پی ٹی آئی کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی توثیق

عمران خان کی جانب سے راولپنڈی لانگ مارچ میں اسمبلیوں سے نکلنے کے اعلان کے بعد پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں نے تاحال کیا فیصلے کیے، خصوصی رپورٹ۔

فواد چوہدری اور عظمیٰ بخاری پارٹی اجلاسوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (سوشل میڈیا)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیئر قیادت نے پیر کو ہونے والے اجلاس میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی نے اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسمبلیاں قائم رہنے یا تحلیل ہونے کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کی سینیئر لیڈرشپ کا مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔ 

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 26 جنوری کو راولپنڈی لانگ مارچ میں اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پاکستان میں سیاسی قیادت متعلقہ حلقوں میں مشاورت کر رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کا اجلاس حمزہ شہباز کے زیر صدارت ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کی پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی کے ساتھ ہوا جس میں 20 سے زائد کمیٹی اراکین نے شرکت کی۔ 

اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ اور عظمٰی بخاری دونوں نے علیحدہ علیحدہ میڈیا سے بات چیت کی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی آخری حد تک جائے گی تاکہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ کسی دوسرے کا مینڈیٹ ڈسٹرب ہو۔ ’ہم پنجاب اسمبلی کی مدت پوری کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کریں گے۔‘

انہوں نے یہ بھی واضح طور پر کہا کہ گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں اور مسلم لیگ ن تحریک عدم اعتماد کے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چار ماہ گزر جانے کے باوجود ہمارے کیسز کو سنا نہیں گیا۔ اگر ہمارے کیسز کا فیصلہ سنا جاتا ہے تو حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔‘

عطا نے بتایا ’ہم نے سپیکر کے کیس کا کہا، وہ لاہور ہائی کورٹ کے سرد خانے میں پڑا ہے۔ یہ ہمارا حق ہے کہ سپیکر کا کیس سنا جائے۔ کورٹ کی رولنگ موجود ہے کہ اعتماد کے ووٹ میں عدم اعتماد میں تمام ووٹ گنے جائے گے۔ تحریک انصاف کے بہت سارے اراکین نہیں چاہتے کہ یہ اسمبلیاں ختم ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس گورنر راج کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس پر مشاورت ہوئی، زرداری صاحب نے حسن مرتضیٰ کو بات چیت کے لیے منتخب کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  پیپلزپارٹی کے  وفد کے ساتھ حمزہ شہباز کی ملاقات طے ہوگئی ہے۔ کل عدم اعتماد یا گورنر کے اختیار پر بات چیت ہوگی۔  ’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جولائی میں ریویو پٹیشن کا کیس دائر ہوا چار ماہ کے باوجود کیس پر کچھ نہیں ہوا۔ پچیس ووٹوں کی گنتی پر فیصلہ دیا جائے، فی الفور مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ کرے۔ اعتماد یا عدم اعتماد میں ووٹ کا حق رہے گا۔ جو ممبرز معطل ہوئے اس کا بھی فیصلہ کیا جائے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ اور عمران خان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے کہ عمران خان تمام مقاصد میں ناکام ہوئے تو اسمبلی کو تہس نہس کر دیں، بہت مشکل سے ملک کو ٹریک پر لایا گیا ہے۔‘

’پہلے آمر، اب عمران خان آمر اسمبلیوں کو توڑنا چاہتا ہے۔ ایک پارٹی عوامی مینڈیٹ کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ حمزہ شہباز کیس میں ہماری شنوائی نہیں ہو رہی۔ 75 سال میں ایسا نہیں ہوا جو اسمبلی میں پی ٹی آئی کے لوگ سیٹیاں لوٹے لے کر آئے۔ پنجاب اسمبلی گجرات کی اسمبلی ہے کیا؟‘

’پندرہ دن پورے ہو گئے۔ معطل لوگوں کو بحال کریں۔ جناب عالی پاکستان کی عوام نے مینڈیٹ دے کر ہمیں بھیجا، اسے قتل کرنے اور اسمبلیاں توڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پرویز الہیٰ کو جس بنیاد پر وزیراعلیٰ بنایا گیا وہ قانون میں ترمیم کے تحت تھا۔ ہم بھی 180 لوگ ہیں۔ ہمارے مینڈیٹ کی چوری اور شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں برائے مہربانی اس تاثر کو دور کرنا ہو گا کہ کسی کو رات کو انصاف مل جاتا ہے۔ عمران خان اور پرویز الہیٰ کو کہنا چاہتی ہوں کہ اخروٹ بادام نہیں، بلکہ نمائندہ اسمبلی ہے، ایک شخص  کو اسے توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

 پاکستان تحریک انصاف کی سینئیر لیڈر شپ کے مشاورتی اجلاس کے بعد فواد چوہدری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سب سے پہلے تو اعظم سواتی کے حوالے سے کہا کہ ’75 سال کے اعظم سواتی کو ٹویٹ کرنے پر رات کو اغوا کیا گیا۔ کسی عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ تمام سینیٹرز نے احتجاج کیا مگر سپریم کورٹ نے آنکھوں سے پٹی نہیں کھولی۔ عمران خان نے پوچھا ہے کیا پاکستان میں عزت طاقتور حلقوں کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم اعظم سواتی کی گرفتاری کی مزمت کرتے ہیں نیز پاکستان میں انسانی حقوق کی تذلیل کا سلسلہ جاری ہے۔ 

’بلوچستان اور سندھ سے بھی ارکان استعفے دیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے بورڈ تشکیل دے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے عوام بھاری مینڈیٹ سے نوازیں گے۔ الیکشن کمشن ن لیگ کا ترجمان نہ بنے۔ اگر ہم استعفیٰ دیں گے تو الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کروانے کا پابند ہو گا۔ اعظم سواتی کے بیٹے کا عمران خان کو روتے ہوئے فون آیا ہے کہ کل عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو قتل کروا دیا جائے گا۔ جو زیادتیاں ہوئی ہیں ہم نے مقابلہ کرنا ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ اعظم سواتی کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔ جمعے کو ڈی چوک میں وکلا کنونشن ہو گا۔‘

’ہم نے اعلان کیا اور اسمبلیوں سے باہر آ رہے ہیں۔ عمران خان سے کے پی کے وزیر اعلیٰ کی ملاقات ہو گئی ہے۔ کل وزیر اعلیٰ پنجاب ملیں گے۔ جمعے کو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو گا جبکہ  ہفتے کو خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی  کا اجلاس ہو گا جس کے بعد دونوں اسمبلیوں کو توڑا جائے گا۔‘

(ایڈیٹنگ: ج ح)

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست