’حق دو تحریک‘ کا گوادر پورٹ شاہراہ پر دھرنا ختم

تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔

’حق دو تحریک‘ نے ایک بار پھر دھرنا دے رکھا ہے اور گوادر پورٹ کو جانے والا راستہ بھی بند کر دیا ہے(تصویر: نوید محمد)

بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں ماہی گیروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے کام کرنے والی حق دو تحریک نے گوادر پورٹ کے سامنے ایکسپریس وے پر  دھرنا اتوار کی رات ختم کر دیا۔

حق دو تحریک کے ترجمان حفیظ اللہ نے دھرنا ختم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کل چار بجے کے بعد گوادر پورٹ کے سامنے دیا جانے والا دھرنا رات کو ختم کیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔  

 ’ہمارا دھرنا مطالبات کی منظوری تک لالہ حمید چوک پر جاری رہے گا۔ ایک ہفتے کے بعد ہم اپنے نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔‘

تحریک مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں گذشتہ 24 روز سے مچھیروں کے حقوق سے متعلق مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔

تحریک کے زیر اہتمام اتوار کو گوادر شہر میں مسجد عمر بن خطاب سے ریلی نکالی گئی، جس کے شرکا نے مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا۔

بعد ازاں احتجاجی ریلی کے شرکا نے گوادر پورٹ کو جانے والی ایکسپریس وے پر دھرنا دیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔

حفیظ اللہ نے دھرنا دینے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت بات کرنے پر راضی نہیں۔

مولانا ہدایت الرحمان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ دھرنے کے مقاصد میں ٹرالر مافیا، بارڈر مافیا اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومتیں ان کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

حفیظ اللہ نے کمشنر مکران کی ان سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چند ایک ٹرالرز کو پکڑا گیا لیکن بڑے پیمانے پر کچھ نہیں ہوا۔

’ماہی گیروں کی فیسوں کے حوالے سے جو سمری تھی اس پر بھی کوئی کام نہیں ہوا۔‘ 

انہوں نے کہا کہ تحریک سرحد پار کاروبار کے لیے صرف شناختی کارڈ کے ذریعے کام کی اجازت کا مطالبہ کرتی ہے، تاہم اس سلسلے میں حکام کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

حق دو تحریک نے گذشتہ سال بھی تقریباً ایک مہینے تک دھرنا دیا تھا جسے ختم کروانے کے لیے اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو تحریک کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنا پڑا تھا۔

گوادر اپنے جغرافیہ اور سی پیک کے حوالے سے اہمیت کا حامل شہر ہے، جہاں مستقبل کے بڑے منصوبے قائم ہونے جا رہے ہیں۔ 

چارٹر آف ڈیمانڈ  

حق دو تحریک نے اس بار چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کیا ہے، جس میں مطالبات بڑھا کر 42 کر دیے گئے ہیں۔

تحریک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سامنے آنے والے نئے مسائل کو بھی مطالبات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چارٹر آف ڈیمانڈ میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ اور پھر ٹرالر مافیا کا خاتمہ، ایرانی سرحد سے تجارت کی اجازت اور منشیات کے خاتمے سمیت غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔ 

16 نومبر کو محکمہ اطلاعات بلوچستان کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ڈائریکٹر فشریز کی ہدایت پر گوادر کے علاقے جیونی میں ایک غیر قانونی ٹرالر کو قبضے میں لے کر 17 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل فشریز میر سیف اللہ کھیتران نے بتایا کہ غیرقانونی ٹرالنگ کرنے والوں کے خلا ف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب صوبائی حکومت نے ماہی گیروں کو باقاعدہ مزدور کا درجہ بھی دے دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کرکے اسے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے حوالے کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان