اشتہاری کمپینوں کو قطر سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے، ٹوئٹر سے نہیں

اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی خبریں ٹوئٹر اور قطر ورلڈ کپ ہیں۔ یہ دونوں خبریں طاقت اور میڈیا کے تعلق کے رویوں کو اجاگر کرتی ہیں۔

ایلون مسک کے آنے کے بعد کئی کمپنیاں ٹوئٹر سے تعلق توڑ چکی ہیں (اے ایف پی)

فٹ بال ورلڈ کپ کو مشتہرین کی ضرورت ہے لیکن اشتہار دینے والوں کو ورلڈ کپ کی زیادہ ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو مشتہرین کی ضرورت ہے لیکن مشتہرین کا کام ٹوئٹر کے بغیر چل سکتا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں اس وقت کی بڑی خبروں میں دو خبریں طاقت اور اس کی کمی کی واضح مثال پیش کر رہی ہیں۔ ورلڈ کپ بہت بڑا ایونٹ ہے۔ کرہ ارض پر موجود ہم آٹھ ارب لوگوں میں سے تقریباً پانچ ارب اسے دیکھیں گے۔ یہ ٹور ڈی فرانس ( تین ارب 60 کروڑ)، اولمپکس (2016 میں ریو ڈی جنیرو میں تین ارب 60 کروڑ) اور 2019 میں کرکٹ ورلڈ دیکھنے والے دو ارب 60 کروڑ لوگوں سے آگے ہے۔

اشتہار دینے والی کوئی بھی کمپنی جو یہ چاہتی ہے کہ اس کا اشتہار دنیا بھر میں دیکھا جائے، اس کے لیے دنیا کی آبادی کے دو تہائی کے لگ بھگ حصے تک رسائی ایسی بات ہے جسے آپ نظر انداز نہیں کر سکتے خواہ آپ کی کچھ مارکیٹوں میں میزبان ملک کی حکومت خلاف سیاسی دباؤ ہی کیوں نہ موجود ہو۔

آپ حکمت عملی کے تحت فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کا مارکیٹنگ بجٹ کسی دوسری جگہ بہتر انداز میں خرچ ہو لیکن اگر آپ فیصلہ کر لیتے ہیں تو آپ اس پر قائم رہتے ہیں۔

لہٰذا اشتہار دینے والی بڑی کمپنیاں اپنی جگہ قائم ہیں۔ امریکی فنانشل اور میڈیا کمپنی بلومبرگ نے ایڈیڈس، فوکس ویگن اور کوکا کولا سمیت بڑی کمپنیوں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے ان سے ان کے مؤقف کے بارے میں پوچھا ہے۔

بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ ’فیفا کے سات سپانسرز میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کے اظہار کے لیے اپنے عالمی اشتہاری منصوبوں میں کوئی تبدیلی کرے گا۔‘

بلومبرگ نے قومی ٹیموں کے جن 69 سپانسرز کے ساتھ رابطہ کیا ان میں سے 20 نے انسانی حقوق سے اپنی وابستگی کی تصدیق کی لیکن انہیں یہ نہیں بتانا تھا کہ آیا ان کی مارکیٹنگ میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے اور اگر آئے گی تو کیسے۔

تیرہ سپانسرز کا کہنا تھا کہ وہ ردوبدل کریں گے لیکن ان میں زیادہ تر وہ کمپنیاں جن کا قطر کے ساتھ بہت کم کاروبار ہے۔

جہاں تک قطر کا تعلق ہے اس میں وسیع تر نکتہ یہ ہے کہ وہ اس وقت انتہائی طاقتور پوزیشن میں ہے۔ وہ گذشتہ سال روس اور امریکہ کے بعد دنیا کو گیس برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا۔ اس کی تجارت کا انحصار اسی پر ہے، ورلڈ کپ کی میزبانی پر نہیں۔

اب اس بات کا ٹوئٹر کے ساتھ موازنہ کریں۔ جب سے ایلون مسک نے اس کے سربراہ بنے ہیں، متعدد کمپنیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے اشتہارات منسوخ یا معطل کر دیے ہیں۔ ان کمپنیوں میں جنرل ملز (غیر امریکیوں کے لیے یہ ڈبے میں بند خوراک جس میں چیریوز، ڈنکاروس اور ہاگن ڈاس شامل ہے، بنانے والی بڑی کمپنی ہے۔) اور جرمن کار ساز کمپنی آؤڈی شامل ہیں۔

جنرل ملز کو ایک طرف رکھ دیں کیوں کہ یہ ایک امریکی کارپوریشن ہے لیکن جرمن کار کمپنی آؤڈی؟ کیا انسانی حقوق کے معاملے میں ایلون مسک کا ریکارڈ قطر کے ریکارڈ سے اخلاقی طور پر زیادہ قابل ملامت ہے جس کی معاونت آؤڈی سے منسلک کمپنی ڈبلیو وی خوشی سے کر رہی ہے؟

یقینی طور پر مسک نے ماحول کے معاملے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے الیکٹرک گاڑیاں بنانی شروع کیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس کا وزن ان کے پلڑے میں آئے جب کہ دوسری طرف قطر کی قدرتی گیس کی برآمدات ہوں۔

دراصل میرا خیال نہیں کہ کسی معاشی مبصر کو اس طرح کے اخلاقی مسائل کے بارے میں اپنی رائے دینی چاہیے۔ ہر کسی کو رائے دینے کا حق ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس مقام کی نشاندہی کرنا درست ہے جہاں طاقت موجود ہو۔ ٹوئٹر میں معاملے میں طاقت اشتہار دینے والوں کے ساتھ ہے جب کہ ورلڈ کپ کے معاملے ایسا نہیں ہے۔ کیوں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جواب کے کئی حصے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ورلڈ کپ کے بنیادی ناظرین امریکی نہیں ہیں، اس لیے دنیا کے بارے میں امریکی نظریہ اور اس کے بہت سے شہریوں کی اقدار اس دائرے میں نہیں آتے، جب کہ دوسری طرف امریکی شہری ٹوئٹر پر موجود ہیں۔

(واشنگٹن ڈی سی میں یہ لکھتے ہوئے، میرا خیال ہے کہ لبرل امریکی شہریوں کے لیے خاصا مشکل ہے کہ وہ قبول کریں کہ ایسی دنیا بھی موجود ہے جس میں وہ تصورات جو یہاں ہونے والی بحث پر غالب ہیں، ان پر کسی اور جگہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔)

ایک اور جواب یہ ہے کہ ٹوئٹر پر اشتہار دینے سے آپ کو بہت بڑی مارکیٹ کے اہم حصے تک رسائی ملتی ہے۔ ٹوئٹر آپ کو انڈیا، چین، نائیجیریا، انڈونیشیا وغیرہ کے ابھرتے ہوئے عالمی متوسط طبقات تک نہیں لے کر جاتا۔

اس کے باوجود آن لائن اشتہارات اور مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے درمیان ایک اور فرق ہے۔ آن لائن آمدنی بڑھ رہی ہے جس سے مرکزی دھارے اور روایتی میڈیا کی آمدن میں کمی آ رہی ہے۔ لیکن ورلڈ کپ مرکزی دھارے کے میڈیا کا ایونٹ ہے، بلکہ سب سے بڑا۔

اس لیے یہ مقابلے کا ایک طریقہ پیش کرتا ہے، جو خاص طور پر ٹیلی ویژن کے لیے اہم ہے۔ اگر آپ اپنی پراڈکٹ یا سروس کے لیے اس طرح کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو صرف پرانی طرز کے ٹی وی اشتہارات ہی ممکن بنا سکتے ہیں، تو آپ کے پاس زیادہ راستے نہیں ہیں۔

آخری بات تعلق جوڑنے کی ہے۔ مسک کے کاروبار سے بالکل الگ، ٹوئٹر پر اشتہار آپ کی کمپنی کو ان لوگوں سے جوڑ دیتا ہے جو ٹویٹ کرتے ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران اشتہار آپ کا تعارف دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں کے ساتھ کرواتا ہے۔ آپ کسی کے ساتھ وابستگی کو ترجیح دیں گے؟ ہاں؟

قصہ مختصر، میرا خیال ہے کہ بڑا نکتہ سیدھا سادہ یہ ہے کہ فٹ بال کو پوری دنیا میں غلبہ حاصل ہے اور ٹوئٹر کو نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس مشکل وقت میں یہ کہیں زیادہ اطمینان بخش ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر