عرفان صدیقی پر گرفتاری کے دوران کیا بیتی

عموماً ہفتے کے روز اگر کسی ملزم کی ضمانت ہوجائے، مگر مچلکے اور روبکار میں تاخیر ہو تو پھر سوموار کو ہی رہائی ملتی ہے، لیکن جہاں پر زور ہو تو پھر سب کام باآسانی قبل از وقت بھی ہوجاتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معاون و مشیر عرفان صدیقی۔ (اے ایف پی)

اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد عرفان صدیقی کی رہائش پر مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ لوگ انہیں گلدستے پیش کر رہے تھے۔ شام ڈھلنے کے بعد میں بھی اپنے ذہن میں کئی سوال لے کر ان کے گھر پہنچا۔ جیل کی تھکاوٹ ان کے چہرے پر جھلک رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان کی ضمانت کا مقدمہ سوموار کو سماعت کے لیے مقرر تھا، پھر اچانک اتوار کو ضمانت کیسے ہوگئی؟ شاید میڈیا کا دباؤ ہوگا جس کے باعث یہ فیصلہ لیا گیا؟ 

ان کے کئی رفقا ان سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے جن میں بیشتر کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ وہ دبئی میں ہوتے ہیں جہاں ان کی حسین نواز سے ملاقات ہوئی تھی۔ کہنے لگے کہ میں نے حسین نواز سے پوچھا کہ والد کا ساتھ دینے کے لیے عدالت کیوں نہیں آتے؟ ان صاحب کے بقول حسین نواز نے جواب دیا کہ ’چوہدری صاحب مجھے اگر میرے والد اجازت دیں تو میں ان کے لیے ابھی اس 39 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانے کو تیار ہوں۔ لیکن میرے والد نے مجھے ان مقدمات سے علیحدہ رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔‘

عرفان صدیقی کو کال موصول ہوئی جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ چودھری نثار کی کال تھی، کہہ رہے تھے کہ ’لاہور میں ہوں صبح آپ کو ملنے آتا ہوں۔ ‘عرفان صدیقی نے ماضی کا قصہ چھیڑتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف اور چوہدری نثار میں جب ناراضگی چل رہی تھی، تو میں ہی نواز شریف کو منا کر ان کے گھر لے گیا تھا۔ ’لیکن اب مجھے چودھری نثار کی باتیں اچھی نہیں لگتی، کیونکہ اب وہ چودھری نثار علی خان بن چکے ہیں۔‘

عرفان صدیقی تھکے ہوئے تھے صوفے پر ٹیک لگائے گرفتاری کا احوال بتانے لگے۔ ’گرفتاری کے وقت جیب میں  پیسے نہیں تھے، پھر گھر کا ایک فرد ملنے آیا میں نے اس کو کہا کہ میرے لیے ٹوتھ برش اور دوائیں خرید کر لے آؤ۔ اس سے میں نے پانچ ہزار روپے بھی نقد لے لیے۔ وہ دواؤں کے ساتھ، کچھ پھل بھی لے آیا۔ جو بعد میں جیل میں میرے بہت کام آئے۔ جیل میں آٹھ بائی آٹھ (8/8) فٹ کے سیل میں رکھا گیا۔ رات نیند نہیں کی۔ فرش پر رات سلایا گیا۔ آٹھ فٹ میں کہاں پلنگ آتا ہے؟ تین دن سے سویا نہیں ہوں۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ اتوار کو یہ سب کیسے ہوا؟ جواب دیا کہ’ آپ تو صحافی ہیں آپ کو پتہ ہو گا میں تو جیل میں تھا۔‘

ان کے وکیل حافظ منور بھی مجھے ان کے گھر پر ہی ملے۔ میں نے ان سے وہی سوال دہرایا کہ سوموار کا کیس اتوار کے لیے کیسے مقرر ہو گیا؟ مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’بس ہو گیا۔‘ میرے مزید پوچھنے پر انہوں نے جواب دیا کہ صبح مجھے کال موصول ہوئی بتایا گیا کہ آپ کا کیس آج (اتوار) سماعت کے لیے مقرر ہو گیا ہے، مجسٹریٹ مہرین بلوچ کی عدالت آئیں۔ ’بس تھوڑی دیر ہی دلائل دیے۔‘

وکیل حافظ منور نے میرے چہرے پر تھپکی لگائی اور مسکراتے ہوئے  کہا کہ ’میں نے تو مچلکے بھی ان سے ہی جمع کروائے ہیں۔‘ کہنے لگے کہ ’انہوں مچلکوں کی رسیدیں خود دے دیں۔ عدالت سے روبکار لی اور اڈیالہ جیل گیا۔‘

حافظ منور نے مجھ سے پوچھا کہ ’عادل بھائی آپ کو پتہ ہے کہ اڈیالہ جیل پر میری گاڑی کا دروازہ کس نے کھولا؟ میں جب جیل پہنچا تو سپرنٹنڈنٹ جیل کھڑے تھے انہوں نے میری گاڑی کا دروازہ کھولا!‘

عرفان صدیقی نے ایک اور دلچسپ بات بتائی۔ کہنے لگے ’مجھے جیل میں بتایا گیا کہ آپ کی روبکار آ رہی ہے، پھر کچھ دیر بعد دوبارہ بتایا گیا کہ روبکار پر سٹیمپ نہیں لگے۔ میں نے پوچھا اب کیا ہو گا؟ بتایا روبکار واپس نہیں لے جا رہے بلکہ سٹیمپ کسی اور کے ہاتھ منگوا لیے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ اڈیالہ جیل پہنچے تو وہاں ان کا سامان جمع کیا گیا۔ ’جو پانچ ہزار روپے لے کر گیا تھا وہ بھی جمع کیے گئے۔ خزانچی نے پوچھا کہ پانچ ہزار کی کتنی کی پرچی بنا کردوں؟ اس نے بتایا کہ پرچی سے آپ جیل کی کینٹین سے اشیا ضرورت خرید سکیں گے۔ کینٹین آپ کے سیل سے ہفتے میں دو بار گزرا کرے گی، جو چیزیں آپ کینٹین سے خریں گے  اس کے پیسے آپ کو ادا نہیں کرنا پڑیں گے بلکہ خزانچی کی دی گئی پرچی سے کینٹین والا منہا کر دیا کرے گا۔‘

عرفان صدیقی کہنے لگے کہ میں نے پھر اس خزانچی کو کہا کہ ’دس ہزار کی پرچی بنا دو۔ اس نے جواب دیا کہ پانچ ہزار پر تین ہزار کی پرچی بنتی ہے۔‘ آخر خزانچی نے چار ہزار روپے کی پرچی بنا کر دے دی۔‘

عرفان صدیقی کیس میں کئی ڈرمائی موڑ آئے، اول تو عرفان صدیقی کی پیشی کے موقعے پر صحافیوں کو کمرہ عدالت نہیں جانے دیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اے ایس آئی نے صحافیوں کو بتایا کہ حکم ہے آپ کو اندر جانے نہیں دے سکتے۔

خیر، عرفان صدیقی کا گھر ان کے بیٹے کے نام پر تھا۔ گھر لیز پر دینے کا معاہدہ بھی ان کے بیٹے عمران صدیقی نے کرایہ دار جاوید کے ساتھ کیا تھا۔ بتایا گیا کہ عرفان صدیقی کے بیٹے عمران ملک سے باہر تھے، اسی لیے عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگانے کا نوٹس بھی لیا ہے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی آئی جی اسلام آباد کو معاملے کی رپورٹ سمیت پارلیمنٹ میں طلب کیا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ عرفان صدیقی کی گرفتاری سیاسی نہیں، پاکستانی پولیس بیٹے کی عدم موجودگی میں والد کو ہی گرفتار کرتی ہے۔ مگر چھٹی کے روز ان کی رہائی میں ضرور سیاسی ہاتھ شامل تھا۔

عموماً ہفتے کے روز اگر کسی ملزم کی ضمانت ہوجائے، مگر مچلکے اور روبکار میں تاخیر ہو تو پھر سوموار کو ہی رہائی ملتی ہے، لیکن جہاں پر زور ہو تو پھر سب کام باآسانی قبل از وقت بھی ہو جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ