ارشد کی نجی زندگی کے مخفی پہلو

’ارشد کے کپڑے، ان کی کتابیں، تصاویر، ان کے پالتو جانور سب یہاں موجود ہیں، بس وہ چلے گئے۔ مجھے لگتا ہے یہ ایک بھیانک خواب ہے، جلد میری آنکھ کھل جائے گی اور سب پہلے جیسا ہوجائے گا۔‘ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کی خصوصی تحریر

ارشد شریف کی اپنی اہلیہ جویریہ صدیق کے ہمراہ ایک یادگار تصویر (جویریہ صدیق)

ارشد شریف ایک بےخوف اور نڈر صحافی تھے، جو ساری زندگی خبروں کی تلاش میں سرگرداں رہے، تاہم ان کی نجی زندگی لوگوں کے سامنے کبھی نہیں آئی۔

وہ ایک پرائیویٹ انسان تھے اور ذاتی زندگی پر شہرت کے قائل نہیں تھے۔ ہم اپنے انسٹاگرام یا یوٹیوب پر زیادہ پرسنل چیزیں نہیں لگاتے تھے کیونکہ انہیں ہمیشہ ان کی تحقیقاتی صحافت کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہتی تھیں، لہذا ہم اپنی پروفیشنل اور ذاتی زندگی کو الگ الگ رکھتے تھے۔

ہم دونوں سینکڑوں تصاویر بناتے، بہت سی ویڈیوز ریکارڈ کرتے لیکن بہت کم اپ لوڈ کرتے۔ دونوں صحافت میں تھے لیکن دونوں کے شعبے الگ تھے۔ وہ مجھے میری ایڈیٹوریل فریڈم (ادارتی آزادی) دیتے اور میں نے بھی کبھی ان کے کام میں دخل نہیں دیا۔

حالانکہ ان کے سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں نے انہیں بناکر دیے۔ ان کا فیس بک پیج میں نے 2012 میں بنایا اور یوٹیوب میں نے انہیں 2017 میں بنا کر دیا۔ ٹوئٹر اور انسٹاگرام انہوں نے خود بنایا اور میں نے انہیں بلیو ٹک دلوائے۔

ان کے پروگرام ’پاور پلے‘ کا اکاؤنٹ بھی میں چلاتی تھی۔ پھر بھی میں ان کے صحافتی معاملات میں دخل نہیں دیتی تھی۔ اپنا ٹوئٹر کا ویریفائیڈ اکاؤنٹ وہ خود استعمال کرتے تھے۔

میں ان سے کہتی کہ ’مشہور ہوکر کیسا لگتا ہے؟‘ تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے: ’میں تو ایک عام انسان ہوں۔‘ وہ بہت عاجزی اور انکساری والے شخص تھے۔ میں کبھی کہتی تھی کہ مارننگ شو کی طرف سے انوائٹ آیا ہے تو مسکرا کر کہتے تھے کہ ’کہیں ہمیں بھی دلہا دلہن بنا کر دوبارہ شادی کروانے لگ گئے تو کتنا عجیب لگے گا۔‘

میں کہتی کہ ’سب شوز میں یہ نہیں ہوتا،‘ پھر کہتی: ’اچھا عید کے شو یا نیو ایئر کے شو میں اکیلے چلے جائیں‘ تو کہتے: ’میں کیا باتیں کروں گا؟ مجھے صرف تحقیقاتی صحافت آتی ہے۔‘

میں خود بہت عرصے سے ٹی وی شوز میں شرکت نہیں کر رہی تھی۔ کالمز کی وجہ سے وقت نہیں ملتا تھا تو ان کی بھی خلاصی ہو جاتی۔ وہ نجی زندگی میں بہت کم گو تھے۔ میں ان کے آنکھ کے ایک اشارے یا ہمم کہنے سے پہچان جاتی تھی کہ کس چیز میں ان کی ہاں اور کس چیز میں ان کی ناں ہے۔

وہ بہت ڈسپلن والے انسان تھے۔ وقت کے پابند اور صبح جلدی اٹھنے کے عادی۔ وہ بہت رائل تھے اور انہوں نے مجھے بہت رائلٹی سے رکھا۔ اس لیے میں کہتی ہوں کہ جو مرد آپ کو ملکہ کا درجہ دے، آپ بھی اس کی بادشاہ کی طرح تکریم دیں۔

میزبانی میں ارشد کا کوئی ثانی نہیں

ارشد بہت شاہ خرچ تھے۔ وہ دوسروں پر خرچ کرکے خوش ہوتے تھے اور میزبانی میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ گھر پر کوئی بھی آتا وہ خود گیٹ تک لینے اور چھوڑنے جاتے اور کبھی غریب امیر کی تفریق نہیں کی۔ اپنے مہمانوں کے لیے دروازے تک خود کھولتے اور مجھے خاص تاکید ہوتی کہ میز پر پانچ سے چھ ڈشز لازمی ہوں۔ کھانے کے بعد میٹھا، پھل، زعفران والا قہوہ اور ڈرائی فروٹ لازمی رکھے جائیں۔

انہیں کھانے میں سوپ، دال، مٹن سٹیک، مچھلی، پائے اور انار بہت پسند تھے۔ چائے اور قہوہ بھی انہیں بہت پسند تھا۔ وہ اکثر مہمانوں کی پلیٹس میں خود کھانا ڈالتے اور خاص طور مہمانوں کے بچوں پر خصوصی شفقت کرتے۔

میں ہمیشہ گھر میں تحائف پہلے سے خرید کر رکھتی کہ کوئی بھی خالی ہاتھ نہ جائے۔ ارشد اپنے دوستوں اور حلقہ احباب کو باہر لنچ کروانے کے بھی شوقین تھے۔ اسلام آباد کا میریٹ ہوٹل ان کی پسندیدہ جگہ تھا جہاں وہ اپنے کولیگز ، فیملی اور دوستوں کو لے کر جاتے۔ ہر ہفتے یہ عزم کرتے کہ وزن کم کریں گے لیکن دوستوں کے ساتھ کھانے ان کا عزم پورا نہیں ہونے دیتے تھے۔

ارشد اور کتب بینی

ارشد مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ رات کو سونے سے پہلے وہ کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے۔ اپنی ذات کے لیے ان کا خرچہ صرف کتابیں خریدنا ہوتا تھا۔ مسٹر بکس،  آکسفورڈ اور سعید بک بینک سے ریگولر خریداری کرتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی خریدی ہوئی کتابوں میں بہت سی کتابیں بہت قیمتی اور بیش قیمت تھیں،  جس کی مثال ان کی ایک کتاب کی قیمت 22 ہزار تھی۔ انہیں اس حد تک کتابوں سے محبت تھی۔ وہ مجھے کہتے: ’جیا میری کتابوں کو پلاسٹک کور میں بند رکھا کرو، میری کتابوں پر گرد نہ پڑے۔‘

اپنی ہر کتاب پر اپنا نام لکھتے اور پڑھتے وقت اس کو ییلو ہائی لائیٹر سے ہائی لائٹ کرتے۔ کبھی کبھی آفس سے فون کرکے کہتے کہ فلاں کتاب کا فلاں صفحہ ذرا وٹس ایپ کرنا۔ ان کا حافظہ کمال کا تھا۔ ان کے لیپ ٹاپ بیگ، آفس، گاڑی، گھر، بیڈ روم، لائبریری غرض ہر جگہ کتابیں ہی کتابیں ہوتی۔ ان کے پسندیدہ موضوعات دفاع، انٹرنیشل ریلشنز، جنگ اور امن تھے۔ وہ ایمازون سے کتابیں آرڈر کیا کرتے تھے اور بہت خوش ہوتے تھے جب ان کا کوریئر ڈیلیور ہوتا تھا۔

ارشد بطور فوٹوگرافر

ارشد بہت لائق تھے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی کریئر میں ہمیشہ ٹاپ کیا۔ ان کا مشغلہ فوٹوگرافی تھا۔ ہم دونوں کی دوستی بھی 2009 میں اس وجہ سے ہوئی کہ ہم دونوں کے پاس ڈی ایس ایل آر تھا۔ ان کو بطور لڑکی میری فوٹوگرافی نے متاثر کیا۔

اس وقت اتنا رواج نہیں ہوتا تھا کہ لڑکیوں کے پاس پروفیشنل گیئر ہوتا یا وہ فوٹوگرافی کرتیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ میں صحافت کے ساتھ فوٹوگرافی کرتی ہوں۔

ہم ساتھ فوٹوگرافی کرنے لگے۔ دونوں کے پاس اتنا وقت تو نہیں ہوتا تھا کہ ریگولر فوٹوگرافی ہو لیکن جب بھی رپورٹنگ سے وقت ملتا ہم دونوں نیچر کی فوٹوگرافی کرتے۔

ہم نے ایک دوسرے کے پورٹ فولیو بنائے۔ اپنی فیملی اور دوستوں کی بھی تصاویر لیں، ہم سب کو ای میل بھی کرتے اور پرنٹ بھی کروا دیتے۔ ارشد کو تصاویر کو پرنٹ اور فریم کروانے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے مجھے میری پانچ ہزار تصاویر پرنٹ کروا کے تحفے میں دیں۔

ہم دونوں کے پاس پاکستان کے میڈیا کا بھی ایک بڑا آرکائیو موجود ہے۔ ارشد کو فوٹوگرافی میں پورٹریٹ پر عبور حاصل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پرندے اور قدرتی مناظر بھی بہت خوبصورتی سے عکس بند کرتے۔

ارشد اور ان کے پالتو جانور

ارشد کو جانور بہت پسند تھے، جن میں کتے اور بلیاں سرفہرست رہے۔ ان کے پاس تین جرمن شیفرڈ دو راٹ وائلر اور ایک لیبرے ڈار تھے۔

وہ اپنے جانوروں کو جب وقت ملتا خود واک کرواتے، ان کو خود کھانا کھلاتے، یہاں تک کہ چھٹی والے دن ان سب کو خود نہلاتے۔ اکثر اپنے جانوروں کو گاڑی میں سیر کرواتے۔

میری بلی سپیکو بھی ان کی بہت لاڈلی تھی۔ ارشد جب مطالعہ کر رہے ہوتے تو سیپکو ان کے ساتھ بیٹھ جاتی اور جب تک وہ گھر میں رہتے ان کے ساتھ ساتھ رہتی۔

میں صفائی کے معاملے میں بہت حساس ہوں۔ کتوں کے لیے میں نے پورچ میں کمرہ بنایا تاکہ وہ وہاں آرام سے رہیں اور گھر میں نہ آئیں، لیکن ارشد جیسے ہی یہ دیکھتے کہ میں مصروف ہوں، وہ سب کتوں کو گھر میں لے آتے اور میری حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ وہ سب کو بیڈ پر اور کمرے میں بلالیتے۔ پھر میرے حیرانی والے تاثرات دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوتی کہ اب یہ سارا دن کمرے کی صفائی کرتی رہے گی۔

ہمارے جانور ہمیشہ بہت صاف ہوتے ہیں۔ ہم ان کی صحت صفائی کا بہت خیال کرتے ہیں لیکن میرا خیال تھا کہ کتے گھر سے باہر رہیں گے اور بلیاں گھر کے اندر لیکن وہ تو اپنے کتوں کو گاڑی، گھر، جھولے ہر جگہ کی سیر کروا دیتے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ گلی اور بازاروں میں موجود جانوروں پر بھی بہت شفقت کرتے اور جانور بھی ان سے فوری طور پر مانوس ہوجاتے۔ مجھے خاص طور پر پالتو جانوروں کے حوالے سے ہدایت دیتے کہ ان کو انجکشن وقت پر لگیں اور ان کی خوراک ٹھیک ہو اور ان کو گرمی یا سردی نہ لگے۔

 ارشد کے کپڑے، ان کی کتابیں، تصاویر، ان کے پالتو جانور سب یہاں موجود ہیں، بس وہ چلے گئے۔ مجھے لگتا ہے یہ ایک بھیانک خواب ہے، جلد میری آنکھ کھل جائے گی اور سب پہلے جیسا ہوجائے گا۔

وہ مجھے بہت سے خطرات سے محفوظ رکھتے تھے۔ ان کی موجودگی میں، میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ میں اکیلی ہوں، بے آسرا ہوں۔ میرا سائبان مجھ سے چھن گیا۔ وہ جنت میں چلے گئے اور مجھے جہنم میں چھوڑ گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی