میں نے خاص طور پر ایک نیا پینسل کیس خریدا تھا۔ گذشتہ رات بڑی تندہی سے دوپہر کا کھانا ڈبے میں بند کیا تھا اور کمر پر بیگ اور گلے میں شناختی کارڈ کا فیتہ لٹکائے یونیورسٹی میں اپنے پہلے دن کے لیے روانہ ہو رہی تھی۔ میرے ہم جماعت کیسے ہوں گے؟ لیکچررز کیسے ہوں گے؟ اور کیا 42 سال کی عمر میں، میں اپنے گروپ کی سب سے بڑی طالبہ ہوں گی؟
میگزین ایڈیٹر (ایل میگزین) اور (چار کتابوں کی) مصنفہ کے طور پر ایک کامیاب کیریئر کے بعد نفسیاتی علاج کی تعلیم کی طرف واپسی اپنے ساتھ کئی خدشات لے کر آئی تھی، لیکن جب میں ریجنٹس پارک سے ہوتی ہوئی اس پروقار سرخ اینٹوں والی عمارت کی طرف بڑھی، جو اگلے چار سال کے لیے میرا تعلیمی مسکن بننے والی تھی، تو مجھے جس احساس نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سکون تھا۔ یہ سکون کہ میرے پاس ایک منصوبہ ہے اور میں ایک ایسے نئے کیریئر کی طرف بڑھ رہی ہوں جو شاید بڑھاپے تک میرا ساتھ دے سکے۔
میں اکیلی نہیں ہوں۔ پورے برطانیہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دوبارہ تعلیم کی طرف لوٹ رہی ہے، جو اکثر بھاری مالی بوجھ (ایک ماسٹرز ڈگری کے لیے آپ کو سالانہ 10 ہزار پاؤنڈ سے زائد کے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں) برداشت کر کے اس کام کی تلاش میں ہیں، جو ان کی سابقہ ملازمت کے مقابلے میں زیادہ مستحکم، بامقصد یا محض گزارے کے قابل ہو۔ ہم اس تبدیلی کے لیے ملازمتوں، خاندانوں اور دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے بڑے قرضے بھی لے رہے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن سٹیٹسٹکس ایجنسی کے مطابق، 2022 میں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد بڑی عمر کے طلبہ زیر تعلیم تھے۔ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے طلبہ کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے جو نئی ڈگریاں شروع کر رہے ہیں، خاص طور پر صحت ، تعلیم اور بزنس کے شعبوں میں۔
ایسے وقت میں جب ہمارے بہت سے ساتھی بظاہر اپنی آمدنی کے عروج پر ہوتے ہیں، ہم میں سے کچھ لوگ، طویل مدتی تحفظ کی تلاش میں اپنے موجودہ راستے سے ہٹنے یا پیچھے ہٹنے، یا سیدھا کسی انجانی سمت میں قدم رکھنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ شکر ہے کہ غیر یقینی صورت حال کے ساتھ نباہ کرنا نفسیات کے علاج کی میری تربیت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
میرا دوبارہ تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ پیشہ ورانہ طور پر خوف زدہ کر دینے والے ایک سال کے بعد سامنے آیا۔ میری غیر افسانوی کتاب کی فروخت نہیں ہو سکی (اگر آپ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، تو آج کل کچھ بھی شائع کروانا انتہائی مشکل محسوس ہوتا ہے)۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کا مطلب یہ تھا کہ کاپی رائٹنگ، انداز گفتگو اور مشاورت کا وہ زیادہ تر کام، جس کے لیے مجھے پہلے اچھے پیسے ملتے تھے، تقریباً راتوں رات ختم ہو گیا۔ دریں اثنا امریکہ میں تنوع اور شمولیت کے منصوبوں میں کمی نے گفتگو اور مشاورتی کام کو محدود کر دیا، جس سے میں لطف اندوز ہوتی تھی، جب کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے کئی باقاعدہ فری لانس معاہدے بھی ختم ہو گئے۔
اپنے اس بدترین سال سے پہلے، میں ایک پرسکون فری لانس زندگی گزار رہی تھی، جہاں پرتعیش تعطیلات اور باہر کھانا پینا میرے معمول کا حصہ تھا۔ پھر اچانک میں گرانٹس اور قرضوں کے بارے میں تحقیق کر رہی تھی اور اپنی 80 سالہ ماں سے پیسے ادھار لے رہی تھی۔ مجھے اب بھی لکھنے کے لیے کام مل رہا تھا، لیکن جیسا کہ برطانیہ کا کوئی بھی صحافی آپ کو بتا دے گا کہ صرف اس سے گھر کی خریداری کے لیے لیے گئے قرضے کی قسطیں ادا نہیں کی جا سکتیں۔
تخلیقی صنعتوں میں دو دہائیاں سینیئر سطح تک پہنچنے کی کوشش میں گزارنے کے بعد یہ بہت مایوس کن تھا کہ مجھے اپنے تجربے اور تنخواہ کے درجے سے کہیں کم عہدوں کے لیے درخواستیں دینی پڑ رہی تھیں۔
میڈیا میں قیادتی نوعیت کی نوکریاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور فری لانس کے پانچ برس بعد دوبارہ اس شعبے میں جگہ بنانا میرے لیے مشکل ہو گیا۔ چناں چہ میں نے اپنی انا ایک طرف رکھی اور ریٹیل اور انتظامی نوعیت کی ملازمتوں کے لیے اپنا سی وی بھیجنا شروع کر دیا۔ یہ وہ ملازمتیں تھیں، جو میں آخری بار عمر کی 20 سال کی دہائی کے اوائل میں کیا کرتی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سب سے نچلا موقع وہ تھا جب مجھے کیفے چین بینوگو میں کافی تیار کرنے کی جزوقتی ملازمت کے لیے بھی مسترد کر دیا گیا۔ میں جرائد شائع کرتی رہی تھی، ٹیموں کی قیادت کی تھی اور انعامات جیتے تھے، اس کے باوجود مجھے کافی بنانے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ میں اس طرح مزید نہیں چل سکتی تھی۔ چناں چہ میں نے کچھ ایسا کرنے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف میری آئندہ پیشہ ورانہ زندگی کو محفوظ بنا سکے بلکہ اس وقت، جب ہر چیز بے حد مایوس کن لگ رہی تھی، مجھے دوبارہ مقصد اور معنی کا احساس بھی دلائے۔
ہاں، چیٹ جی پی ٹی نفسیاتی علاج کی دنیا میں بھی قدم رکھ رہا ہے۔ تقریباً ہر روز ایسی سرخیاں سامنے آ رہی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ لوگ جذباتی سہارا حاصل کرنے کے لیے اے آئی کی طرف رجوع کر رہے ہیں، لیکن علاج کے لیے تعلق پر مبنی صلاحیت، جسمانی موجودگی، ہم آہنگی اور انسانی پیچیدگی، ایسی چیزیں ہیں جنہیں کسی بوٹ کے ذریعے نقل نہیں کیا جا سکتا۔
مصنوعی ذہانت کے نظام چاہے جتنے بھی جدید ہو جائیں، میرا خیال ہے کہ لوگ تربیت یافتہ انسانی معالج کے ساتھ 50 منٹ گزارنے کے اعزاز کے لیے ادائیگی کرتے رہیں گے۔ کم از کم میں اور میرے ایم اے کورس کے وہ دوسرے طلبہ جو دوسرے کیریئر کا رخ کر رہے ہیں، خود کو یہی تسلی دیتے ہیں۔
اور نہیں۔ میں کمرہ جماعت میں سب سے عمر رسیدہ نہیں ہوں۔ ہمارے بیچ عمر کی 30 کی دہائی کے اوائل سے لے کر 60 کی دہائی کے وسط تک کے لوگ موجود ہیں۔ ہم قانون، تدریس، فیشن، ٹیکنالوجی، صحافت، والدین بننے، تھکن، برطرفی اور غم جیسے شعبوں سے آئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک امید کر رہا ہے کہ کچھ نیا پڑھنے سے ہمیں وہ مستقبل بنانے میں مدد ملے گی جو اس سے زیادہ مضبوط ہو جو ہم نے کھونے کے قریب محسوس کیا تھا۔
ایک سال تک مل کر تربیت حاصل کرنے کے بعد ہم ایک دوسرے کے ساتھ گہرا لگاؤ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ان کی حمایت نے مجھے اپنی زندگی کے سب سے پیشہ ورانہ لحاظ سے مشکل برسوں میں سنبھالے رکھا۔ ہم نے اس مرحلے پر دوبارہ پڑھائی کرنے کی خوشی میں رفاقت قائم کی اور اس بات پر بھی کہ ہم ان انڈرگریجویٹس سے کتنے مختلف ہیں، جو اس خاص طور عیش پرست لندن یونیورسٹی میں ’ایمیلی ان پیرس‘ کے اضافی کرداروں کی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ میں نے کیفے کی قطار میں کھڑے رہتے ہوئے نجی جیٹ اور فیشن کے حوالے سے لامتناہی بات چیت سنی ہے۔ مجھے اکثر لیکچرر سمجھ کر راستہ بھی پوچھا جاتا ہے۔
سکون دینے والی چند خوشیاں بھی ہیں۔ یعنی اپنا مضمون جمع کروانا، بغیر یہ فکر کیے کہ میرا مضمون آن لائن کیسے ’کارکردگی‘ دکھائے گا۔ دوبارہ آہستہ آہستہ پڑھنا سیکھنا۔ کبھی کبھی غیر آرام دہ انداز میں یہ دریافت کرنا کہ جب آپ اپنی تجزیاتی صلاحیتیں اندر کی طرف موڑ دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔
دوبارہ تربیت حاصل کرنے سے مجھے وہ سمت مل گئی ہے جو صرف مارکیٹ کے تحت نہیں ہے۔ اس نے مجھے یاد دلایا کہ میری پیشہ ورانہ زندگی اب بھی بڑھ سکتی ہے، سکڑ نہیں سکتی۔ 42 سال کی عمر میں یونیورسٹی واپس جانا یہ سکھا گیا کہ دوبارہ شروع کرنا ناکامی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو یہ رجحان بن رہا ہے یعنی اپنے پہلے سال مکمل کرنے کے بعد، میں کم از کم چھ اور صحافیوں اور فیشن ایڈیٹرز کو جانتی ہوں، جنہوں نے یہی قدم اٹھایا ہے۔
جب بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور ’پرانا میڈیا‘ ٹک ٹاک ویڈیوز اور اے آئی کی دنیا میں ہاتھ پیر مار رہا ہے، تو یہ حیران کن نہیں کہ صنعت کے کچھ باصلاحیت لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کی مہارتیں کس طرح منتقل ہو سکتی ہیں؟ وہ دوسرا موقع حاصل کرنے کے لیے دوبارہ سکول جا رہے ہیں۔
© The Independent