابق آفیشل لیبل اس لیے لایا جا رہا ہے تاکہ اس سے واضح ہو سکے کہ یہ مصدقہ اکاؤنٹس ہیں۔

اس حوالے سے دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے بڑے اداروں، ممالک کے حکومتی اداروں اور اسی طرح ٹیکنالوجی وغیرہ کی بڑی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کو بدھ کو ’آفیشل‘ کا لیبل دیا گیا تھا، تاہم کچھ ہی دیر بھی یہ لیبل ہٹا دیا گیا۔

دی پریذیٹنٹ آف پاکستان کے اکاؤنٹ کو بھی آفیشل لیبل دیا گیا جو کہ کچھ ہی دیر بعد غائب بھی ہوگیا۔

اس سے قبل ٹوئٹر پر ’بلیو چیک‘ کے لیے فیس ادا کرنے کا معاملہ بھی کئی روز سے زیر بحث ہے، کیوں کہ ایلون مسک کی جانب سے ویری فائیڈ اکاؤنٹس کے ساتھ لگے ’بلیو چیک‘ کے لیے اب تقریباً آٹھ ڈالر ماہانہ سبسکرپشن فیس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ٹوئٹر سے منسلک ایستھر کرافوڈ نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ بہت سے لوگ سوال کر رہے تھے کہ ’بلیو چیک‘ سبسکرائبرز اور ویری فائڈ آفیشل اکاؤنٹس کے درمیان فرق کیسے کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ’اسی لیے ہم ’آفیشل‘ لیبل متعارف کروا رہے ہیں جو کہ منتخب اکاؤنٹس کے لیے ہوگا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا تب ہو گا جب نیا سسٹم لانچ کیا جائے گا۔‘

ایستھر کرافوڈ نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں اسی بارے میں بتایا کہ ’پہلے سے تمام ویری فائڈ اکاؤنٹس کو آفیشل کا لیبل نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اسے خریدا جا سکے گا۔‘

کن اکاؤنٹس کو یہ لیبل دیا جائے گا؟ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’حکومتی اکاؤنٹس، کمرشل کمپنیوں، کاروباری شراکت دار، ذرائع ابلاغ کے بڑے ادارے، پبلشرز اور بعض عوامی شخصیات کو یہ لیبل دیا جائے گا۔‘

ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے ایک ٹویٹ کے ذریعے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ’ٹوئٹر آنے والے دنوں میں احمقانہ حرکتیں کرتا رہے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا چلتا ہے اور کیا نہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ