عمران خان کو پنجاب کا ’ہیرا‘ مل گیا؟

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویز الہٰی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے لیکن اس سے بظاہر کوئی فرق پڑنے والا نہیں کیوں نے پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی کی پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔

مونس الٰہی 25 جولائی 2022 کو اسلام آباد میں (اے ایف پی)

پاکستان میں بسا اوقات فتح کا تاج اسی سیاسی جماعت کے سر سجتا رہا ہے جس کو آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے بسنے والوں کی حمایت حاصل رہی، اس لیے ملک کی ہر بڑی سیاسی جماعت کی توجہ کا مرکز یہی صوبہ رہا ہے۔

کئی دہائیوں تک مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مرکز سمجھے جانے والے اس صوبے میں 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف ایک بڑی جماعت بن کر ابھری اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی اسی پارٹی کے پاس رہی۔

گذشتہ چار سال سے زائد عرصے سے گجرات کے چوہدریوں کی جماعت مسلم لیگ (ق)، تحریک انصاف کی حلیف رہی لیکن دونوں پارٹیوں میں قربت گذشتہ سال مارچ سے آئی جب عمران خان نے اپنی ہی جماعت کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹاتے ہوئے صوبے کے سب سے اہم منصب کے لیے مسلم لیگ (ق) کے پرویز الہٰی کو نامزد کر دیا۔

لیکن اس کے ساتھ ہی چوہدری خاندان میں سیاسی اختلاف منظر عام پر آنا شروع ہوئے کیوں کہ اس جماعت کے صدر چوہدری شجاعت اس حق میں نہیں تھے کہ پرویز الہٰی تحریک انصاف کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنیں لیکن پرویز الہٰی نے یہ بات نہ مانی اور وزیراعلیٰ بن گئے۔

پرویز الہٰی نے رواں ماہ عمران خان کی خواہش پر نہ صرف پنجاب کی اسمبلی تحیل کر دی بلکہ اب اپنی پارٹی تحریک انصاف میں ضم کرنے کا عندیہ بھی دے دیا جس کے بعد چوہدری خاندان کے اندرونی اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویز الہٰی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے لیکن اس سے بظاہر کوئی فرق پڑنے والا نہیں کیوں نے پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی کی پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔

خود عمران خان بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ق لیگ کا مستقبل تحریک انصاف کے ساتھ  ہے اور وہ چاہتے ہیں دونوں جماعتوں کا تعلق محض سیاسی اتحاد تک نہ ہو بلکہ وہ ایک ہو جائیں۔

پرویز الہٰی کا شمار ملک کے زیرک سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور ان کے صاحبزادے مونس الہٰی کو عمران خان کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔  پرویز الہٰی کی تحریک انصاف میں شمولیت کی صورت میں صرف عمران خان کو ایسا ’ہیرا‘ میسر نہیں ہو گا جو کہ اُن کی پارٹی کو صوبے میں تقویت دے گا بلکہ پرویز الہٰی کو بھی شاید یہ موقع مل سکے کہ وہ ایک بار پھر صوبے کے اعلی انتظامی منصب تک پہنچ سکیں۔

لیکن ایسا ہوتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا کیوں پکچر ابھی باقی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ