جن کو میرے کھیلنے پر اعتراض تھا آج وہ فخر کرتے ہیں: اورین جسیا

پشاور میں مقیم قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی اورین جسیا گذشتہ 13 سال سے ٹینس کھیل رہی ہیں اور اس وقت خیبر پختونخوا کی صوبائی ٹینس ٹیم کی کپتان ہیں۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خاتون ٹینس کھلاڑی اورین جسیا کہتی ہیں کہ محکمہ کھیل اگر لڑکیوں کو سپورٹ کرے تو نہ صرف صوبے بلکہ ملک کے لیے بھی میڈلز جیتے جا سکتے ہیں۔  

پشاور میں مقیم قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنی والی اورین جسیا گذشتہ 13 سال سے ٹینس کھیل رہی ہیں اور اس وقت خیبر پختونخوا کی صوبائی ٹینس ٹیم کی کپتان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پاکستان میں کھیلے گئے آخری ٹورنامنٹ میں وہ ساتویں نمبر پر رہی تھیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اورین جسیا نے بتایا کہ شروع میں انہیں خاندان کی طرف سے مسائل کا سامنا رہا۔ ’وہ مردوں کے ساتھ میرے ٹینس کھیلنے پر بالکل تیار نہیں تھے، لیکن میری ضد تھی اور بابا کی سپورٹ کی وجہ سے آج میں صوبہ خیبر پختونخوا کی ٹینس ٹیم کی کپتان ہوں اور میرے خاندان کے جن افراد کو میرے کھیلنے پر اعتراض تھا آج وہ مجھ پر فخر کرتے ہیں۔‘

اورین نے بتایا کہ انہوں نے اب تک سات انٹرنیشنل میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ قومی سطح پر حاصل کیے گئے میڈلز کو ملا کر ان کے حاصل کردہ اعزازات کی تعداد 28 بنتی ہے۔

11 ملکوں میں ٹینس ٹورنامنٹس کھیلنے والی اورین جسیا سات میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رہیں۔

انہوں نے 2022 میں ترکی سے ٹینس کا ایک انٹرنیشنل کوچنگ کورس بھی کیا، تاہم گذشتہ دو سال سے انٹرنیشنل اور ایک سال سے قومی ٹورنامنٹ نہیں کھیل پائی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اورین نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مقابلے میں پنجاب حکومت کھیلوں کو بہت زیادہ سپورٹ کرتی ہے اور وہاں تقریباً ہر مہینے نئی خواتین کھلاڑی سامنے آتی ہیں، جو مقابلوں میں ہمارے کھلاڑیوں کو شکست دیتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹینس ایک مہنگا کھیل ہے، جس پر ہر مہینے 60 سے 70 ہزار روپے کا خرچہ ہو سکتا ہے۔

’میں آرمی کے لیے کھیلتی ہوں اور آرمی بڑا سپورٹ کرتی ہے۔ وہ ٹیم انٹر سروس ہو یا ویسے ہو میرے لیے سب کچھ ہے۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی برسوں سے کھیلتی آرہی ہیں اور صوبے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اعزازات لائی، لیکن ابھی تک کسی ٹورنامنٹ کا انعقاد نہیں کیا گیا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختوںخوا کی لڑکیوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے، لیکن حوصلہ افزائی کی کمی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین