ہماری کائنات میں ’کچھ عجیب‘ ہو رہا ہے: ناسا

ناسا نے اعلان کیا کہ ہبل سپیس ٹیلی سکوپ نے اب تک 40 سے زیادہ ’مائل پوسٹ مارکرز‘ کا تعین کیا ہے جن کی مدد سے سائنسدان درست طریقے سے کائنات کے پھیلاؤ کی شرح معلوم کر سکیں گے۔

27 مئی 2021 کو یورپی خلائی ایجنسی کی جاری کردہ ہبل ٹیلی سکوپ سے کھینچی گئی اس تصویر میں 12 کروڑ نوری سال دور موجود ایک گلیکسی کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل خلائی دوربین اپنے کام میں ایک نئے سنگ میل پر پہنچ گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے- اور یہ اس خیال کی تائید کرتی ہے کہ ہماری کائنات میں کچھ عجیب وغریب ہو رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں ماہرین فلکیات نے یہ سمجھنے کے لیے ہبل جیسی دوربینوں کا استعمال کیا ہے کہ ہماری کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

لیکن جیسے جیسے یہ اقدامات مزید درست ہوتے جا رہے ہیں انہوں نے کچھ عجیب بھی دکھایا ہے۔ اگر بگ بینگ کے فوری بعد کے مشاہدات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمارے ارد گرد موجود کائنات کی توسیع کی شرح میں ایک کلیدی فرق ہے۔

سائنسدان اس تضاد کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری کائنات میں ’کچھ عجیب‘ ہو رہا ہے، جو نامعلوم نئی فزکس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

گذشتہ 30 سالوں سے ہبل دوربین خلا اور وقت میں’ مائلپوسٹ مارکرز‘ کائنات کی توسیع کی شرح کو درست طریقے سے ماپنے والے نشانات کے ایک سیٹ پر معلومات اکٹھی کر رہی ہے ایسا اس دوران کیا جا رہا ہے جب وہ ہم سے دور جاتے ہیں۔ ان معلومات کو کائنات کی توسیع کی شرح معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ناسا نے اعلان کیا کہ ہبل سپیس ٹیلی سکوپ نے اب تک 40 سے زیادہ ’مائل پوسٹ مارکرز‘ کا تعین کیا ہے جن کی مدد سے سائنسدان درست طریقے سے کائنات کے پھیلاؤ کی شرح معلوم کر سکیں گے۔

سپیس ٹیلی سکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ (ایس ٹی ایس سی آئی) اور بالٹیمور، میری لینڈ میں جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے نوبل انعام یافتہ ایڈم ریز نے ایک بیان میں کہا کہ: ’دوربینوں اور کائناتی میل مارکر سے آپ کائنات کی توسیع کی شرح کا سب سے درست پیمانہ حاصل کر رہے ہیں۔‘

خلائی دوربینوں کے بارے میں مزید پڑھیے: جیمز ویب دوربین 15 لاکھ کلومیٹر کے سفر کے بعد اپنی خلائی منزل کو پہنچ گئی

وہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے سربراہ ہیں جنہوں نے ایک نیا مقالہ شائع کیا ہے جس میں سب سے اہم اور شاید ہبل خلائی دوربین سے آخری بڑی اپ ڈیٹ شامل ہے، جس میں مائل مارکرز کے پچھلے سیٹ کو دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ڈیٹا کا بھی دوبارہ تجزیہ کیا گیا ہے۔

کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کے درست پیمانے کی تلاش اس وقت شروع ہوئی جب امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے کہا تھا کہ ہماری کہکشاں سے باہر کہکشائیں ہم سے دور ہوتی نظر آرہی ہیں۔ تب سے سائنسدان اس پھیلاؤ کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(اس ماہر فلکیات کے کام کے اعزاز میں توسیع کی شرح اور خلائی دوربین جو اس پر تحقیق کر رہی ہے، دونوں کا نام ہبل رکھا گیا ہے۔)

تاہم جب خلائی دوربین نے کائنات کی توسیع کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں تو یہ ماڈلز کی پیش گوئی سے زیادہ تیز ثابت ہوئی۔ ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی کہ یہ پھیلاؤ لگ بھگ تقریبا 67.5 کلومیٹر فی سیکنڈ فی میگاپرسیک ہونا چاہیے، لیکن مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ 73 کلومیٹر فی سیکنڈ فی میگاپرسیک کے لگ بھگ ہے۔

ماہرین فلکیات کی جانب سے اس کو غلط سمجھنے کا امکان دس لاکھ میں سے صرف ایک بار ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات کا ارتقا اور توسیع ہماری سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اور بھی بہت کچھ باقی ہے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ نئی خلائی دوربین جیمز ویب کی مدد سے اس پیچیدگی کی مزید گہرائی میں جائیں گے۔ اس دوربین کو حال ہی میں خلا میں بھیجا گیا ہے اور یہ جلد ہی اپنے ابتدائی مشاہدات واپس بھیجے گی۔ اس کی مدد سے سائنسدان خلا اور وقت میں مزید فاصلے پر موجود مائل پوسٹوں کو واضح طور پر دیکھ سکیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس