لندن ملاقاتیں: ’سب سے سینیئر افسر کو آرمی چیف لگانے کی حمایت‘

مسلم لیگ ن کے ایک سینیئر رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لندن میں پارٹی قیادت کی ملاقاتوں میں ’سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے فوجی افسر کو چیف آف آرمی سٹاف بنائے جانے سے متعلق خیال کی حمایت کی گئی۔‘

نواز شریف رواں ستمبر لندن میں وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کرتے ہوئے (تصویر مریم نواز شریف/ فیس بک پیج)

پاکستان میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ گذشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل زیر بحث ہے، تاہم گذشتہ روز لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے اجلاس نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے درمیان اس معاملے کے حوالے سے یہ پہلی نشست نہیں تھی، بلکہ گذشتہ تین دنوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان چار ملاقاتیں ہوئیں۔

ان ملاقاتوں میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، سلمان شہباز، عابد شیر علی، حسن نواز اور حسین نواز شریک ہوئے۔

یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب ہے۔

اپریل میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا کو بتایا تھا: ’آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں مانگ رہے اور نہ ہی وہ توسیع قبول کریں گے۔ آرمی چیف اپنی مدت پوری کر کے رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نو نومبر، 2022 کو لندن پہنچے تھے اور تب سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

’جتھوں کی بات نہ پہلے مانی نہ اب مانیں گے‘

ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’لندن میں ہونے والے اجلاس میں سینیارٹی کی بنیاد پر تعیناتی کا رجحان سامنے آیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے افسر کو چیف آف آرمی سٹاف بنائے جانے سے متعلق خیال کی حمایت کی گئی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق حتمی اعلان حکمران اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) میں شامل دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کی بعد کیا جائے گا۔

ان ملاقاتوں کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعے کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا: ’میڈیا میں قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ لندن میں نواز شہباز میٹنگ میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مشاورت ضرور ھوئ ھے لیکن فیصلہ انشاءاللہ آئینی عمل کے آغاز کے بعد مشاورت سے ہو گا۔‘

ان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک اور سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کل ایک بیان میں کہا تھا کہ 29 نومبر سے قبل نئے آرمی چیف کا اعلان ہو گا۔ ’تعیناتی اس دن ہو گی جس دن وزیر اعظم کو سمری موصول ہو گی۔‘

لندن میں ہونے والے آخری اجلاس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا تھا: ’جتھوں کی بات نہ پہلےمانی، نہ اب مانیں گے۔

’کسی جتھے کے آگے نہیں جھکنا اور کوئی ایسی تجویز تسلیم نہیں کرنی جو کسی جتھے کے زور پر کی جائے۔ملک مشکل میں ہے ہم اسے بہتر راستے پر لائیں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج لالہ موسی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا: ’لندن میں فیصلہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف کون بنے گا، ہماری نیشنل سکیورٹی کے سب سے اہم عہدے کا فیصلہ لندن میں کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مجرم اور ملک سے جھوٹ بول کر جانے والا کر رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں نواز شریف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا نواز شریف سے کوئی مطالبہ نہیں، ہم نواز شریف کا احتساب چاہتے ہیں۔ یہ مطالبہ تو لوگ کر رہے ہیں۔

’آرمی چیف کی تقرری کا عمل 18 نومبر کے بعد شروع ہوگا‘

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آرمی چیف کی تقرری قبل از وقت کرنے کا کوئی پلان نہیں، تقرری کے لیے 2013 اور 2018 کے شیڈول کو فالو کیا جائے گا، جب یہ اقدام 18 نومبر کو لیا گیا تھا۔

’تب وزیراعظم نے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق سفارش 18 نومبر کے بعد بھیجی تھی، 24 تاریخ تک سارا عمل مکمل ہو گیا تھا اور 29 تک taking over ہوا تھا۔‘

وزیر دفاع کے مطابق ’عمران خان موجودہ آرمی چیف کو تین سے چار ماہ توسیع دینے کی بات کر رہے ہیں، جس سے ان کی نیت پتہ چلتی ہے کہ وہ آگے جا کر اپنی پسند کا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘

’یہ تقرری کسی کے مفادات کو دیکھ کر نہیں ہو گی، تقرری نہ ہی میری اور نہ شہباز شریف کی مرضی کے مطابق ہو گی، بلکہ عسکری قیادت سے مشاورت کے بعد میرٹ پر ہو گی۔

’اس میں صرف ادارے کے مفاد کو مد نظر رکھا جائے گا۔ یہ ایک اہم ادارہ ہے جس پر ہمارے دفاع کا انحصار ہے۔ عمران خان چاہتے ہیں ہر چیز ان کے مفادات کے تابع ہو جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان