جب سنیل دت نے ہیرو بننے سے پہلے ماں سے کیا وعدہ نبھایا

ہدایت کار رمیش سہگل اداکاری کی پیش کش کے جواب میں نوجوان سنیل دت کے مطالبے سن کر حیران رہ گئے۔

سنیل دت نے اپنی پہلی فلم ریلوے پلیٹ فارم ہی سے سب کے دل موہ لیے (پبلک ڈومین)

ہدایت کار رمیش سہگل اس خوبرو اور پرکشش نوجوان کے مطالبے پر دم بخود رہ گئے۔

عام طور پر اداکاری کے شوقین نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی فلم میں اپنی کوئی بھی جھلک دکھا دیں، اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ لیکن اس 24 سال کے نوجوان سنیل دت کے ارادے کچھ اور تھے جبھی اس نے بلا کے اعتماد کے ساتھ رمیش سہگل کو کہا کہ اگر ہیرو کے کردار کی پیش کش کرو گے تبھی میں اداکاری کے لیے تیار ہوں۔

سنیل دت 50 کی دہائی میں ریڈیو سیلون سے وابستہ تھے اور ماہانہ 25 روپے کی تنخواہ کے عوض فلمی ستاروں کے انٹرویوز کرتے رہتے تھے۔ اسی دوران فلم ’شکست‘ کی عکس بندی کے دوران شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کا انٹرویو کرنے سٹوڈیو پہنچے۔

جہلم میں آنکھ کھولنے والے سنیل دت کی شائستہ لب و لہجے والی اردو نے دلیپ کمار کو خاصا متاثر کیا جنہوں نے ’شکست‘ کے ہدایت کار رمیش سہگل سے خاص طور پر سنیل دت کی ملاقات کرائی۔ ہدایت کار کو بھی لمبے تڑنگے سرخ و سفید سنیل دت میں خاصی کشش نظر آئی۔

دلیپ کمار نے رمیش سہگل کو یہ بھی بتایا تھا کہ چونکہ سنیل دت ریڈیو سے منسلک ہیں اسی لیے ان کو جملوں کی ادائیگی میں مہارت حاصل ہو گی، اسی طرح صوتی تاثرات کا بھی علم ہو گا جس کی وجہ سے فلم میں اپنے کردار کو اس کی تمام تر فنی جزئیات کے ساتھ پیش کر سکیں گے۔

پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیپ کمار کی جوہر شناس نگاہوں نے سنیل دت میں اداکاری کے گن دیکھ لیے تو  رمیش سہگل کو یقین تھا کہ اس میں تو کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔

رمیش سہگل کے فلموں میں کام کرنے کی پیش کش پر سنیل دت کے جواب نے جیسے ہدایت کار کو ہلا کر رکھ دیا۔ سنیل دت کہہ رہے تھے کہ  وہ صرف اور صرف ہیرو بننے کے خواہش مند ہیں لیکن پھر رمیش سہگل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ٹھیک ہے۔ چلیں ہیرو ہی کاسٹ کر لیں گے لیکن پہلے ذرا سکرین ٹیسٹ ہی دے دیں۔‘

اب بات آ کر ٹھہری اسکرین ٹیسٹ پر تو اسی وقت یہ کام پورا کرنے کی ٹھانی گئی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ سنیل دت کے پاس کوئی ہیرو والے ملبوسات تو تھے نہیں، ایسے میں دلیپ کمار نے ان کی مدد کی اور سٹوڈیو کی الماری سے اپنے کپڑے انہیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ سنیل دت اور دلیپ کمار کی جسامت اور قد قامت میں بھی واضح فرق تھا اسی لیے سنیل دت کی پتلون اور قمیض خاصی چھوٹی پڑ گئی۔ میک اپ کے مراحل طے ہوئے اور سنیل دت کو بتایا گیا کہ انہیں کمرے میں آ کر کون سا مکالمہ بولنا ہے۔

سنیل دت تیار ہو کر جب متعلقہ کمرے میں پہنچے تو سٹوڈیو لائٹس کی وجہ سے انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیمرا کہاں ہے اور انہیں کس طرف منہ کر کے مکالمہ بولنا ہے کیوں کہ ان کی تو آنکھیں تیز بتیوں میں چندھیا گئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سب ریڈیو میں کام کرنے والے سنیل دت کے لیے کچھ عجیب سا تھا تبھی انہوں نے جان چھڑانے کے لیے مکالمہ ادا کیا اور پھر دلیپ کمار کو کپڑے واپس کرنے کے بعد الٹے قدموں کالج ہوسٹل کی طرف بھاگے جہاں وہ بی اے کی تعلیم مکمل کر رہے تھے۔

اس واقعے کے دو سے تین ماہ کے بعد سنیل دت کم و بیش بھول ہی گئے تھے کہ انہوں نے کوئی سکرین ٹیسٹ بھی دیا تھا۔

ایک روز وہ کالج کینٹین میں یار دوستوں کے ساتھ بیٹھے گپے مار رہے تھے تبھی ایک ملاقاتی آ دھمکا۔ ہدایت کار رمیش سہگل کے اسسٹنٹ کے طور پر تعارف کرایا گیا۔

سنیل دت نے آنے کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ رمیش سہگل، سنیل دت کو یاد کر رہے ہیں۔

سنیل دت رمیش سہگل کے مقابل ہوئے تو انہوں نے شکوہ کیا کہ آپ اتنا عرصہ کہاں تھے، کوئی رابطہ کیوں نہیں کیا؟

سنیل دت کو بتایا گیا کہ ان کا سکرین ٹیسٹ بہت اچھا آیا ہے اور سب سے بڑی خوش خبری تو یہ تھی کہ ان کی دلی آرزو کو پورا کرتے ہوئے واقعی انہیں بطور ہیرو کاسٹ کیا جا رہا تھا۔

ادھرسنیل دت شش و پنج کا شکار تھے لیکن اسی دوران ان کا فلمی معاہدہ تیار کر کے ان کے دستخط بھی لے لیے گئے۔ ہاتھوں میں 300 روپے کا چیک بھی تھما دیا گیا، جسے ٹکٹی باندھ کر سنیل دت گھور رہے تھے۔

تبھی ان کے کانوں میں ہدایت کار رمیش سہگل کی آواز پڑی کہ چھوڑو اب اس پڑھائی کو، جتنا پڑھ لیا کافی ہے۔ آ جاؤ اداکاری کرنے۔‘ 

سنیل دت نے اٹکتے ہوئے لہجے میں اب جواب دیا کہ ’برا نہ مانیں سہگل صاحب۔ ایک درخواست ہے مجھے پہلے بی اے تو پاس کرنا ہے ہر صورت میں، پھر ہی اداکاری کروں گا، کیونکہ میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ میں پڑھنے جارہا ہوں اور بی اے پاس کرکے ہی آؤں گا۔‘

ایک بار پھر ہدایت کار رمیش سہگل خوشگوار حیرانی سے دو چار تھے جنہوں نے سنیل دت کے التجا بھرے چہرے کو دیکھا اور پھر پرجوش لہجے میں گویا ہوئے کہ ’کمال ہے یار، یہاں لوگ ہیرو بننے کے لیے ہر چیز کو چھوڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں، وہ ترستے ہیں ہیرو بننے کے لیے اور ایک تم ہو کہ والدہ سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے اتنی بڑی پیش کش چھوڑ رہے ہو۔‘

رمیش سہگل نے سنیل دت کی کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا، ’جا تیرے لیے یہ بھی صحیح۔ ماں کا وعدہ پورا کر لو، میں اس کے بعد ہی فلم بناؤں گا۔‘

سنیل دت کی جان میں جان آئی اور پھر جب انہوں نے بی اے پاس کر لیا تبھی انہوں نے 1955 میں ہدایت کار رمیش سہگل کی فلم ’ریلوے پلیٹ فارم‘ کے ذریعے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔

اس فلم میں سنیل دت کی اداکاری کا معیار اس قدر غیر معمولی رہا کہ انہیں دوسری فلم ’کندن‘ ہی اداکار اور ہدایت کار سہراب مودی کی ملی۔

سنیل دت کے حصے میں پھر بے شمار بہترین فلمیں آئیں، جن میں ’مدر انڈیا،‘ ’سجاتا،‘ ’گمراہ،‘ ’سایہ،‘ ’وقت،‘ ’خاندان،‘ ’ہمراز،‘ ’پڑوسن،‘ ’ریشماں اور شیرا‘ اور ’شان‘ نمایاں ہیں۔

سنیل دت اس اعتبار سے منفرد رہے کہ ان کے ایک نہیں دو دو مطالبے منظور کیے گئے۔ وہ اپنی شرائط پر فلموں کے ہیرو بنے۔ پدم شری سنیل دت کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی ان کے فلم کے ہیرو بننے کی طرح دلچسپ واقعات اور ہنگامہ خیزی سے بھری ہے۔ چاہے وہ نرگس سے شادی کا واقعہ ہو یا پھر بیٹے سنجے دت کی گرفتاری رہائی یا پھر سیاست میں حصہ لینا۔

سنیل دت عموماً کہا کرتے کہ اگر اس دن وہ دلیپ کمار کا انٹرویو نہ کرتے تو ممکن ہے کہ اداکار بھی نہ بن پاتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ