موٹیویشنل سپیکرز اور ہماری نوجوان نسل

کھمبیوں کی طرح موٹیویشنل سپیکرز کی پیدائش نے اصل اور نقل کے فرق کو مٹا کر صرف باتیں بگھار نے کا فن رکھنے والوں کو مشہور کر دیا۔

ہمارے رول ماڈل اور ہیرو اب موٹیویشنل سپیکر بن گئے ہیں (فائل فوٹو/اینواتو)

یوں تو نصیحت کرنا ہم سب کو ہی اچھا لگتا ہے لیکن نصیحت سننا خاصا مشکل کام ہے۔ اور یہ مشکل کام اور بھی ادق تب ہونے لگتا ہے جب اس پر عمل کرنے کے لیے نہ صرف کہا جائے بلکہ باقاعدہ زور زبردستی کے ذریعے بات منوانے کی کوشش کی جائے۔

سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ جب ہم یہ بھی جانتے ہوں کہ نصیحت کرنے والے نے کبھی خود وہ اچھا عمل کبھی کیا ہی نہیں۔ ایسے میں اس تاکید یا تلقین کی حیثیت اور بھی مشکوک ہو کر رہ جاتی ہے۔

لہٰذا عقل مند آدمی بہت کم کسی کو مشورہ یا نصیحت کرنے کا تردد کرتا ہے اور اگر ایسی کوئی ذمہ داری کبھی اس کے کندھوں پر لاد دی جائے تو وہ احسن طریقے سے اس سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

البتہ کسی کی زندگی اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو او ر آپ کو وہ شخص کامیاب بھی لگتا ہو تو لامحالہ آپ اسے رول ماڈل سمجھ کر اس کی تقلید کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے ماضی میں گزری بڑی شخصیات کی آپ بیتیاں میرے جیسے طالب علموں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ بنی رہیں۔

لیکن اس دور میں ہم سب کے پاس انفارمیشن کے مختلف ذرائع موجود ہیں جن میں موبائل اور انٹرنیٹ سے جڑی تمام ایپس اور ان کا بےتحاشا استعمال بھی ہوتا ہے تو ایسے میں کسی دوسرے تک اپنی بات پہنچانے کا واحد ذریعہ یہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر تصویر اور ویڈیوز سب سے زیادہ کارآمد ذرائع مانے جا رہے ہیں، کیوں کہ لکھی ہوئی بات کوئی پڑھ سکتا ہے کوئی نہیں بھی پڑھ پاتا مگر تصویر، ویڈیو اور آواز پر چھ ماہ کا بچہ بھی ردعمل دیتا ہے۔

اور ان پڑھ آدمی بھی ریلز، ٹک ٹاک، یو ٹیوب کی ویڈیوز اور وٹس ایپ پر موصول ہونے والی ٹک ٹاکرز کی ویڈیو سمیت تمام بصری اور صوتی مواد تک رسائی رکھتا ہے۔

ایسے میں نصیحت کرنے والوں نے اپنے آپ کو موٹیویشنل سپیکرز کے طور پر متعارف کروایا۔

شروع میں شاید وہ لوگ ہی موٹیویشنل سپیکر کہلائے ہوں گے جنہوں نے درحقیقت زندگی میں بہت محنت کی ہو گی اور کسی مقام تک پہنچے۔ لیکن ان کی دیکھا دیکھی کھمبیوں کی طرح موٹیویشنل سپیکرز کی پیدائش نے اصل اور نقل کے فرق کو مٹا کر صرف باتیں بگھار نے کا فن رکھنے والوں کو مشہور کر دیا۔

یہ باتوں کے دھنی ایک طرف کارپوریٹ ٹرینر کے طور پر سامنے آئے تو دوسری طرف اپنی عوامی ذہن کے مطابق باتیں کرلینے کی وجہ سے رول ماڈل بننے لگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب ہوا یہ کہ سکول کالجوں کے طالب علموں میں سے اکثر جب ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے اپنا نام کسی سرگرمی میں شامل کروانے آتے ہیں تو اندازہ ہوا کہ ہمیں ایک سرگرمی اور بھی ایڈ کرنی پڑے گی اور وہ ہے موٹیویشنل سپیکر کی۔ کیونکہ اکثر بچے اپنے آپ کو پیدائشی طور پر موٹیویشنل سپیکر سمجھتے ہیں، یہ جانے سمجھے بغیر کے یہ منصب عمل کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔

آپ ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور عملی زندگی میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ابھی نہ جانے کتنے پاپڑ بیلنے کو باقی ہیں اور آپ ابھی سے خود کچھ بننے کی کوشش کرنے کی بجائے دوسروں کو نصیحتیں اور تربیت کرنے کی طرف آئیں گے تو وقتی طور آپ کا چینل تو شاید آپ کو کسی قسم کی آمدنی دینے لگے اور آپ مشہور بھی ہو جائیں لیکن یہ کوئی مستقل اور پائیدار کام نہیں ہو سکتا۔

اس لیے اگر کچھ کرنا ہے تو اپنے آپ کو کسی کاروبار یا ایسی ملازمت کے قابل بنائیں جس میں ترقی کے مواقع ہوں اور آپ ایک خوش حال زندگی گزار سکیں۔

کسی سے کچھ سیکھنا ہے تو شارٹ کٹ راستے اپنانے کا فن مت سیکھیں۔ کامیاب لوگوں کی زندگی کے بارے میں جانیں کہ کس قدر محنت اور لگن کسی بھی مقام تک پہنچنے کے لیے درکار ہو سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں میں ایک اور رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر طالب علم کمپیوٹر سائنس سے متعلق مضمون میں بی ایس کرنا چاہتا ہے خواہ ایف ایس سی یا آئی سی ایس میں وہ اچھے نمبر نہ حاصل کر پایا ہو۔

بھلے اس کا رجحان آئی ٹی یا کمپیوٹر سائنس کی طرف نہ ہو لیکن دوسروں کو دیکھ کر سب اس دوڑ کا حصہ بن رہے ہیں، نتیجتاً پہلے یا دوسرے سمیسٹر میں ہی ڈراپ ہو جاتے ہیں۔

اب ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں کریئر کونسلنگ نامی چڑیا کو کوئی وجود ہی نہیں ہے جبکہ ہر دوسرا موٹیویشنل سپیکر آئی ٹی اور اے آئی کی طرف جانے کی تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔ ان کے انداز بیاں سے متاثر ہو کر ہر طالب علم اور اس کے والدین کو یہ بات بھی اساتذہ نہیں سمجھا سکتے کہ آپ کا بچہ آپ کی خواہش کے مطابق مضمون میں نہیں چل پائے گا۔

لہٰذا غلط مضمون کا چناؤ ان کے مستقبل پر ناکامی کا داغ چھوڑ جاتا ہے اور بہت سے بچے دلبرداشتہ ہو کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، اور والدین کو بھی لگتا ہے کہ شاید ان کے بچے میں کسی بھی طرح کی قابلیت نہیں ہے۔

یہ بات کہتے ہوئے میں آپ کو عجیب لگوں گی کہ اگر کوئی طالب علم سائنس اور آئی ٹی جیسے مضامین میں خود کو فٹ محسوس نہیں کرتا تو آرٹس اور سوشل سائنسز کے مضامین میں بھی کوئی برائی نہیں۔

آپ اگر اپنی دلچسپی کے مضامین میں محنت کریں گے تو اردو، انگلش، پنجابی، فارسی، عربی، ماس کمیونیکیشن، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی، جینڈر سٹڈیز، اینتھرو پالوجی اور بہت سے ایسے مضامین جو فنون لطیفہ سے متعلق ہیں ان میں بھی روشن مستقبل کا چانس اتنا ہی ہے جس قدر آپ کو اول الذکر مضامین میں دکھائی دیتا ہے۔

موٹیویشنل سپیکرز اگر ملک و قوم کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کی معلومات بھی عام لوگوں تک پہنچائیں۔

امیر ہونے کے پانچ طریقے، مشہور ہونے کے سات راستے، کامیاب ہونے کے تین گر اور اسی طرح کے دوسرے شارٹ کٹس کی بجائے اگر سچی اور کھری بات مختصر الفاظ میں بیان کریں تو بھی ان کی شہرت اور کمائی میں فرق نہیں پڑنے والا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ