جب ’ابھینندن‘ نے نسوار کھائی

نریندر مودی نے ونگ کمانڈر ابھینندن سے کہا تھا کہ لاہور میں ناشتہ کرنے والی بات صرف پاکستان کا دھیان ہٹانے کے لیے ہے اور انھیں دراصل پشاور جانا ہے۔

(سکرین گریب)

’ابھینندن، آپ نے صبح سویرے پرواز بھرنی ہے اور لاہور کی بجائے سیدھا قصہ خوانی میں اترنا ہے۔‘

یہ وہ احکامات ہیں جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ہواباز ابھینندن کو پاکستان جانے سے قبل جاری کرتے ہیں۔

مودی ان سے کہتے ہیں کہ لاہور میں ناشتہ کرنے والی بات صرف پاکستان کا دھیان ہٹانے کے لیے ہے اور انھیں دراصل پشاور جانا ہے۔

آپ کو یاد تو ہو گا ہی کہ چند ماہ قبل ابھینندن کو پاکستانی فوج نے اس وقت پکڑا تھا جب وہ پاکستانی طیاروں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے اور ان کے طیارے کو مار گرایا تھا۔

لیکن اس سب سے قبل ابھینندن اور نریندر مودی کے درمیان کیا بات ہوئی تھی یہ کسی کو نہیں معلوم۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ 27 فروری سے ایک روز قبل بھارتی پارلیمان میں ابھینندن کو بھی بلوایا گیا تھا اور نریندر مودی خاصے پریشان تھے اور کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے۔

اس دوران انھوں نے ابھینندن کا انتخاب کیا اور ان سے کہا کہ وہ سیدھا پشاور کے علاقے قصہ خوانی میں لینڈ کریں۔

نریندر مودی کو پریشان دیکھتے ہوئے ابھینندن بھی اتنا جذباتی ہو گئے کہ انھوں نے پارلیمان میں کہا کہ ’آپ مجھے جانے دیں، اگر جہاز میں نہ بھی جا سکا تو سوزوکی میں چلا جاؤں گا!‘

یہ جو کچھ آپ نے ابھی تک پڑھا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ابھینندن پر بنائے جانے والے ایک پشتو ڈرامے کی کہانی ہے۔

ڈرامے کا نام ہے ’ابھینندن پہ پیخور کے‘ یعنی ’ابھینندن پشاور میں۔‘

اس پشتو ڈرامے میں دو افراد کی کہانیاں دکھائی گئی ہیں، ایک تو خود ابھینندن ہیں جبکہ دوسرے پشاور کے علاقے بڈبیر کے ناظم ہیں۔

آغاز میں دکھایا جاتا ہے کہ ابھینندن پارلیمان میں موجود ہیں اور وہ یہ نریندر مودی کے آنے پر یہ گانا گاتے ہیں ’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، امڑی دے دل دا سہارا، تے مودی میرا گھوڑی چڑھیا۔‘

جبکہ دوسری جانب اس ناظم کے پاس ایک شخص آتا ہے جو ان سے شکایت کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات خراب ہیں اور ہمارے علاقے میں ٹی وی تک نہیں چل رہا۔ تو ناظم اس شخص سے کہتا ہے کہ ’فکر نہ کرو میں کوئی بڑا کام کروں گا۔‘

پھر کہانی آگے بڑھتی ہے اور ابھینندن پاکستان کی جانب پرواز کرتے ہیں اور ان کا طیارہ گرتا ہے اور اس طرح ان کی ملاقات اسی ناظم سے ہو جاتی ہے۔

ڈرامے کے مصنف اور ہدایت کار جنگریز خان اور اس میں ابھینندن کا کردار علی جمال نے ادا کیا ہے۔

چونکہ یہ مزاحیہ ڈراما ہے اسی لیے اس میں دکھایا گیا ہے کہ نریندر مودی ونگ کمانڈر ابھینندن سے کچھ چیزیں بھی لانے کا کہتے ہیں، جن میں پشاور کے مشہور پائے اور نسوار سر فہرست ہیں۔

اسی لیے اگر آپ تو یاد ہو تو پاکستان فوج کی جانب سے ابھینندن کی جو ویڈیو جاری کی گئی تھی اس میں انھیں چائے پیتے اور اس کی تعریف کرتے دکھایا گیا تھا لیکن یہاں ایسا نہیں بلکہ پہلے تو ابھینندن نسوار کھاتے ہی سب سچ بول دیتے ہیں اور پھر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے نسوار کی تعریف بھی کرتے ہیں۔

ونگ کمانڈر اس علاقے کے لیے ایک بڑی شخصیت ہوتے ہیں اس لیے ہر کوئی انھیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے لیکن ایک خواجہ سرا انھیں زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ان کے لیے رقص بھی پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم آخر میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ ونگ کمانڈر ابھینندن حقیقت میں اسی علاقہ کا ایک فرد ہوتا ہے جو یہ سب خواب میں دیکھ رہا تھا اور وہ ناظم اسی شخص کے والد ہوتے ہیں جو اس پر پانی ڈال کر ایک تھپڑ رسید کرتے ہیں جس سے وہ اس خواب سے بیدار ہو جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی