مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کرناٹک میں شکست

کرناٹک جنوبی انڈیا کی وہ واحد ریاست تھی جہاں بی جے پی کی حکومت قائم ہے، جو اس شکست کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کھو دے گی۔

13 مئی، 2023 کی اس تصویر میں انڈین کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے (درمیان میں)، پارٹی کے ریاست کرناٹک کے سربراہ ڈی کے شیوکمار کے ساتھ (بائیں) ریاستی دارالحکومت بنگلورو میں جنوبی ریاست میں بی جے پی کے خلاف 10 مئی کو ہونے والے انتخابات جیتنے کے بعد(اے پی)

ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق انڈیا کی حزب اختلاف کانگریس پارٹی نے ریاستی انتخابات میں اہم جنوبی ریاست کرناٹک میں وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دے دی ہے۔

چھ کروڑ سے زیادہ کی آبادی والی ریاست کرناٹک جنوبی انڈیا کی واحد وفاقی اکائی تھی جہاں بی جے پی کی حکومت قائم تھی، جو اس شکست کے بعد وزیراعظم مودی کی جماعت نے کھو دی ہے۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ ابھی درجنوں نتائج آنا باقی ہیں لیکن کانگریس نے پہلے ہی 224 سیٹوں والی اسمبلی میں 114 پر کامیابی حاصل کر لی ہے جو کہ مجموعی اکثریت کے لیے کافی ہے۔

بی جے پی کے ریاستی لیڈر بی ایس یدی یورپا اور سابق وزیر اعلیٰ نے نتائج کے بعد شکست تسلیم کر لی ہے۔

انہوں نے ہفتے کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جیت اور شکست بی جے پی کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم پارٹی کی ہار کا خود جائزہ لیں گے۔ میں اس فیصلے کو احترام کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔‘

پارٹی نے ریاست میں ایک بڑی مہم چلائی تھی جس میں مودی اپنے ہندوتوا پر مشتمل برانڈ کو فروغ دینے کے لیے خود قیادت کر رہے تھے۔

اپنی ایک ریلی میں مودی نے مسلم مخالف نئی فلم ’کیرالہ سٹوری‘ کی تعریف کی جس میں ہندو خواتین کے اسلام قبول کرنے اور داعش گروپ میں شامل ہونے کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

مودی نے دیوتا ہنومان کا نعرہ لگا کر ہندو ووٹروں کو راغب کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

اس کے برعکس کانگریس نے سیکولرازم، غریبوں کو بجلی اور اناج دینے اور بی جے پی کی بدعنوانی کے خلاف سخت مہم چلائی۔

اس فتح کے بعد پارٹی رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا: ’نفرت کا بازار بند کر دیا گیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرناٹک کے نتائج کے اگلے سال کے عام انتخابات پر محدود اثرات ڈالیں گے جس میں بی جے پی کو مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرنے کی توقع ہے۔

سیاسی مبصر اور کتاب ’نریندر مودی: دی مین، دی ٹائمز‘ کے مصنف نیلنجن مکوپادھیائے نے کہا: ’ان انتخابات نے مودی کی مقبولیت کے پردے کو چاک کر دیا ہے۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ ووٹروں کو پولرائز کرنے کی بی جے پی کی کوششیں کسی نہ کسی طرح کامیاب نہیں ہوئیں اور یہ کہ ہندوتوا کی سیاست ہمیشہ کام نہیں آتی۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ جیت اپوزیشن پارٹیوں کے اثر کو بڑھا دے گی تاہم 2024 کے مجموعی نتائج کو متاثر نہیں کرے گی۔

کانگریس، انڈیا کے بانی گاندھی خاندان کی پارٹی ہے جس کا کئی دہائیوں سے ملکی سیاست پر غلبہ رہا ہے لیکن یہ حالیہ برسوں سے زوال کا شکار ہے تاہم کرناٹک میں جیت سے پارٹی کے اقتدار والی ریاستوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

بی جے پی کرناٹک میں 2018 میں ہونے والے آخری ریاستی انتخابات میں بھی اکثریت سے محروم تھی لیکن اس نے ایک سال بعد مبینہ طور پر حکمراں اتحاد کے ارکان کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا