وسط مدتی الیکشن: نائب صدر کملا ہیرس کا ووٹ فیصلہ کن

سینیٹ میں میں 50-50 نشستوں کی ٹائی کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

10 نومبر 2022 کو امریکی نائب صدر کملا ہیرس واشنگٹن ڈی سی کے ہاورڈ تھیٹر (اے ایف پی)

امریکی صدر جو بائیڈن کے ڈیموکریٹ امیدواروں نے وسط مدتی انتخابات میں ہفتے کو سینیٹ میں میں برتری برقرار رکھی ہے۔

اس الیکشن میں وہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں جن میں کہا گیا تھا کہ ری پبلکن امیدوار سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں کامیابی حاصل کریں گے۔

امریکہ میں روایت کے مطابق وسط مدتی الیکشن میں ووٹر برسر اقتدار جماعت کو مسترد کر دیتے ہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بائیڈن کی مقبولیت میں کمی کے پیش نظر ری پبلکنز کو توقع تھی کہ وہ طاقت ور ’سرخ لہر‘ قابو میں لاتے ہوئے سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن یہ سرخ لہر زیادہ طاقت ور ثابت نہیں ہوئی اور ہفتے کو امریکی نیٹ ورکس کے مطابق ریاست نویڈا میں ڈیموکریٹ سینیٹر کیتھرین کورٹیز ماسٹو اپنی نشست دوبارہ جیتنے میں کامیاب رہیں۔ اس طرح انہوں نے پارٹی کو 50 نشستیں دیں جو اس کی مؤثر اکثریت کے لیے ضروری ہیں۔

اس کامیابی سے ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ میں بالادستی حاصل ہو گئی ہے اور ایوان بالا میں 50-50 نشستوں کی ٹائی کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

جمعے کی شام ایریزونا میں ڈیموکریٹ مارک کیلی کے سینیٹ کی سخت دوڑ جیتنے کا امکان ظاہر ہونے کے بعد بائیڈن کی ڈیموکریٹک اور ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ 49 سیٹوں پر ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے تھیں۔

ایوان نمائندگان کا نتیجہ بھی واضح نہیں ہو سکا اور جہاں ری پبلکنز کسی حد تک ایوان میں بالادستی کی طرف گامزن ہیں وہیں صورت حال یہ ہے کہ یہ اکثریت اس سے کہیں کم ہو گی جس کا اندازہ انہوں نے منگل کو ہونے والے الیکشن میں لگایا۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران ہر جگہ موجود رہے لیکن قومی سطح پر ری پبلکنز کی ناقص کارکردگی ان کے لیے نقصان دہ دھچکا ثابت ہوئی۔

ایریزونا کے نتائج پر ٹرمپ کا ردعمل انتخابی دھاندلی کے بے بنیاد دعوے دگنے کرنے کی شکل میں سامنے آیا۔

انہوں نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ امیدوار کی جیت ’سکینڈل‘ اور ’دھاندلی‘ کا نتیجہ تھی۔

ٹرمپ منگل کو 2024 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

یہ ایسا اعلان ہے جس کی منصوبہ بندی انہوں نے الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی متوقع فیصلہ کن فتح کے پیش نظر کی۔ انہیں ابھی تک پارٹی پر غلبہ حاصل ہے۔

تاہم انتخابات میں توقع سے کم کامیابی کے بعد پارٹی کے اندر سے انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جن کا ہدف ٹرمپ، دوسرے پارٹی رہنما اور انتخابی مہم کے موقعے پر دیے گئے پیغامات شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا نے ہفتے کو تین سینیٹروں کے زیر گردش ایک خط کا ذکر کیا جس میں کہا گیا کہ پارٹی کے وہ انتخابات ملتوی کر دیے جائیں جو اگلے ہفتتے کے وسط میں ہونے ہیں۔

سینیٹروں کے خط میں کہا گیا کہ ’ہم سب کو مایوسی ہوئی ہے کہ سرخ لکیر حقیقت نہیں بن سکی اور ایسا نہ ہونےکی کئی وجوہات ہیں۔

’ہمیں اپنے اجلاس میں سنجیدگی کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم 2024 میں اپنی کامیابی کے امکانات بڑھانے کے لیے کیوں اور کیا کر سکتے ہیں۔‘

بعض افراد کی رائے میں ٹرمپ کی صدارتی الیکشن کی دوڑ میں قبل از وقت شامل ہونے کا مقصد اپنی مدت صدارت کے آخری ہفتوں اور کاروباری معاملات کے بارے میں ہونے  والی تحقیقات کے نتیجے میں لگنے والے ممکنہ الزامات سے بچنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ