پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ میچ: ’راجہ جی پنڈی جلساں، میچ تکساں‘

دونوں ٹیموں کے مابین پہلے ٹیسٹ میچ کے آغاز سے قبل پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے رکشے کے سامنے بنائی گئی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی، جس پر شائقین کے دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر کے منفرد اور دلچسپ پیغام کو سوشل میڈیا صارفین داد و تحسین سے نواز رہے ہیں (ویڈیو سکرین گریب/ کرسچن ٹرنر ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین راولپنڈی میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی مناسبت سے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ پوٹھوہاری زبان میں کہتے نظر آئے: ’راجہ جی پنڈی جلساں، میچ تکساں۔‘

27 نومبر کو انگلینڈ کی ٹیم 2005 کے بعد پہلی مرتبہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے پاکستان پہنچی ہے۔

گذشتہ روز یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ انگلینڈ کے کچھ کھلاڑیوں کی طبیعت ناساز ہے، جس کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میچ کے ایک دن تاخیر سے شروع ہونے کی بھی اطلاعات تھیں، تاہم انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی صحت یابی کے بعد آج بروز جمعرات تقریباً 17 سال بعد پاکستان کی سرزمین پر انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تاریخی میچ کے آغاز سے قبل پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے رکشے کے سامنے بنائی گئی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ’انگلینڈ اور پاکستان نے کرکٹ کی دنیا میں دھوم مچا دی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دلچسپ مقابلہ رہا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل بھی یادگار تھا۔ دونوں بار انگلینڈ کرکٹرز بازی لے گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اب سب کی نظریں ہیں ٹیسٹ پر، کون سی ٹیم ہے بہترین۔ یکم سے 21 دسمبر تک جیت اسی کی ہو گی جو گرم جوشی دکھائے گا۔ لڑکو! جم کر کھیلنا کیونکہ ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویڈیو کے آخر میں رکشے والے نے راولپنڈی کی مقامی زبان پوٹھوہاری میں برطانوی ہائی کمشنر سے استفسار کیا: ’کرسچن کتھے جلسو (کرسچن کہاں جائیں گے)؟ جواباً انہوں نے کہا: ’راجہ جی، پنڈی جلساں، میچ تکساں۔ چلو چلیں۔‘

پھر وہ اس رکشے میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے، جس پر لکھا تھا ’ایک ساتھ 75‘ یعنی پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے 75 سال۔

برطانوی ہائی کمشنر کے اس منفرد اور دلچسپ پیغام کو سوشل میڈیا صارفین داد و تحسین سے نواز رہے ہیں۔

وجاہت سلیم نے برطانوی ہائی کمشنر کے اس پیغام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا: ’بہت عمدہ، آپ نے پاکستان میں کرکٹ کی ترویج اور بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔‘

عمر چوہدری نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’ہائی کمشنر بھی پنڈی بوائے نکلے۔‘

ٹوئٹر صارف عاطف خلیل نے کرسچن ٹرنر کو پیغام دیا: ’جناب عالی! آپ ایک سفارت کار سے بڑھ کر ہیں۔‘

سعید عباسی نے برطانوی ہائی کمشنر کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا: ’جی آیاں نوں، اساں وی تکساں ہن۔‘

سپورٹس جرنلسٹ مرزا اقبال بیگ نے تو کرسچن ٹرنر کے لیے پاکستان کی اعزازی شہریت کا مطالبہ بھی کر دیا۔ انہوں نے ٹویٹ کی۔

کرسچن کی پاکستان میں مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، وہ کرکٹ کے سچے شیدائی ہیں۔ پاکستانی حکومت کو انہیں اعزازی شہریت سے نوازنا چاہیے کیونکہ انہوں نے کافی حد تک اردو سیکھ لی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل