کشمیر پر نہ کوئی احتجاج نہ شدت پسند متحرک: وجہ کیا ہے؟

بدلی ہوئی زمینی حقیقت یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد ماضی کے برعکس مجموعی پاکستانی ردعمل کی شدت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

اسلام آباد میں پولیس اہلکار کشمیریوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کے شرکا کو انڈین ہائی کمشن کا رخ کرنے سے روکنے کے لیے خاردار تاریں لگائے ہوئے موجود ہیں۔(اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کسی بھی چھوٹے بڑے واقعے کا پاکستان میں ردعمل آنا ہمیشہ سے ایک لازمی امر رہا ہے۔ اس ردعمل کی شدت کا انحصار سرحد پار واقعات کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

سال 2016 میں علیحدگی پسند کشمیری جنگجو برہان الدین وانی کی ہلاکت ہو یا بھارتی جموں و کشمیر کے کسی حصے میں کرفیو کا نفاذ، پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں ایسے واقعات کی مذمت اور ان کے خلاف ہڑتالیں اور احتجاج کرنے میں پیچھے نہیں رہتیں۔

تاہم 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ایک بدلی ہوئی زمینی حقیقت سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد پاکستان میں اس کے ردعمل میں اس شدت سے احتجاج دیکھنے میں نہیں آ رہا۔

 محض چند چھوٹی چھوٹی ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے تو ضرور نکالے گئے لیکن پاکستان کے کسی شہر میں کشمیریوں کی حمایت میں کوئی بڑا ہجوم سڑکوں پر نہیں نکالا جا سکا۔ نہ ہی دفاع پاکستان کونسل جیسا صف اول کی مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد تشکیل پا سکا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی کسی بڑی ریلی کا انعقاد نہیں دیکھا گیا ہے جس کی وجہ شاید 15 اگست کو یوم سیاہ کا انتظار ہوسکتا ہے۔

ماضی میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے کشمیری علیحدگی پسندوں کے لیے چندے اکٹھے کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ کئی مذہبی رہنما پاکستانی نوجوانوں کو کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف لڑنے کی ترغیب بھی دیتے رہے ہیں۔

حکومت پاکستان ایسے کئی گروہوں اور تنظیموں پر پابندیاں لگانے کے علاوہ ان کی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے کئی اقدامات بھی اٹھاتی رہی ہے۔

پاکستان کی مذہبی جماعتیں کیوں خاموش ہیں؟ 

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو پانچ دن گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کسی مذہبی یا سیاسی جماعت یا تنظیم کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں کا رخ نہیں کیا، نہ کوئی بظاہر چندہ مہم اور نہ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اتنی بڑی پیش رفت کے باوجود پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی خاموشی کو مبصرین وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔

سیاسی اور دفاعی امور کے ماہر اور تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پِیس سٹڈیز (پِپس) کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا کی رائے میں اس وقت ریاست پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بہت زیادہ ہے جس کے باعث مذہبی جماعتوں کو کشمیر کے سلسلے میں کھل کھیلنے کی اجازت نہیں مل پا رہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’ریاست پاکستان کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں اگر ان گروہوں کو وہ کچھ کرنے کی اجازت دے دی جائے جو وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔‘

اس سلسلے میں ایک بڑا دباؤ ایف اے ٹی ایف کا ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف کام کرنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 10 اکتوبر کو ہو رہا ہے جس میں پاکستان کے دہشت گردی اور اس کی مالی امداد کی حوصلہ شکنی کے لیے  اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


تاہم انصارالامہ کے رہنما فضل الرحمان خلیل نے دعویٰ کیا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی مدد اور حمایت جاری رکھیں گے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ساری پاکستانی قوم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہے اور ان کی اخلاقی اورسفارتی مدد اور حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پاکستان میں کم شدت کے ردعمل سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر ان کی جماعت کے اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے تک مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’یہ صرف آغاز ہے۔ وقت کے ساتھ احتجاج میں شدت آتی جائے گی۔‘

تاہم پاکستان حکومت نے بھارت کے یوم آزادی یعنی 15 اگست کو بھارتی جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف سرکاری طور پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

نظریاتی اختلافات کے باوجود ماضی میں پاکستان کی غیر مذہبی اور سیکولر سیاسی جماعتیں بھی کشمیر کے مسئلے پر مذہبی حلقوں کے شانہ بشانہ نظر آتی رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی تقریباً ہر سیاسی جماعت کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ہمیشہ سے پیش پیش نظر آئی مگر اس مرتبہ ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ میڈیا کو جاری کیے گئے بیانات اور پارلیمانی بحث میں حصہ لینے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنما کشمیری مسلمانوں کے حق میں سڑکوں پر نظر نہیں آ رہے۔ مسلم لیگ ن کی مریم نواز نے اپنی احتجاجی ریلیوں میں کشمیر پر کچھ بات کی لیکن ان کی تنقید کا نشانہ حکومت ہی رہی۔ اب وہ بھی نیب کی حراست میں ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پِیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’سیاسی جماعتوں کو تو حکومت نے دیوار سے لگا رکھا ہے۔ وہ کیسے عملی طور پر کسی قسم کا احتجاج کر سکتی ہیں؟‘

 اسلام آباد میں کشمیری تھنک ٹینک کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چئیرمین الطاف حسین وانی کا خیال ہے کہ پاکستان کو ہر طریقے سے کشمیریوں کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی اور اخلاقی امداد کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو کشمیری مسلمانوں کو چاہیے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے جس سے کشمیری مسلمانوں کا بہت فائدہ ہوگا۔‘

کشمیری شدت پسند کہاں ہیں؟

ماضی میں پاکستان پر کشمیری علیحدگی پسند تنظیموں کو سفارتی اور اخلاقی حمایت کے علاوہ مالی اور عسکری امداد فراہم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مختلف حصوں میں بھارتی کشمیری اور پاکستانی نوجوانوں کو عسکری تربیت کے لیے کیمپوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

واشنگٹن میں ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرزمیں ایشیائی پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمن میگزین ’فارن پالیسی‘ کے لیے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں: ’دہلی کے لیے فوری خطرہ تھا کہ پاکستان اپنے ردعمل کا اظہار اپنے آزمودہ اور وفادار عسکریت پسند بھارتی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار بھیج کے کر سکتا ہے۔ ماضی قریب میں حالات تبدیل ہوئے ہیں اور اس خطے میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے اب مقامی کشمیری نوجوان زیادہ ہیں جنہیں حالات نے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘

مائیکل کوگلمن اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’بھارت کی جانب سے آئین کی شق 370 کا خاتمہ پاکستان کو اپنے ماضی کے اس قیمتی اثاثے کو دوبارہ استعمال کرنے کی وجہ فراہم کر سکتا ہے۔‘

پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں زمینی حقیقت پہلے کی نسبت بالکل مختلف ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف حصوں میں موجود علیحدگی پسند تنظیموں کے دفاتر اور تربیتی کیمپ اس سال کے شروع سے مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔

مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی ذوالفقار علی کے مطابق گذشتہ 32 برس میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مظفر آباد اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دوسرے حصوں میں سرحد پار سے آئے ہوئے علیحدگی پسندوں کے دفاتر اور تربیتی کیمپ بند ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں بالکل بند ہیں جبکہ ان پر نظر بھی رکھی جا رہی ہے کہ وہ دفاتر دوبارہ نہ کھول سکیں۔

مظفرآباد میں رہائش پذیر عسکریت پسند گروپ کے ایک کمانڈر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمیں اکٹھے بھی نہیں ہونے دیا جاتا۔ شاید اس لیے کہ ہم کوئی منصوبہ بندی نہ کر سکیں۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عسکریت پسند کشمیری کمانڈر نے کہا: ’ہمارے دفاتر اور کیمپوں میں موجود ہتھیار بھی لے لیے گئے ہیں۔‘

ذوالفقارعلی نے بتایا کہ مظفر آباد اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دوسرے حصوں میں تین سے چار ہزار سرحد پار سے آئے ہوئے ایسے سابق علیحدگی پسند کشمیری اب بھی رہتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ روز ٹی وی اینکرز سے ایک ملاقات میں شدت پسند تنظیموں کو بھارتی کشمیر میں دوبارہ استعمال کرنے کے امکانات کو رد کر دیا تھا۔ معروف اینکر اور صحافی عنمبر رحیم شمسی جو اس ملاقات میں موجود تھیں نے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’انہوں (وزیر اعظم عمران خان) نے کہا کہ (جہادی تنظیموں کو استعمال کرنے کے) فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔‘

البتہ جمعے کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں کشمیریوں کے حق میں ایک ریلی میں خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے پاکستانی اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ’جہاد‘ کا اعلان کر دیں۔ 

ان کا کہنا تھا اگر حکومت نے ایسا نہیں کیا تو نجی طور پر لوگ ایسا کریں گے جوکہ نہ صرف غلط ہوگا بلکہ بدانتظامی اور انتشار بھی پھیلائے گا۔ 

بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند کتنے موثر ہیں؟

اسلام آباد میں مقیم کالعدم علیحدگی پسند کشمیری تنظیم کے ایک سابق کمانڈر کی رائے میں سرحد پار کے علیحدگی پسندوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر اس لڑائی کو کسی منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔ اس کشمیری کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی کشمیریوں کے پاس وسائل ہیں اور نہ صلاحیتیں ہیں۔ ’انہیں مالی امداد کے علاوہ افرادی قوت اور تربیت بھی چاہیے ہوگی۔‘

تاہم کشمیری تھنک ٹینک کے چئیرمین الطاف حسین وانی کے رائے میں ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے کشمیریوں کے جذبات کو بہت زیادہ ٹھیس پہنچائی ہے اور اب کشمیری مسلمانوں کا رویہ بھارت کی طرف بالکل بدل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس کشمیری مسلمان بھارتی حکومت اور فوج سے نہیں بلکہ بھارت کے لوگوں سے بھی نفرت کرے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’اب وہاں مزاحمت کا کینوس بڑا ہو جائے گا۔ اب نہ صرف وادی کشمیر اور جموں بلکہ لداخ میں بھی مزاحمت دیکھنے کو ملے گی۔‘

الطاف حسین وانی کا خیال تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر کشمیری نوجوانوں میں شدت پسندی کے رجحانات کو فروغ ملنے کے پورے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا: ’میرے جیسے لوگ جو ہمیشہ پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے رہے ہیں کے بیانیے کو نریندر مودی کی حکومت نے ایک آئینی ترمیم سے ہی کمزور اور دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کی کسی قسم کی مدد کے بغیر بھی کشمیری مسلمان بھارت سے علیحدگی کی تحریک کو چلائیں گے۔ اور اس سے وہاں حالات زیادہ خراب ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان