انڈیا: حیدر آباد کا ایسا علاقہ جہاں ہر نوجوان ’پہلوان‘ ہے

بارکس میں کشتی کے درجنوں اکھاڑے قائم ہیں، جہاں ہر بچہ نو سال کی عمر سے پریکٹس کرنا شروع کر دیتا ہے۔

دور حاضر میں کرکٹ نوجوانوں کا مقبول ترین کھیل مانا جاتا ہے، جس سے محبت کا جذبہ اس قدر بڑھ رہا ہے کہ کھیل کے میدان کرکٹ کے دیوانوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔

تاہم انڈیا کے جنوبی شہر حیدر آباد  میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے، جہاں پہلوانی کا خمار لوگوں کے دلوں پر چھایا ہوا ہے۔  

بارکس کے لوگ جنون کی حد تک پہلوانی کے دیوانے ہیں۔ علاقے میں شاید ہی کوئی ایسا نوجوان ہو جس نے اکھاڑے کی مٹی نہ چکھی ہو۔ نو سال کی عمر کو پہنچنے والے ہر بچے کو اکھاڑے سے متعارف کروایا جاتا ہے۔

عبدالرحیم مقامی کالج میں فائنل ایئر کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق بھی پہلوان خاندان سے ہے۔ انہوں نے ریاستی و ملک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر کشتی کے مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ وہ پہلوانی کو بطور پیشہ اختیار کرنا اور عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔

عبدالرحیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ چونکہ ان کے والد ایک اچھے پہلوان رہ چُکے ہیں اس لیے انہیں گھر سے ہی پہلوانی کی ترغیب ملی تھی۔

’دن میں پڑھائی کے لیے کالج جاتا ہوں اور صبح و شام اکھاڑے میں پہلوانی کی پریکٹس کرتا ہوں۔ میں پُر امید ہوں کہ مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں میں انڈیا کی نمائندگی کروں گا۔‘

عبدالرحیم کے بقول پہلوان کو دونوں طاقت اور وزن کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اس لیے اچھی غذا اس کے لیے ضروری ہوتی ہے، جس میں صبح سویرے سردائی، دودھ اور بادام کھانا شامل ہے۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بارکس کا پہلوانی کے ساتھ تعلق صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ پہلوانی یہاں کی قدیم ثقافت کا اہم جزو رہی ہے۔ علاقے میں فن پہلوانی دو سو سال سے چلا آیا ہے اور اِس وقت اس شہر میں تقریباً درجنوں اکھاڑے قائم ہیں جو صبح شام نوجوانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔  

سعود بن سعید باعوم انٹرنیشنل کھلاڑی رہ چُکے ہیں اس وقت وہ علاقے میں 'باعوم اکھاڑہ' کے نام سے اکھاڑہ چلاتے ہیں جس میں سو سے زیادہ نوجوان کشتی کے  گر سیکھتے ہیں ۔

سعود بن سعید باعوم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ کھیل ان کی زندگیوں کا حصہ ہے۔ باعوم اکھاڑہ سب سے قدیم ہے، جہاں سو سے زیادہ بچے ریسلنگ سیکھنے آتے ہیں، جنہیں ریسلنگ کے اکھاڑے میں تربیت دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق پہلوان کشتی کے اکھاڑے کی مٹی پر تیل اور چھاچھ چھڑکتے ہیں اور پھر پہلوان مٹی کو اچھی طرح ملا کد نرم کرتے ہیں، اس کے بعد ہی وہ کشتی شروع کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل