حجاب کے قانون کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران

ایران کے اٹارنی جنرل کے مطابق دیکھا جا رہا ہے کہ آیا حجاب سے متعلق قانون کو کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں؟

ایران میں اسلامی انقلاب کے چار سال بعد عوامی مقامات پر خواتین کے لیے حجاب ضروری قرار دیا گیا تھا (اے ایف پی)

ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ خواتین کے سر ڈھانپنے سے متعلق دہائیوں پرانے ایک قانون کا جائزہ لی رہی ہے۔

ایران کے اٹارنی جنرل محمد جعفر مونٹازری نے کہا: ’پارلیمان اور عدلیہ دونوں ہی کام کر رہے ہیں (اس معاملے پر)۔‘

آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا دیکھا جا رہا ہے کہ آیا قانون کو کسی تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں؟

تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ پارلیمان کے دونوں ایوان، جہاں قدامت پسندوں کی اکثریت ہے، قانون میں کیا تبدیلی لا سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جائزہ لینے والی ٹیم نے بدھ کو پارلیمنٹ کے ثقافتی کمیشن سے ملاقات کی، اور اس کے نتائج ایک یا دو ہفتے میں دیکھیں گے۔

مہسا امینی کی، جنہیں شرعی قوانین کی مبینہ پامالی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، چھ ستمبر کو ایران کی مذہبی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد سے ملک میں مظاہرے جاری ہیں۔

ایران کی حکومت تب سے ڈریس کوڈ سے منسلک احتجاج کو روکنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان مظاہروں میں شرکا نے حجاب جلائے اور حکومت مخالف نعروں لگائے۔

امینی کی موت کے بعد سے ایران، خصوصاً دارالحکومت تہران کے شمال کے جدید علاقوں، میں خواتین کی بڑی تعداد حجاب ترک کر چکی ہیں۔

تہران شروع سے ہی ان ملک گیر مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کی موجودگی کا الزام لگاتا رہا ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے چار سال بعد اپریل 1983 میں خواتین کے لیے حجاب لازمی قرار دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین