روبوٹک لینز جس سے دور دیکھنے کے لیے آنکھ کو جھپکنا ہوگا

امریکی سائنسدانوں نے ایسا روبوٹ لینز تیار کر لیا ہے جسے آنکھ کی حرکت کے ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

روبوٹ لینز ان مرکب سالموں (پولیمرز) سے بنایا گیا ہے جو برقی رو کے اتصال سے پھیلتے ہیں (فائل فوٹو- اے ایف پی)

امریکی سائنسدانوں نے ایسا روبوٹ لینز تیار کر لیا ہے جسے آنکھ کی حرکت کے ساتھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لینز کے ذریعے اشیا کو دور یا قریب کرکے دیکھنے کے لیے آنکھ کو دو بار جھپکنا ہوگا۔

اب تک جتنے بھی لچکدار روبوٹ بنائے گئے ہیں وہ یا تو ہاتھ سے کنٹرول ہوتے ہیں یا ان میں پہلے سے پروگرامنگ کر دی جاتی ہے لیکن انسانی آنکھ کا لینز قدرتی برقی پیغامات کے ذریعے اس وقت بھی متحرک رہتا ہے جب آنکھ بند ہوتی ہے۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سان ڈیاگو میں سائنسندانوں نے برقی پیغامات کے اس نظام کو کنٹرول کیا ہے جو انسانی آنکھ کو حرکت دیتا ہے۔

انسانی آنکھ کی برقی صلاحیت کو جسے ’آنکھ کے برقی پیغامات کا نظام‘ کہا جاتا ہے، کی پیمائش کی جس کے بعد ایسا لینز تیار کیا گیا جو اس نظام کے تحت کام کرتا ہے۔

لینز کی تیاری پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ شینگ کیانگ کائی نے ’نیوسائنٹسٹ‘ نامی جریدے کو بتایا: ’اگر آپ کی آنکھ کچھ بھی نہ دیکھ سکے تو بھی، بہت سے لوگ اپنی آنکھ کے دیدے کو حرکت دے کر برقی پیغامات کی ترسیل کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روبوٹ لینز ان مرکب سالموں (پولیمرز) سے بنایا گیا ہے جو برقی رو کے اتصال سے پھیلتے ہیں۔

لینز کو ان پانچ برقیروں (الیکٹروڈز) کو استعمال میں لا کر کنٹرول کیا جاتا ہے جو آنکھ کے گرد موجود ہوتے ہیں اور پٹھوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب سالمہ زیادہ محدب ہو جاتا ہے تو لینز اشیا کو مؤثر انداز میں قریب کر کے دکھاتا ہے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ ایک دن اس طریقے سے وہ مصنوعی آنکھ یا کیمرہ تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جسے صرف آنکھوں کی حرکت سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔

’ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں محقیقین نے لکھا ہے: ’موجودہ تحقیق کے دوران تیار کیے گئے نظام میں وہ صلاحیت موجود ہے جو مستقبل میں دیکھنے کا مصنوعی نظام، حرکت دے کر ضرورت کے مطابق بنائی جا سکنے والی عینک اور دور سے کنٹرول ہونے والے روبوٹ بنانے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی