وزیراعظم کا عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا فیصلہ 

وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو ارسال کر دی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے، جو پاکستان ملٹری اکیڈمی لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس کمیشنڈ آفیسر ہوں گے  (آئی ایس پی آر)

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کی ایڈوائس صدر مملکت کو ارسال کردی گئی ہے۔ 

وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ 

اب ضابطے کے مطابق صدر عارف علوی نے وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری پر دستحظ کرنے ہیں۔ 

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ایڈوائس صدر عارف علوی کے پاس چلی گئی ہے۔ اس بات کی امید ہے کہ صدر عارف علوی ان تعیناتیوں پر کوئی تنازع کھڑا نہیں کریں گے۔‘ 

خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ’اس ایڈوائس کو (صدر) خالصتاً آئینی اور قانونی نظر سے دیکھیں گے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، لیکن سیاسی نظر سے نہ دیکھیں کیونکہ یہ قانون کا تقاضا ہے، ایڈوائس وزیراعظم کی ہے کسی اور کی ایڈوائس پر عمل نہ کریں۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’صدر اس ادارے اور پاکستان افواج کے، ایئر فورس، آرمی اور بحریہ کے سپریم کمانڈر ہیں۔ انہیں اسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔ یہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ اسے اسی تقدیس کے ساتھ نمٹائیں اور اس کے علاوہ کسی اور امر کو ملحوظ خاطر نہ رکھیں۔‘ 

وفاقی وزیر دفاع  کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں موجود ہیجان کی کیفیت شام تک ختم ہو جائے گی۔

’میں کسی خدشے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا مگر میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے تا کہ خدانخواستہ کوئی تنازع کھڑا نہ ہو اور ہماری معیشت اور دیگر معاملات ایک سمت میں چلیں۔‘ 

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کون ہیں؟ 

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا اور آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر عمل میں آیا۔ 

اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا، جہاں دو سال گزارنے کے بعد وہ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ 

معلومات کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو پاکستان ملٹری اکیڈمی لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس کمیشنڈ آفیسر ہوں گے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر آفیسر منگلا میں ٹریننگ سکول سے پاس آؤٹ ہوئے اور فوج میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ 

آرمی میں او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونیئر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دیا گیا۔ 

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کون ہیں؟ 

 

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا تعلق 76 لانگ کورس اور سندھ رجمنٹ سے ہے، جو موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی بھی یونٹ تھی۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب معلومات کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں بہت متاثر کن کیریئر رہا ہے۔ انہوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میڈیا کی توجہ حاصل کر رکھی تھی۔ انہوں نے گذشتہ سات برسوں کے دوران اہم لیڈرشپ عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔ 

وہ جی ایچ کیو میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی کور ٹیم کا حصہ تھے جس نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی نگرانی کی اور کواڈریلیٹرل کوآرڈینیشن گروپ میں بھی کام کرتے رہے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو 2019 میں چیف جنرل سٹاف تعینات کیا گیا۔ اس عہدے کے باعث وہ خارجہ امور اور قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلہ سازی میں بھی شامل رہے۔ 

دو سال اس عہدے پر رہنے کے بعد انہیں ستمبر 2021 میں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان