عمران خان پر حملے کا معاملہ: آئی جی پنجاب پارلیمان میں طلب

اجلاس کے دوران سابق رکن اسمبلی شاندانہ گلزار نے انکشاف کیا کہ ’جون 2022 میں میرا آفیشل پاسپورٹ مجھ سے لے لیا گیا۔ سپیکر اور سیکرٹری قومی اسمبلی نے ہراساں کیا۔ سیکرٹری قومی اسمبلی نے میرے گھر پر چھاپہ مارنے کی اجازت دی۔‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان وزیر آباد کے قریب لانگ مارچ میں حملے کے ایک دن بعد چار نومبر 2022 کو لاہور میں (اے ایف پی)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ہونے والے حملے کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اراکین سینیٹ نے پہلے سے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو ختم کر کے نئی ٹیم تشکیل دینے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’پہلی جے آئی ٹی کن وجوہات کی بنا پر ختم کی گئی جبکہ ٹیم کی تشکیل کا اختیار وفاقی حکومت کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا ہے؟‘

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور رکن کمیٹی شہزاد وسیم نے کہا کہ ’افسوس ہے کہ وزارت داخلہ سابق وزیراعظم پر حملے کی رپورٹ سے متعلق لاعلم ہے۔ سیکرٹری داخلہ کمیٹی میں نہیں آتے جبکہ اجلاس میں موجود حکام جے آئی ٹی رپورٹ کی تفصیلات سے لاعلم ہیں۔‘

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو سابق وزیر اعظم عمران خان پر وزیر آباد شہر میں ہونے والے حملے پر بنائی گئی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) سے متعلق بتایا کہ ’حملے کی تحقیقات کے لیے پہلی ٹیم اس لیے ختم کی گئی کیوں کہ اس کی سربراہی کرنے والے شخص پر کئی الزامات تھے اور ان کو معطل بھی کیا گیا تھا جبکہ وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیم میں ایجنسیوں کے لوگ بھی شامل نہیں تھے،  نئی جے آئی ٹی وفاقی کابینہ کے اختیار کی روشنی میں بنائی گئی ہے۔ اس جے آئی ٹی کی رپورٹ آئے گی تو جمع کروا دیں گے۔‘

اس کے جواب میں رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا ’لوگوں کو اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے پھر کہتے ہیں معاملہ عدالت میں ہے، سابق وزیراعظم پر حملے کی رپورٹ اگر چھ ماہ میں نہیں آسکتی تو عام آدمی کا کیا ہو گا۔‘

چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں انسپیکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کو طلب کر لیا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں سابق رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار پر غداری کا مقدمہ بنائے جانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اجلاس کے دوران شاندانہ گلزار نے انکشاف کیا کہ ’جون 2022 میں میرا آفیشل پاسپورٹ مجھ سے لے لیا گیا۔ سپیکر اور سیکرٹری قومی اسمبلی نے ہراساں کیا۔ سیکرٹری قومی اسمبلی نے میرے گھر پر چھاپہ مارنے کی اجازت دی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے سیکرٹری قومی اسمبلی سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان جو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی ہیں، سے بھی ہراسانی کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے کہا ’آپ نے خود استعفی دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر نوٹیفکیشن روکا۔ پولیس لائن میں میں نے تو بم نہیں پھاڑا جو میرے خلاف مقدمہ درج ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاندانہ گلزارکے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان کے نجی ٹیلی وژن چینل پر پروگرام کو دیے گئے انٹرویو کا ذکر کیا گیا ہے۔ درج شدہ مقدمے میں بغاوت، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ نجی ٹی وی پروگرام میں شاندانہ گلزار نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ انہوں نے پروگرام میں رواں سال 30 جنوری  کو شرکت کی جبکہ ایف آئی آر میں مدعی 31 جنوری کا ذکر کر رہا ہے۔

چیئرمین کمیٹی محسن عزیز نے کہا کہ ’اگر شاندانہ گلزار کا بیان بغاوت ہے تو پھر پوری کمیٹی بغاوت کی مرتکب ہوئی ہے۔‘

شاندانہ گلزار نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکرٹریٹ پولیس نے ان کے گھر پولیس آنے کے خلاف درخواست تک نہیں لی۔ ’مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ آپ کے ساتھ شہباز گل جیسا سلوک ہوگا۔‘

آئی جی اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ ’یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے یہاں اس معاملے کو زیر بحث نہ لایا جائے، کیا عدالت یہاں لگانی ہے؟‘

چیئرمین کمیٹی نے شاندانہ گلزار سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’شاندانہ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں اور کچھ نہیں کر سکتا، آپ کے ساتھ جو ہو رہا ہے نہیں ہونا چاہیے، ہم آپ کے لیے صرف اتنا کر سکتے تھے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان