یوکرین کا جوابی حملہ اور اسے درپیش چیلنج

یوکرین نے روس کے خلاف جوابی کارروائی میں اپنی بری فوج کی مدد کے لیے جرمنی سے مزید لیپرڈ ٹینک مہیا کرنے کی درخواست کی ہے۔

یوکرین کا روس کے خلاف جوابی حملہ جاری ہے لیکن ماہرین کے مطابق اسے پہلے ہی بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔

روس کا دفاع دنیا میں سب سے زیادہ وسیع مانا جاتا ہے اور اس کا فرنٹ لائن سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ امریکہ، جو یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، زیادہ تر پیسے اور بندوقیں دینے پر انحصار کرتا ہے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے کئی دیہات کو روسی قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کے آخر میں سٹورزیو، بلہوڈٹنے، نیسکوچنے اور مکاریوکا پر دوبارہ قبضہ کرنے کا اعلان ہونے کے بعد زاپوریزژیا کے علاقے میں ایک پانچواں گاؤں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

روس نے ابھی تک کسی پسپائی کی تصدیق نہیں کی ہے اور جوابی کارروائی کے اس ابتدائی مرحلے میں یوکرین کی کامیابیاں اب تک معمولی رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آگے چل کر کسی موقعے پر یوکرین ایک ایسے مقام پر پہنچنے جا رہا ہے جہاں اسے صرف روسی فوج پر محض حملے نہیں بلکہ ان کی لائنوں کو توڑنے کی کوشش کرنا پڑے گی۔ فارن پالیسی ادارے کے ماہر جیک ڈیٹش کہتے ہیں کہ اس کے باوجود روس کو اس سے بھی بدتر مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے اور لڑائی کا نتیجہ یا حل ہمیشہ کی طرح غیر یقینی رہ سکتا ہے۔

خندقیں

جنگ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے، جو زیادہ تر خندقوں میں لڑی جاتی ہے، روسی افواج فرنٹ لائن کے بیشتر حصوں میں یوکرینی فوج جوابی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ روس کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، فرنٹ لائن میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

جوابی کارروائی کے خوف سے روس نے ڈونباس اور کریمیا کے علاقوں میں ایک مضبوط دفاعی ڈھانچہ بنایا ہے۔ یہ خندقیں، جو روسی قبضے کے تحت علاقوں میں واقع ہیں، دونوں دفاعی پوزیشنوں کے طور پر کام کرتی ہیں اور یوکرین کے توپ خانے سے نشانہ بنائے بغیر فوجیوں اور زخمی فوجیوں کی نقل و حمل میں مدد کرتی ہیں۔

سیٹلائٹ تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس نے سیمینیوکا گاؤں کے مضافات میں میرینیوکا گاؤں کے باہر ایک کھیت تک 45 کلومیٹر لمبی خندقیں بنائی ہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ روس نے کرایمیا کے مغربی ساحل کے ساتھ 20 میل تک پھیلی خندقیں تعمیر کیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا مقصد یوکرین کی جانب سے کسی بھی سمندری حملے سے حفاظت کرنا تھا۔

خندقوں کے ساتھ ساتھ، روس نے ڈریگن کے دانتوں کے ڈھیر لگائے۔ ڈریگن کے دانتوں سے مراد پیرامیڈل اینٹی ٹینک بولارڈز، بارودی سرنگیں، پِل باکسز اور ٹینک ٹریپس ہیں جن کا مقصد یوکرین کی پیش قدمی کو سست کرنا ہے۔

یہ خندقیں، جو اصل میں عالمی جنگ میں استعمال ہوتی تھیں، اب بھی جدید جنگ میں موثر طریقے سے استعمال ہوتی ہیں۔

یوکرین نے روس کے خلاف جوابی کارروائی میں اپنی بری فوج کی مدد کے لیے جرمنی سے مزید لیپرڈ ٹینک مہیا کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس سے ایک روز قبل ہی ماسکو نے کہا ہے کہ اس نے متعدد محاذوں پر یوکرین کے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے اور اس کے کم سے کم ایک درجن ٹینک تباہ کر دیے ہیں۔

یوکرین کے نائب وزیر خارجہ اینڈری میلنیک نے کہا ہے کہ ان کی بری فوج کو مغرب سے مزید جنگی ٹینکوں، انفنٹری لڑاکا گاڑیوں اور دیگر بکتر بند گاڑیوں کی اشد ضرورت ہے۔

برلن میں یوکرین کے سابق سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے میلنیک نے اس بات پر زور دیا کہ جرمن مسلح افواج اپنے 300 سے زیادہ ٹینکوں میں سے مزید باآسانی اسے مہیا کر سکتی ہیں۔

جرمنی نے روس کے ساتھ تنازع میں یوکرین کی مدد کے لیے 18 لیپرڈ 2 جنگی ٹینک مارچ کے آخر میں مہیا کیے تھے۔ وزیرکا کہنا تھا کہ موجودہ تعداد کو جرمنی کی اپنے دفاع کی صلاحیت کو خطرے میں ڈالے بغیر تین گنا تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل جرمنی نے جنوری میں یہ ٹینک مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ انہیں مغربی ہتھیاروں میں سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

مئی کے آخر میں جرمنی نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کو ٹینک بھیجنے کے نتیجے میں اپنے ختم ہونے والے ذخیرے کو پورا کرنے کے لیے 18 لیپرڈ 2 ٹینک اور 12 خود کار ہووٹزر خرید کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یوکرینی وزیرنے فوج کو مزید 60 مارڈر انفنٹری لڑاکا گاڑیاں (آئی ایف وی) دینے کا مطالبہ کیا ہے اور جرمن مسلح افواج سے درخواست کی کہ وہ پوما بکتر بند گاڑیوں (350)، باکسر بکتر بند اہلکاروں کے کیریئر (400)، فوچ بکتر بند ٹرانسپورٹ گاڑیاں (900) یا "فینیک" بکتر بند جاسوس گاڑیاں (220) کے اسٹاک کا دس فی صد یوکرین منتقل کریں۔

برطانیہ کی مشترکہ افواج کی کمان کی قیادت کرنے والے ایک ریٹائرڈ جنرل سر رچرڈ بیرنز نے کہا کہ روسی فوج نے ’ٹیکسٹ بک‘ دفاعی خطوط تیار کیے ہیں اور خارکیف اور خرسن کے وسیع علاقوں سے عجلت میں پیچھے ہٹنے کے بعد اپنی حکمت عملی کو ایڈجسٹ کیا ہے۔

ماہرین نے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ جرمنی ٹورس کروز میزائل مہیا کرے اور یوکرین کی ایک طاقتور فضائیہ کی تعمیر میں مدد کرے۔

یوکرین اور روس کی افواج کے درمیان وسیع علاقوں پر پھیلے ہوئے متعدد محاذوں پر شدید جھڑپوں کے ایک روز بعد وزیر نے جرمنی سے بھاری ہتھیار مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے ہفتے کے روز اعتراف کیا تھا کہ یوکرین کی فوج 'جوابی اور دفاعی' کارروائیاں کر رہی ہے اور انھوں نے روس کے زیرقبضہ بہت سے دیہات کو واگزار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

نیٹو مشقیں

نیٹو نے یورپ میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ اس عسکری اتحاد نے منصوبہ بنایا ہے کہ گیارہ روز تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں نیٹو ممالک کے 250 طیارے حصہ لیں گے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ نیٹو اتنی بڑی مشق کر کے اپنے اتحادیوں کو سیاسی پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین کے ہر حصے کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔

1949 میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے قیام کے بعد سے یہ 23ویں (23ویں) فضائی دفاعی مشق ہے۔

اس فوجی مشق میں نیٹو کے 25 ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ طے ہے کہ صرف امریکہ ہی اپنے 100 طیارے بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر بھیجے گا۔

12 جون کو شروع ہونے والی یہ فوجی مشقیں اس ماہ کی 23 تاریخ تک جاری رہیں گی۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ شریک ممالک بحران کی تیاری کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان فوجی مشقوں کی تیاریاں پچھلے چار سال سے ہو رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہیں جب یوکرین اور روس کے درمیان ایک بھرپور جنگ جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا