سُرخ دھرتی کی کہانی

سرحد کے اِدھر اور اُدھر، یہ دھرتی خون سے سرخ ہو چکی۔ دھرتیاں کب خون کی پیاسی ہوتی ہیں؟ یہ تو بس ان جنونیوں کی پیاس ہے، جو ہر وقت مارو اور مر جاؤ کے نعرے لگاتے ہیں۔

سرحد کے اِس پار اور سرحد کے اُس پار، فوجی بینڈ بج رہا ہے۔ پرچموں میں لپٹے دو تابوت ہیں، ایک سرحد کے اِدھر، ایک سرحد کے اُدھر (اے ایف پی)

آنکھیں آنکھوں کو تکتی تھیں، ماں اور بیٹے کی آنکھیں۔ یہ آخری ملاقات تھی، جوان بیٹے اور بوڑھی ماں کی آخری ملاقات۔

جنگ زوروں پر تھی اور احمد کو محاذ پر جانا تھا، کیپٹن احمد کو۔ ماں ہاتھوں کے لمس سے بیٹے کا چہرہ ٹٹولتی اور سہلاتی۔ دونوں کی آنکھوں میں نمی تیرتی تھی، دونوں میں مگر کمال کا ضبط تھا۔ آنکھوں کی نمی کو انہوں نے آنسو بن کر چھلکنے نہ دیا۔

فوجی رویا کرتے ہیں نہ ان کی مائیں، ہمیشہ یہی سنا اور سیکھا تھا انہوں نے۔ رخصت ہونے سے پہلے، دو چھوٹی بہنوں کو، دونوں بازوؤں میں تھام کر، احمد نے سینے سے لگا رکھا تھا۔ عجیب لحمہ تھا، کوئی کیا بولتا، کیا سنتا، لفظ بہت چھوٹے تھے، جذبات بہت بڑے۔  دلوں میں دُعاؤں کے سمندر تھے اور وسوسوں کے طوفان بھی۔ احمد کو مگر جانا تھا، دھرتی ماں کی پکار پر۔

رات کا آخری پہر تھا اور موبائل پر آخری پیغام، احمد کی منگیتر تانیہ کا پیغام۔ تین ماہ بعد ان کی شادی تھی۔ ’واپس کب لوٹو گئے؟‘ تانیہ نے پوچھا تھا۔ بار بار احمد یہ سوال پڑھتا مگر جواب؟

ایسے سوالوں کا جواب بھی کبھی فوجیوں کے پاس ہوا کرتا ہے؟ کچھ دیر سوچوں میں گم رہنے کے بعد احمد نے خود کو سنبھالا، پھر اس کی انگلیاں موبائل پر چلنے لگیں، جواب لکھنے کے لیے۔ ’بہت جلد‘، احمد نے لکھا۔ ’غازی بن کر یا شہید کے تابوت میں‘ یہ بھی احمد نے لکھا لیکن پھر مٹا دیا، شاید وہ تانیہ کو رلانا نہیں چاہتا تھا۔ پھردونوں طرف موبائل خاموش ہو گئے۔

کیپٹن احمد کا قافلہ محاذ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وائرلیس بار بار بجتا تھا۔ جب جب بھارتی فوج کی گولا باری کی خبر ملتی، احمد کا خون کھولنے لگتا۔ وہ جلد سے جلد محاذ پر پہنچنا چاہتا تھا۔

سرحد کے اس پار بھی ایک منظر تھا۔ کہنے کو بہت الگ، لیکن بالکل ایک جیسا۔ تین سالہ پریوں جیسی پری نیتی، اپنے پاپا کی انگلی تھامے ہوئے تھی۔ کیپٹن وجے کا بلاوا آیا تھا، محاذ سے۔

گہرا سکوت تھا اور خلا میں گھورتی پری نیتی کی آنکھیں۔ ننھا سا ذہن اور بڑے بڑے سوالات۔ اتنی رات کو، پاپا اس وقت آفس کیوں؟ ماما کی آنکھوں میں بہتا آنسوؤں کا دریا کیوں؟ وہ دریا جسے وہ بہادر فوجیوں کی بہادر بیویوں کی طرح پلکوں کے پیچھے روکے کھڑی تھی۔ سوال بہت تھے لیکن انہیں الفاظ میں ڈھالنے کے لیے زبان نہیں۔

ابھی تین سال ہی کی تھی پری نیتی۔ وجے کے جانے کا وقت قریب تھا۔ پری نیتی کو اس نے جی بھر کے پیار کیا اور پری نیتی نے اپنے پاپا کو۔ ’واپس کب آو گئے؟‘ یہ وجے کی بیوی رادھا کا سوال تھا۔

وہ سوال جس کا جواب محاذ پر جانے والے کسی فوجی کے پاس نہیں ہوتا۔ وجے کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا۔ رادھا کو آخری بار گلے لگانے کے سوا۔ وجے رخصت ہو رہا تھا، پری نیتی نے مگر اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اپنے طور پر پورے زور سے۔ جیسے وہ اسے روکنا چاہتی تھی، اپنی چاہت کا واسطہ دے کر۔ وجے کو مگر جانا تھا اور پھر ہاتھ سے ہاتھ چھوٹ گیا، باپ اور بیٹی کا ہاتھ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوجی گاڑیاں خاموش راستوں سے گزرتی محاذ کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ وائرلیس پر پاکستان کی شیلنگ کا پیغام بجتا تو وجے بےچین ہو جاتا۔ اسے محاذ پر پہنچنے کی بہت جلدی تھی۔

میدان جنگ سج چکا تھا اوردونوں جانب موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے شیر جوان فوجی۔ سرحد کے اس طرف کیپٹن احمد اورسرحد کے اس طرف کیپٹن وجے اپنے اپنے مورچوں میں پہنچ چکے تھے۔

احمد کو مشن سونپا جا چکا تھا، انتہائی پُرخطر مشن۔ اسے بھارت کی ایک چوکی خالی کروانا تھی جہاں سے مسلسل فائر ہو رہا تھا۔ شام ڈھلنے سے ذرا پہلے، کیپٹن دشمن پر شاہینوں کی طرح جھپٹا۔ وہ اپنے جی دار سپاہیوں کے ہمراہ ایسا لڑا کہ دشمن بھی عش عش کر اٹھا۔ دشمن کی چوکی اب راکھ کا ڈھیر تھی۔ مشن مکمل ہو چکا تھا اور کیپٹن کو اب واپس لوٹنا تھا۔

ہر طرف سناٹا تھا کہ اچانک ایک مشین گن سے گولیاں برسیں اوراس کےسینے سے پار ہو گئیں۔ کیپٹن کھڑا رہا، بس اتنے ہی لمحے، جتنے لمحے وہ کھڑا رہ سکتا تھا۔ پھر اعصاب جواب دے گئے اور جسم بھی۔ آنکھوں میں مگر ابھی کچھ زندگی باقی تھی۔ بس آخری سانس نکلنے سے ذرا پہلے، لمحے بھر میں کئی منظر کیپٹن کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔

بچپن کا وہ منظر، جب اس کی ماں اسے پیار بھری ڈانٹ سے زبردستی کھانا کھلاتی، پھر اسے سجاتی سنوارتی، پھر اس کے گال چوم کر اسے سکول بھیجتی۔ پھر منظر پر کچھ اور تصویریں ابھرتی ہیں۔ اس کے لڑکپن کا منظر، جب وہ باہر کھیلنے جاتا توماں کہتی، ’دیر مت کرنا‘، وہ ہمیشہ دیر کر دیتا مگر لوٹ آتا۔

بوڑھی ماں کی آنکھیں اب بھی اس کی واپسی کی راہ تکتی ہوں گی، اس بار مگر وہ بہت دور جا رہا تھا۔ پھر منظر پر تانیہ کا چہرہ ابھرتا ہے، وہی تانیہ جس کے ہاتھ میں کپیٹن کے نام کی انگوٹھی تھی، جس کے ساتھ بہت جلد واپس لوٹنے کا وعدہ تھا۔ پھر سب منظر دھندلا گئے اور کیپٹن کی آنکھوں کے پردے گر گئے۔ بس اب اندھیرا تھا، گہرا سیاہ اندھیرا۔

سرحد کے اس  پار کیپٹن وجے اپنے مورچے سے مشن کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ اسے دوچوکیوں کے لیے پاکستان کی رسد کاٹنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس مشن پر جانا مشکل اور واپس آنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گا۔

وجے یہ جانتا تھا۔ وہ بل کھاتے کچے راستے پر دشمن کی گاڑیاں رینگتے دیکھ سکتا تھا۔ چوکیوں کی طرف پہلی ڈھلوان پر پہنچتے ہی کیپٹن وجے اور اس کے سپاہی بجلی کی طرح گاڑیوں کے اطراف لپکے اور فائر کھول دیا۔

چند منٹ میں ہی ایک کے بعد ایک گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں تھی، مشن ختم ہو چکا تھا۔ وجے کواب واپس لوٹنا تھا کہ اچانک ایک شیل فائر ہوا اور اس کا سینہ چھلنی کر گیا۔ وہ گرا اور دھرتی نے اسے سینے سے لگا لیا۔

جان نکلنے سے ذرا پہلے، کیپٹن کی آنکھوں میں کچھ منظر ابھرنے لگے۔ اپنی ننھی پری، پری نیتی کے ساتھ کھیلنے اور کھلانے کے منظر، کبھی تکیے کے پیچھے اور کبھی بیڈ کے نیچے چھپنے اور چھپانے کے منظر، اس کے ساتھ جھوٹ موٹ روٹھنے اور منانے کے منظر اور پھر بیٹی کے ہاتھ سے ہاتھ چھوٹنے کا آخری منظر۔

پھر منظر پر رادھا کی تصویر گھومنے لگتی ہے، جس کے ساتھ عمر بھر ہم سفر رہنے کا وعدہ تھا۔ جس نے کہا تھا ’جلد لوٹ آنا، میرے لیے، پری نیتی کے لیے اور ہم سب کے لیے۔‘ پھر کیپٹن کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ سب منظر، سب تصویریں، کہیں گہرے اندھیرے میں کھو جاتی ہیں۔

دو روز گزر چکے، سرحد کے اس پار اور سرحد کے اس پار، فوجی بینڈ بج رہا ہے۔ پرچموں میں لپٹے دو تابوت ہیں۔ ایک سرحد کے اِدھر، ایک سرحد کے اُدھر۔ دونوں طرف، اپنے اپنے فوجی اور قومی اعزاز کے ساتھ۔ سرحد کے اِدھربوڑھی ماں کی پتھرائی آنکھیں ہیں اور تانیہ کے بکھرے سپنے۔

سرحد کے اس پار پاپا کو ڈھونڈتی پری نیتی کی سوالیہ نگاہیں ہیں اور رادھا کے لیے سفر شروع ہوتے ہی ہم سفر کے بچھڑنے کا روگ۔

چند دنوں کے لیے ٹھہرا وقت ایک بار پھر پوری رفتار سے دوڑنے لگا۔ پہلے ایک دو سال، دونوں کو قومی فخر سے یاد کیا جاتا رہا۔ پھر بس سال کے سال ایک بار، صرف ان کے یوم شہادت پر۔ پھر یہ رونقیں بھی مدہم ہوتے ہوتے مٹنے لگیں۔

زمانہ اور زمانے والے آگے بڑھ گئے لیکن کچھ لوگوں کی زندگیاں وہیں کھڑی رہیں۔ وہ لوگ جن کی زندگیاں، احمد اور وجے کی زندگیوں سے جڑی تھیں۔ بیس برس گزر چکے، ان کے آنسو اب بھی گر رہے ہیں۔ سرحد کے اِدھر بھی اور اُدھر بھی۔

سرحد کے اِدھر اور اُدھر، یہ سبز اور گندمی دھرتی، خون سے سرخ ہو چکی۔ اب اور کتنا لہو؟ دھرتیاں کب خون کی پیاسی ہوتی ہیں؟ یہ تو بس ان جنونیوں کی پیاس  ہے، جو ہر وقت مارو اور مر جاؤ کے نعرے لگاتے ہیں۔ اس سرخ کہانی کو ختم کرنے والے کب آئیں گے؟ امن کے سفید جھنڈے لے کر، ادھر سے بھی، ادھر سے بھی؟ یہ اس دھرتی کا سوال ہے، لہو رنگ دھرتی کا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب