کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کے سات ممکنہ راستے

بدقسمتی سے حکومت نے ملک میں جو سیاسی حالات پیدا کر رکھے ہیں اور جس قسم کی نفرت اور تقسیم کی مہم چلائی ہوئی ہے اس سے نہیں لگتا کہ حکومت کو ایک متحدہ اور ہم آہنگ ردعمل کی تشکیل میں دلچسپی ہے۔

بھارتی فوجی سر نگر کی ایک گلی کو بند کرنے کے لیے خاردار تاریں لگا رہے ہیں (اے پی)

وزیراعظم عمران خان کی امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر پر ایک اور شدید وار کیا ہے۔ اس سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے تشخص کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی قانونی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔

واشنگٹن سے واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر ایک جشن کا اہتمام کیا گیا جہاں وزیر اعظم کو ایسا لگا کہ جیسے وہ ورلڈ کپ دوبارہ جیت کر آئے ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کو اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ اس وقت ایسا لگا کہ شاید ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کے ممکنہ اقدام کے بارے میں ہمارے وزیر اعظم کو بتا دیا تھا اور شاید اسی لیے ثالثی کا عندیہ بھی دیا تھا۔ لیکن ہمارے وزیر اعظم بظاہر اس اطلاع کو سمجھ نہ پائے اور اگر سمجھ پائے تو اس ناپاک قدم پر اس قدر خوشی کا کیا مقصد تھا؟

وزیر اعظم مودی کے کشمیر کے بارے میں اعلان کا وقت انتہائی معنی خیز ہے۔ یہ اعلان ہمارے وزیر اعظم کی امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد کیا گیا جوکہ اس شک کو مزید تقویت دیتا ہے کہ شاید ہمارے وزیر اعظم سے اس تبدیلی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا اور انہوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کی۔ حکومت کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے کہ واشنگٹن میں کشمیر سے متعلق کیا بات ہوئی اور وزیراعظم سے کیا کیا وعدے وعید کیے گئے۔ اس معاہدے کو خفیہ رکھنا کسی طور پر بھی نہ تو ملک کے سیاسی استحکام کے لیے اور نہ ہی جدوجہد کشمیر کے لیے سود مند ہوگا۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ واشنگٹن یاترا کے بعد یہ واضح ہونے لگا تھا کہ مودی سرکار کشمیر کے بارے میں یہ اقدامات اٹھانے والی ہے لیکن اس کی تیاری کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہی دنوں وزیر خارجہ نے حج کا ارادہ کر لیا اور اقوام متحدہ نیویارک میں ہماری سفیر چھٹیوں پر چلی گئیں۔ کیا یہ ان حساس حالات کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں تھی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم واشنگٹن دورے کے فوراً بعد اپنے دوست ممالک سے رابطہ کرتے اور انہیں اس صورتحال کی نزاکت سے آگاہ کرتے، انہیں قائل کرتے کہ وہ بھارت سے اس سلسلے میں بات چیت کریں۔ لیکن ہم تو لمبی تان کر سوئے رہے۔ ہم نے تو ان شہزادوں سے بھی رابطہ نہیں کیا جن کی ہم شوفر گیری کرتے رہے۔ واشنگٹن دورے کے بعد ہماری مکمل خاموشی ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب صورتحال یہ ہے کہ ہم دنیا میں تنہا نظر آ رہے ہیں۔ چین نے ہماری حمایت تو کی ہے مگر دبے لفظوں میں۔ ترکی کے علاوہ کسی ملک نے کھل کر ہماری حمایت نہیں کی۔ متحدہ عرب امارات نے تو اسے بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے دیا۔ او آئی سی کو بھی سانپ سونگھا ہوا ہے جو ہماری سفارت کاری کی ’کامیابی‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہماری مقامی سیاست بھی اس معاملے میں طرفہ تماشا سے کم نہیں تھی۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بغیر تیاری کے ہوا اور حکومت کے لیے کئی بار شرمندگی کا باعث بنا۔

اجلاس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی لیکن اس کے لیے کوئی تردد نہ کیا گیا۔ وزیراعظم خود اجلاس میں بہت دیر سے آئے اور وزیر خارجہ کئی تقاریر کے دوران غیرحاضر رہے۔ ستم در ستم یہ کہ ایک انتہائی ناقص قرار داد تیار کی گئی اور ایک غیرمتعلقہ وزیر کے ذریعے پارلیمان میں پیش کی گئی۔ ان سب اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس بابت کتنی سنجیدہ تھی۔

مودی کے اعلان نے ہمارے لیے بہت مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ان سے نہ صرف جارحانہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے بلکہ کچھ سخت اقدامات کی تیاری بھی لازم ہے۔ بدقسمتی سے حکومت نے ملک میں جو سیاسی حالات پیدا کر رکھے ہیں اور جس قسم کی نفرت اور تقسیم کی مہم چلائی ہوئی ہے اس سے نہیں لگتا کہ حکومت کو ایک متحدہ اور ہم آہنگ ردعمل کی تشکیل میں دلچسپی ہے۔

ان مشکل حالات میں بھی حکومت کو فکر ہے کہ کیسے مریم نواز کے اردگرد حصار مضبوط کیا جائے۔ کیسے ان کے جلسوں کی نشریات کو روکا جائے۔ کیسے اظہار رائے پر پابندی مزید سخت کی جائے۔ کیسے مخالف چینلز کو بند کر کے اختلاف رائے کا گلا گھونٹا جائے اور کیسے نجم سیٹھی کو بولنے سے روکا جائے۔ یہ اقدامات ایک خودکش طرز عمل کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور لگتا ہے حکومت اپوزیشن کی مدد کے بغیر اپنے آپ کو گرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

پچھلے 70 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہماری بےانتہا کوششوں کے باوجود اس مسئلے کے بارے میں بین الاقوامی رویہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ 1989 تک تو کشمیر میں میں قدرے خاموشی رہی جس سے بھارت نے کامیابی کے ساتھ اس علاقے پر اپنا قبضہ مضبوط کیا اور کشمیر کو سیاحت کے مرکز کے طور پر دنیا بھر میں پیش کیا۔ پاکستان کے سیاسی حالات بھی کچھ ایسے نہیں تھے کہ کشمیر کے لوگ پاکستان کی طرف رشک کی نظر سے دیکھتے۔ جب پاکستانی عوام  ایوب خان اور ضیا الحق کی آمریت جھیل رہے تھے، اس وقت کشمیر میں جمہوریت کے مزے لیے جا رہے تھے۔

اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس راستے کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ مندرجہ ذیل سطروں میں ان ممکنہ راستوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

1۔ اقوام متحدہ

یہ کھٹن اور مشکل راستہ ہے جس پر ہم پچھلے 70 سال سے بغیر کسی کامیابی کے چلتے رہے ہیں۔ حکومت نے سکیورٹی کونسل میں جانے کی بات کی ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اس سلسلے میں کیا تیاری کی گئی ہے۔ کیا پانچ مستقل ممبران نے کسی قسم کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے اس فورم میں مدد کی جائے گی؟ روس اور امریکہ کی موجودگی میں کوئی ایسی قرار داد جس میں بھارت کو اس مسئلے کے حل پر مجبور کیا جائے ایک معجزے سے کم نہیں ہوگی۔

اگر کوئی قرار داد ویٹو کر دی جاتی ہے تو اس سے کشمیر کے بارے میں پرانی قرار دادوں کی حیثیت بھی مشکوک اور کمزور ہو جائے گی اور نتیجاً شاید بھارت کے قبضے کو قانونی حیثیت اور بین الاقوامی قبولیت بھی مل جائے۔ یہ صورتحال مسئلہ کشمیر کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگی اور ہمیں اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اور صرف اسی صورت میں سیکیورٹی کونسل جانا چاہیے جب سارے کے سارے  مستقل ممبران ہمیں اس مسئلے کے منصفانہ حل کی یقین دہانی کرا دیں۔ 

2۔ او آئی سی

یہاں تمام ممبر اسلامی ممالک کو مل کر بھارت پر سفارتی اور معاشی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ بھی ایک ناکام کوشش ہوگی کیونکہ او آئی سی ممالک امہ کے مسائل کی بجائے اپنے اندرونی مسائل اور معاشی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

3۔ لائن آف کنٹرول

ایل او سی پر درجہ حرارت بڑھانا تیسرا راستہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس میں شدید جانی اور مالی نقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو لمبے عرصے تک معاشی طور پر برداشت کرنا شاید ممکن نہ ہو۔

4۔ جہادی کارڈ

چوتھا راستہ مختلف جہادی گروپوں کو دوبارہ سے متحرک کرنا ہو سکتا ہے لیکن اس قدم سے ہماری بین الاقوامی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا اور FATF کی پابندیاں ہمیں مزید معاشی مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہیں۔

5۔ بھارتی مسلمان

پانچواں راستہ بھارت میں مسلمانوں کو متحرک کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ اس بھارتی قدم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اس سلسلے میں میڈیا کا استعمال کیا جا سکتا ہے مگر اس قدم سےاندرون بھارت موجودہ ماحول میں مسلمان اقلیت پر ظلم و ستم اور بڑھ جائے گا اور بھارت میں مسلمانوں کی وفاداریاں مزید مشکوک ہو جائیں گی۔ شاید ان ہی وجوہات کی بنا پر ہم بھارتی مسلمانوں کو کسی بھی احتجاجی تحریک کا حصہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔

6۔ سفارتی و تجارتی

یہ وہ راستہ ہے جو عمران خان حکومت نے اپنایا ہے جس میں سفارتی تعلقات میں کمی اور تجارت بند کرنے کا فیصلہ ہے۔ ایسے اقدامات ہم پہلے بھی کئی دفعہ کر چکے ہیں مگر ان سے کچھ خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور کچھ عرصہ بعد ہی صورتحال واپس معمول پر آگئی۔ 

7۔ کشمیریوں کا ردعمل

یہ سب سے اہم راستہ ہے جس میں ہمارا کردار بہت کم ہے اور صرف یہی صورتحال میں کلیدی تبدیلی لاسکتا ہے۔ چند دنوں میں ظاہر ہو جائے گا کہ کشمیری عوام ان اقدام کےخلاف کس شدت سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور کس طرح اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر صورتحال سنگین ہوئی تو شاید بھارت اپنے قدم کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور ہو جائے اور بھارتی سپریم کورٹ کا سہارا لیتے ہوئے اس عمل کو کالعدم قرار دے دے۔ ہماری ساری کوششیں اس طرف مرکوز ہونی چاہیں کہ کشمیری ردعمل میں کشمیریوں کی مکمل امداد کی جائے اور ان کے ردعمل کو بین الاقوامی میڈیا میں مکمل کوریج کا انتظام کرایا جائے۔

ان سب اقدامات کے باوجود ہمیں اس مسئلہ کے دوسرے ممکنہ حل کے، جوکہ شاید ہمارے لیے پسندیدہ نہ ہو، بارے میں بھی سوچنا چاہیے تاکہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کی یہ برسات ختم ہو۔

 

----------

نوٹ: مندرجہ بالا تحریر منصف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ