’بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا‘

بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پریشانی میں پُرخطر آپشنز اختیار کرسکتا ہے، اس لیے پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا منظر (فوٹو:وزیراعظم ہاؤس)

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھارتی جارحیت سے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ نئی دہلی کی کسی بھی جارحیت کا قوم کے تعاون سے بھرپور جواب دیا جائے گا اور پاکستان ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج وزیراعظم آفس میں ہوا جس میں ملک کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اس لیے عالمی برادری بھارت کے غیر ذمہ دارانہ، جانبدارانہ اور غیر فطری رویے کا نوٹس لے۔

وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ ’بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پریشانی میں پُرخطر آپشنز اختیار کرسکتا ہے، اس لیے پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’بھارت کو کشمیر میں قابض رہنے کا کوئی بھی جواز میسر نہیں رہا۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے اور بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بنا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازع کے پرامن حل کی طرف بڑھے۔ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے کا امن تباہ ہورہا ہے۔‘

اجلاس میں شامل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف کشمیریوں کو پاکستان پر مکمل اعتماد ہے اور پوری کشمیری قوم بھارتی جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔

قومی سلامتی کمیٹی کا یہ ہنگامی اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب گزشتہ کئی روز سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی نیلم کے علاقے نوسیری اور کنٹرول لائن سے ملحقہ دیگر علاقوں میں بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ 

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فورسز نے 30 اور31 جولائی کی درمیانی شب وادی نیلم پر بھاری توپخانہ سے کلسٹر بم پھینکے، جس کے نتیجے میں کمسن بچے سمیت 2 افراد ہلاک جبکہ  11 زخمی ہوئے۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے بیان میں کہا: ’بھارت نے ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کرکے 2008 کے کنونشن کی دھجیاں بکھیر دیں۔‘

جینیوا کنونشن کے تحت کلسٹر بارود کا استعمال ممنوع ہے کیونکہ اس کے استعمال سے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس سے قبل قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس رواں برس فروری میں طلب کیا گیا تھا جب بھارت کی جانب سے بالا کوٹ میں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ 

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات کی اور کنٹرول لائن کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر او آئی سی سے فوری طور پر اس گھمبیر صورت حال کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں سابقہ سیکرٹریز کا ایک ہنگامی مشاورتی اجلاس بھی طلب کیا جس میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور سابقہ خارجہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس میں کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور تشویشناک صورتحال پر مشاورت کی گئی اور بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے یہ فیصلہ حریت کے رہنما سید علی گیلانی کی ٹویٹ کے بعد کیا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی ’بھارتی جارحیت‘ پر ایس او ایس کال دیتے ہوئے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کیا تھا۔

عسکری ذرائع کے مطابق بھارت نے رواں سال 19 جولائی سے 3 اگست تک فائربندی کی 144 بار خلاف ورزیاں کیں، جن میں 47 معمولی نوعیت جب کہ 97 شدید خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق رواں سال بھارتی فورسز نے فائر بندی کی 1876 خلاف ورزیاں کیں۔ رواں سال 3 اگست تک بھارتی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک جبکہ 148 زخمی ہوچکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان