کروڑوں میل دور سیارچے کے ٹکڑوں کی نمائش

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ سیاہ اور گرد آلود نمونے ساڑھے چار ارب سال پرانے سیارچے سے لائے گئے ہیں اور ان میں ’زندگی کی بنیادی اکائی‘ بھی ہو سکتی ہے۔

24 ستمبر کو سیارچے بینو سے جمع کیے گئے 250 گرام چٹانوں اور مٹی پر مشتمل کیپسول سالٹ لیک سٹی کے قریب یوٹاہ صحرا میں گرا تھا(ناسا/ ایریکا بلومن فیلڈ جوزف ایبرسولڈ)

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک دور دراز سیارچے کے زمین پر لائے گئے ٹکڑوں کی نمائش کی ہے۔

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سیاہ اور گرد آلود نمونے ساڑھے چار ارب سال پرانے سیارچے سے لائے گئے ہیں اور ان میں ’زندگی کی بنیادی اکائی‘ بھی ہو سکتی ہے۔

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ پہلے سیارچے بینو سے حاصل ہونے والے مواد میں کاربن کی مقدار اور پانی مل چکا ہے، لیکن اسے پوری طرح سے جاننے کے نقطہ نظر سے تقسیم کیا جائے گا کہ ہمارے نظام شمسی کی تاریخ سے لے کر زندگی کیسے وجود میں آئی۔

سائنس دانوں اور خلائی ایجنسی کے رہنماؤں نے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے جانسن سپیس سینٹر میں گذشتہ ماہ زمین پر لائے گئے سیارچے کے مواد کی تصاویر اور ویڈیو ایک لائیو سٹریم تقریب میں دکھائیں۔

اس نمائش سے قبل 24 ستمبر کو سیارچے بینو سے جمع کیے گئے 250 گرام چٹانوں اور مٹی پر مشتمل کیپسول سالٹ لیک سٹی کے قریب یوٹاہ صحرا میں گرا تھا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا کاربن سے بھرپور سیارچے کا نمونہ ہے جو زمین پر لایا گیا اور اب اس کے مواد کو ’سائنسی خزانہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کا کہنا ہے، ’اس نمونے سے سائنس دانوں کو آنے والی نسلوں کے لیے ہمارے سیارے پر زندگی کی ابتدا کی تحقیقات کرنے میں مدد ملے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’ناسا میں ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم کون اور ہم کہاں سے آئے ہیں۔

’اوسیرس ریکس جیسے ناسا کے مشن ان سیارچوں کے آگے کی جھلک دکھاتے ہوئے ہمارے علم کو بہتر بنائیں گے جو زمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا، ’نمونے زمین پر پہنچ گئے ہیں، لیکن اب بھی بہت سی سائنس باقی ہے، ایسی سائنس جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

تقریباً چھ کروڑ میل دور سیارچہ بینو ہمارے ابتدائی نظام شمسی کی ساڑھے چار ارب سال پرانی باقیات ہے اور سائنس  دانوں کا خیال ہے کہ اس سے سیاروں کی تشکیل اور ارتقا پر روشنی ڈالنے میں مدد ملے سکتی ہے۔

خلائی جہاز آٹھ ستمبر 2016 کو لانچ کیا گیا تھا اور دسمبر 2018 میں بینو پر پہنچا۔ اس نے نمونوں کو ایک کیپسول میں بند کر کے پچھلے مہینے پہنچایا تھا۔

اس مشن کے سربراہ سائنس دان یونیورسٹی آف ایریزونا کے پروفیسر دانتے لوریٹا کا کہنا ہے، ’ یہ پہلے ہی سائنسی خزانہ ہے۔‘

ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا: ’سیارچے بینو کی مٹی اور پتھروں میں محفوظ قدیم رازوں میں جھانکتے ہوئے، ہم ایک ٹائم کیپسول کھول رہے ہیں جس سے ہمیں ہمارے نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں گہری معلومات ملیں گی۔

’کاربن سے بھرپور مواد کی اور پانی والی مٹی کی معدنیات کی وافر موجودگی کائناتی برفانی تودے کی صرف نوک ہے۔

’دریافتیں، جو برسوں کے وقف تعاون اور جدید سائنس کے ذریعے ممکن ہوئی ہیں، ہمیں نہ صرف اپنے آسمانی ہمسائے بلکہ زندگی کے آغاز کے امکانات کو سمجھنے کے سفر پر لے جاتی ہیں۔ بینو کے ہر انکشاف سے، ہم اپنے کائناتی ورثے کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے قریب ہو جاتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناسا کے مشن کا مقصد سیارچے کے 60 گرام نمونے جمع کرنا تھا۔

لیکن جب کنستر کا ڈھکن کھولا گیا تو ناسا کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو ’بونس مواد‘ ملا جس نے کلکٹر کے سر، کنستر کے ڈھکن اور بیس کے بیرونی حصوں ڈھانپ رکھا تھا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اس میں اتنا اضافی مواد موجود تھا جس سے ابتدائی نمونے جمع کرنے اور رکھنے کا عمل سست پڑ گیا۔

سائنس دانوں کو یقین نہیں کہ وہ بینو کا کتنا حصہ واپس لائے ہیں کیونکہ مرکزی نمونوں والا چیمبر ابھی تک نہیں کھولا گیا۔

لوریٹا کا کہنا تھا، ’یہ کام سست روی اور محتاط انداز میں چل رہا ہے لیکن سائنس پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا، ’ماورائے عرض مواد کا ایک پورا خزانہ‘ موجود ہے جس کی جانچ ابھی باقی ہے۔

بدھ کی پریس کانفرنس کے دوران اوسیرس ریکس نمونے کے تجزیہ کار ڈینیئل گلیون نے مزید کہا: ’یہ چیزیں ایک ایسٹرو بائیولوجسٹ کا خواب ہیں، میں اس تک پہنچنے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ہم نظام شمسی کی ابتدا، ارتقا اور ممکنہ طور پر زمین پر زندگی کے آغاز کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے جا رہے ہیں۔‘

اضافی رپورٹنگ: ایجنسیاں

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق