پانچ اگست کا دن سری نگر کی خاتون نے کیسے گزارا؟

پانچ اگست کو انڈپینڈنٹ اردو کی کشمیر سے تعلق رکھنے والی کالم نگار نعیمہ احمد مہجور سری نگر میں تھیں جب انہیں لگا کہ مرکزی حکومت نے کشمیریوں پر حملہ کر دیا۔ کرفیو کے دوران ان پر اور خاندان والوں پر کیا بیتی؟ پڑھیے اس سلسلے کی پہلی کڑی میں۔

کشمیر کی ہواؤں کا رخ کسی طوفان کا پتہ دے رہا تھا۔ ہمیں اشارہ مل چکا تھا کہ بھارت کی حکومت جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ کرنے والی ہے۔

پانچ اگست 2019، سری نگر

آج کی صبح قدرے مختلف ہے۔ دھوپ میں تمازت ہے، پرندوں کی چہچہاہٹ مدھم پڑ گئی ہے۔ آسمان پر فوجی اور سول ہیلی کاپٹر ہر چند منٹ کے دوری سے بار بار گشت کرتے ہوئے ہمیں شاید ڈرا رہے ہیں۔ خاموشی کا عجیب عالم ہے۔ ہر شے سے خوف جھلک رہا ہے۔
کشمیر کی ہواؤں کا رخ کسی طوفان کا پتہ دے رہا تھا۔ ہمیں اشارہ مل چکا تھا کہ بھارت کی حکومت جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ کرنے والی ہے۔ قیاس آرائیوں نے پہلے ہی ہمیں ادھ موا کر رکھا تھا تاہم کچھ لوگ سمجھ رہے تھے کہ بھارت شاید کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا اعلان کرے گا، کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے گا اور کشمیری عزت سے جی پائیں گے۔ یہ کسے علم تھا کہ ہم سے ہماری شناخت، ہمارا آئین اور ہماری زمین تک چھین لی جائے گی اور پوری آبادی کو بندوق کے سائے میں قید کر دیا جائے گا۔

ہم پوری دنیا سے کٹ چکے ہیں۔ نہ فون چل رہے ہیں، نہ انٹرنیٹ ہے نہ لینڈ لائن، نہ ہی کیبل ٹی وی۔ اگر ہمارے پاس کچھ ہے تو گلی کوچوں میں درجنوں وردی پوش فوجی جن کی نظریں ہماری کھڑکیوں پر لگی ہیں اور انگلیاں بندوق کی لبلبی پر۔۔۔ ہم جب کھڑکیوں کے سامنے جاتے ہیں تو باہر پولیس گاڑیوں میں لاؤڈ سپیکروں سے آواز آتی ہے کہ ’کوئی باہر آنے کی کوشش نہ کرے، کرفیو توڑنے والوں کےخلاف سختی سے نپٹا جائے گا۔‘ اس قسم کے اعلانات ہر گلی، کوچے، محلے، شہر اور گاؤں میں ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہر مسجد کے امام اور مسجد کی انتظامیہ کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ کشمیر پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ میرے محلے کی تین مساجد سے آج اذان بھی نہیں سنی گئی اور آج ہم نے پرانے زمانے کی طرح پو پھٹتے ہی نماز ادا کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج میرے بچے کی سالگرہ ہے لیکن میں اسے فون نہیں کر سکی اور نہ وہ سب کہہ سکی جو ہم پر بزور طاقت مسلط کیا جا رہا ہے۔ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹی وی کے سامنے بےتابی سے ہندوستان کے وزیر داخلہ کے پارلیمان میں اہم اعلان سننے بیٹھ جاتی ہوں مگر دل میں طوفان برپا ہے۔ ایسا لگ رہا کہ میری زبان گنگ ہو چکی ہے۔

امت شاہ ایک سانس میں ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ باقی اراکین پارلیمان میز تھپ تھپا کر ان کو شاباشی دیتے ہیں۔ میری سانس اٹک جاتی ہے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی لگ جاتی ہے۔ میں حرکت نہیں کر پاتی، سن ہو جاتی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ ہمارے ہزاروں نوجوان، بزرگ، مین سٹریم آزادی پسند جیلوں میں پہلے ہی محبوس کر دیے گئے ہیں اور مزید جیلوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مگر جو جیلوں سے باہر ہیں وہ ایک بڑی کھلی جیل میں بندوقوں کے سائے میں قید کیے گئے ہیں۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے اور کیا کوئی ہماری حالت سے واقف بھی ہے؟

میں اضطراب میں ہوں، کسی سے بات کرنا چاہتی ہوں کچھ لکھنا چاہتی ہوں اور دنیا کو اپنی کیفیت سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں مگر میں گھر سے باہر نہیں جاسکتی، پڑوسیوں سے مل نہیں سکتی اور میرے گھر والے سکتے کی حالت میں ہیں۔

میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ کوئی بیمار نہ ہو، ہم ایمبولینس نہیں بلا سکتے، ہسپتال کا پتہ نہیں کہ مریض کس حال میں ہیں، ڈاکٹر پہنچ سکے ہیں یا نہیں۔ پڑوسی کھڑکی کا پٹ کھول کر سرگوشی میں کہہ رہی ہے کہ صورہ میں احتجاجیوں پر فائرنگ ہوئی ہے چھ زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

میں وسوسوں میں ڈوب جاتی ہوں اور پہلی بار نیند کی دوا کھا کر خود کو، درد کو، کشمیر کو اور دنیا کو بھول جانا چاہتی ہوں۔ مگر نیند پھر بھی نہیں آتی۔ دور اندھیرے سے فوجی گاڑیوں کے چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں یا کتوں کے بھونکنے کی۔ میری رات لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں معلوم ہونے لگا کہ یہ کہانی لمبی ہے، تاریک ہے، کرفیو کی پہلی اندھیری رات کی طرح۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی